قومی معاشی بدحالی و بڑھتی غربت، اللہ خیر کرے
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 04 / نومبر / 2026
عالمی بنک کی پاکستان بارے رپورٹ کے مندرجات کے مطابق پاکستان میں قومی شرح غربت 25.3 اور29 فیصد کے درمیان ہے۔ اس طرح پاکستان میں سات کروڑ افراد غربت کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔
شرح غربت 2018-19 میں 22فیصد تھی۔ ورلڈ بنک کی اکتوبر 2026 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان میں بسنے والے غریبوں کی48فیصد تعداد پاکستان میں بستی ہے۔ غربت کا یہ تخمینہ تین ڈالر یومیہ فی کس آمدنی کو معیار مان کر اُخذ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر لوئر مڈل انکم پاورٹی لائن4.20 ڈالر یومیہ فی کس تسلیم کی جاتی ہے۔ اس حساب سے پاکستان میں غربت کی شرح47.9 فیصد ہے اور اس طرح تقریباً 12کروڑ افراد خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔
اعداد و شمار کی بحث اپنی جگہ درست ہو گی لیکن فی الاصل پاکستان میں غربت پھلتی پھولتی جا رہی ہے۔ کووڈ19نے یہاں غربت کو فروغ دینا شروع کیا۔ ویسے کووڈ نے تو پوری دنیا میں معاشی معاملات کو گڑ بڑ کر دیا تھا بہت سے ممالک اس کے منفی اثرات سے نکل چکے ہیں اور کئی ایک کاوشیں کر رہے ہیں یہاں اثرات پھیلتے ہی نظر آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ2022 کے خوفناک سیلاب نے بھی ہماری زراعت و صنعت پر منفی اثرات مرتب کئے۔اس عظیم تباہی نے بھی ہماری مشکلات میں اضافہ کیا، مہنگائی اور قدرِ زر میں تیزی سے کمی نے غربت کو بڑھاوا دیا۔ سب سے اہم عامل معاشی معاملات کو درست کرنے کی کاوشیں ہیں جن کے باعث مسلسل مہنگائی ہو رہی ہے اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔حکمران معاشی پالیسیاں اس لئے تشکیل دیتے ہیں کہ عوام کے مسائل حل ہوں اور انہیں ریلیف ملے،لیکن ہمارے ہاں اس کے الٹ ہوتا ہے۔2022میں عمران خان حکومت کے خاتمے کے وقت مسلم لیگ(ن) نے ملک میں معاشی استحکام لانے کے لئے حکومت سنبھالنے کا فیصلہ کیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ہم ریاست کی بہتری پر اپنی سیاست قربان کر کے حکومت سنبھال رہے ہیں۔
شہباز شریف کی قیادت میں قائم کردہ پی ڈی ایم کی حکومت نے2022تا 2024 معیشت کو پٹڑی پر چڑھانے کی منظم اور کامیاب کاوشیں کیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان عمران خان کے دورِ حکومت کے آخری دِنوں میں ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعداس معاہدے کی طے شدہ مشقوں کے برعکس پالیسیاں بنانے کے باعث عملاً پاکستان معاہدے سے باہر نکل گیا تھا۔ عالمی زری و مالیاتی اداروں نے پاکستان کے ساتھ معاملات معطل کر دیئے تھے معیشت غیر فعال ہونے لگی تھی۔ دوسری طرف عمران خان کی نالائقیوں کے باعث برادر مسلم ممالک بشمول ترکی، سعودی عرب، امارات و دیگر ہم سے ناراض ہو چکے تھے ۔چین کا سی پیک تعطل کا شکار تھا ۔پاکستان سفارتی سطح پر مکمل تنہائی کا شکار ہو چکا تھا۔ عمران خان نے اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ ہی نہیں لگایا تھا بلکہ دیوار میں چُن دیا تھا۔عمران خان دھاڑتے للکارتے اور اپنے ماننے اور چاہنے والوں کے دِلوں کو گرماتے گرماتے ملکی سیاست و معیشت کا دھڑن تختہ کر چکے تھے۔
شہباز شریف پی ڈی ایم حکومت نے معاملات کو درست کرنے کی کاوشیں کیں۔ عوام کو اچھے دِنوں کی نوید سنائی۔ عوام وقتی مشکلات اس اُمید پر برداشت کرتے چلے گئے کہ اچھے دن آنے والے ہیں لیکن2024کے انتخابات آ گئے۔ شہباز شریف و اتحادی ایک بار پھر حکومت میں آ گئے معاشی مشکلات جوں کی توں رہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات چلتے رہے عالمی مالی و زری اداروں کا تعاون بھی جاری رہا اور ہنوز جاری ہے، لیکن عوام کی مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ قوتِ خرید گر رہی ہے معاشی پھیلاؤ یا گروتھ میں کمی کے باعث روز گار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔توانائی کی ہوشربا قیمتوں کے باعث صنعتی ترقی بھی شدید تعطل کا شکار ہے جس کے باعث بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ قومی ادارہ شماریات کے حالیہ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 1.08 فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح9.61 فیصد ہو گئی ہے۔اکتوبر میں شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں 0.81 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 1.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ کسی طور بھی رکنے والا نظر نہیں آ رہا ہے اشیا خوردو نوش عام شہری کی رسائی سے دور ہوتی جا رہی ہیں محاورۃ دو وقت کی روٹی کے لئے بولا جاتا ہے لیکن عملاً ایک وقت کی روٹی کے حصول کے لئے کاوش کی جا رہی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یوکرائن و روس جنگ نے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں ۔اس کے بعد28 فروری2026 کو ایران کے ساتھ امریکہ و اسرائیلی جنگ نے ایسے منفی اثرات کو دو آتشہ کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہونے والی تجارت(تیل و دیگر اشیاکی تجارت) پر مہلک اثرات مرتب کئے ہیں۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک ریکارڈ کی گئی ہیں۔ دیگر اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے جس کے براہ راست ہماری معیشت پر منفی اثرات مرتب ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔حکومت نے اس جنگ کی آڑ میں اپنی کمزوریوں کا ازالہ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کو پٹرول و گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے کامیابی میں بدل دیا گیا ہے۔ تو یہ ہے کہ حکومت نے اس طرح نہ صرف اہداف پورے کرنے شروع کر دیئے ہیں بلکہ اہداف کو عبور بھی کر لیا ہے۔
عوامی مشکلات بڑھتی چلی جا رہی ہیں، مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کا رجحان درست نہیں ہے۔حکومت اپنے وصولیوں کے اہداف پورے کرنے کے لئے عوام سے ٹیکسوں کی شکل میں روپے چھین رہی ہے۔غربت بڑھ رہی ہے،روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے ہیں اور صنعتی سیکٹر کے باعث بے روزگاری میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ قوتِ خرید کم ہوتی چلی جا رہی ہے، خطہ جنگ زدہ ہے ۔ ہم داخلی طور پر بھی دہشت گردی کی جنگ کا شکار ہیں۔ معلوم نہیں نتیجہ کیا نکلے گا؟
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)