امریکہ میں ڈیموکریٹس نے کانگرس کا کنٹرول حاصل کرلیا
امریکہ میں ڈیموکریٹس نے منگل کو کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ کامیابی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ملک گیر سطح پر عوامی ردعمل کا واضح اظہار ہے۔
ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے نتیجے میں اپوزیشن کو قانون سازی روکنے، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کرنے اور عدالتی و اعلیٰ حکومتی عہدوں پر ان کی نامزدگیوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اب تک ڈیموکریٹس کو 54 جبکہ ریپبلکنز کو 44 نشستوں پر کامیابی حاصل ہے۔ انتخابی نتائج مہنگائی اور روزمرہ اخراجات، ٹیرف پالیسی اور ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ پر عوامی غصے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے پہلے ہی شدید غیر مقبول صدر کے خلاف عوامی ناراضی مزید بڑھ گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی منگل کو تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست میں کردار ادا کیا۔ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی مہم کو متاثر کیا، اگرچہ ووٹرز نے اس معاملے پر ان کی حکمت عملی کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس کی ایک وجہ ایران بھی تھا لیکن ساتھ ہی لوگوں نے ایران کے معاملے پر میرے اقدامات کی اہمیت کو بھی سمجھا‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس ایسے بل ان کی منظوری کے لیے بھیجیں گے جنہیں وہ ’انتہائی غیر معقول‘ سمجھتے ہیں، تاہم وہ انہیں ویٹو کر دیں گے۔
بڑھتے ہوئے روز مرہ خراجات، ٹرمپ کے تجارتی تنازعات اور ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر عوامی غصے میں اضافے کے دوران ہونے والے انتخابات سے قبل سامنے آنے والے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ امریکی تاریخ کے غیر مقبول ترین صدور میں سے ایک ہیں۔ حکام کے مطابق ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں انتخابی نتائج دیکھ رہے تھے تاہم ان کے عوامی بیانات صرف سوشل میڈیا پر متعدد برہم پوسٹس تک محدود رہے، جن میں انہوں نے فاکس نیوز کی انتخابی کوریج کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
فلوریڈا سے آنے والے نتائج نے ایوان نمائندگان کے لیے انتخابی مقابلے میں ری پبلکنز کی کمزوری ظاہر کر دی، جہاں ڈیموکریٹس کی متعدد نشستوں پر کامیابی متوقع ہے۔ ان نشستوں کے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی ٹرمپ کی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی تھی۔ ایک نمایاں مثال میں ری پبلکن رکن کانگریس اینا پالینا لونا کو اپنے حلقے میں انتہائی معمولی برتری برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا تھا۔ حالانکہ 2024 میں ٹرمپ نے یہ حلقہ 13 پوائنٹس کے فرق سے جیتا تھا۔
اگرچہ بڑے پیمانے پر پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس ری پبلکنز کو شکست دے کر ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیں گے، تاہم سینیٹ کا مقابلہ انتہائی سخت رہنے کا امکان ہے، جہاں ری پبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔
ایوان نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے علاوہ 36 ریاستوں کی گورنر شپ کے لیے بھی مقابلہ ہوا۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں مزید تین نشستیں اور سینیٹ میں مجموعی طور پر چار نشستیں حاصل کرنا ضروری تھیں۔
ان انتخابی نتائج کے ٹرمپ کے لیے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھونے کی صورت میں ڈیموکریٹس ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور ان کی انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع ہوسکتی ہیں، جن میں ایران جنگ، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری اور مبینہ بدعنوانی کے معاملات شامل ہیں۔
ڈیموکریٹس کے سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں وہ عدالتی عہدوں اور حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر ٹرمپ کی نامزدگیوں کو بھی روک سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے منگل کو اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے محصولات، امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور ایران کے خلاف فوجی مہم کی تعریف کی تھی۔
80 سالہ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمیں امریکہ کو عظیم رکھنا ہے۔ ہم اب عظیم ہیں۔ دو سال پہلے ہماری حالت انتہائی خراب تھی‘۔ اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ ناموافق انتخابی نتائج کو چیلنج کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ اس سے قبل 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخاب میں عبدالسید مشی گن میں مائیک راجرز کو شکست دے کر پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ عبدالسید نے جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ ’مشی گن ہم نے کر دکھایا۔‘ انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا نام عبدالرحمن محمد السید ہے اور مجھے آپ کے سینیٹر الیکٹ کے طور پر یہاں کھڑے ہو کر فخر محسوس کر رہا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ہم جب بھی ان نتائج کی بات کرتے تھے تو ساتھ انشا اللہ کہتے تھے لیکن آج ہم انشا اللہ کی جگہ الحمد اللہ کہیں گے۔ امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں عبدالسید کے علاوہ ڈیموکریٹک امیدوار آدم حموی نے بھی نیو جرسی کے 12ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے ریپبلکن امیدوار گریگ میلے کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔
اس کامیابی کے بعد آدم حموی پیش گوئیوں کے مطابق امریکی کانگریس کے پہلے مسلم رکن بن گئے ہیں جن کا تعلق ریاست نیو جرسی سے ہے۔
مائیک راجرز کو شکست دینے والے عبدالسید امریکی ریاست مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اور سیاست دان ہیں۔ ان کے والد مصری نژاد تارکِ وطن ہیں۔ ان کی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی امریکی اداروں اور بین الاقوامی تعلیمی مراکز سے وابستہ رہی ہے۔ انہیں ڈیموکریٹ پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔
عبدالسید کو انتخابی مہم کے دوران مسلمان ہونے کی وجہ سے نہ صرف ریپبلکنز بلکہ خود صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی ’صنفی اور مذہبی امتیاز‘ کا سامنا رہا تھا۔ اپنی جیت کے بعد عبدالسید نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین نے ہمیں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا اور ابتدا میں انہوں نے میرے نام اور مذہب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ یہ مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بدترین مہم دیکھی اور انہوں نے میرے نام اور مذہب پر انگلی اٹھائی مگر آپ ایندھن اور گروسریز خرید نہیں پا رہے، اس کی وجہ میرا نام اور میرا مذہب نہیں ہے۔‘
سپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے امریکی مڈ ٹرم انتخابی نتائج پر کہا ہے کہ امریکی عوام نے جنگ کے خلاف فیصلہ دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی عوام نے ضمیر کی آواز سنی اور واضح طور پر جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ ہم بھی امریکی عوام کے اس پیغام کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت بلیک میل کرنے والوں کے مفادات کیلئے کام کرے گی تو اسے شکست ہوگی۔