جاپانی سفیر سے ملاقات، ترک قونصل جنرل کی اردو

ملکوں کے تعلقات محض سفارتی بیانات، سرکاری ملاقاتوں اور معاہدوں سے قائم نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے تاریخ بھی ہوتی ہے، یادیں بھی، محبت بھی اور بعض ایسے ذاتی تجربات بھی جو وقت گزرنے کے ساتھ تعلقات کو ایک الگ معنویت عطا کرتے ہیں۔

جاپان کے ساتھ میرا تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ گزشتہ دنوں جاپان کے سفیر اپنی اہلیہ اور سفارت خانے کی سربراہ برائے عوامی امور کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے تو پرانی یادوں کے کئی دریچے کھل گئے۔ جاپان وہ پہلا ملک ہے جس نے مجھے اپنے سرکاری اعزاز سے نوازا۔ 2010 میں حکومتِ جاپان کی دعوت پر جاپان جانے کا موقع ملا۔ وہاں پارلیمان کی جنوبی ایشیا سے متعلق کمیٹی سے خطاب کیا اور جاپان کے وزیر خارجہ سے ملاقات بھی ہوئی۔ یہ سب محض سرکاری مصروفیات نہیں تھیں، ان تجربات نے جاپان کے ساتھ میرے تعلق کو ایک ذاتی رنگ بھی عطا کیا۔ ملاقات کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ جاپانی سفیر کی اہلیہ کی نظر میرے گھر میں سجے ہوئے مختلف ممالک کے اعزازات پر پڑی۔ جب ان کی نگاہ جاپان کے عطا کردہ اعزاز پر ٹھہری تو انہوں نے اجازت چاہی کہ اس کی تصویر اتار لیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے عرض کیا کہ یہ تو آپ کے اپنے ملک کا اعزاز ہے، آپ کا ہی ہے۔ بات چھوٹی سی تھی، لیکن اس میں وہ اپنائیت تھی جو سفارتی آداب کی پابند نہیں ہوتی۔ گفتگو کا آغاز ہوا تو پاک جاپان تعلقات کا ذکر بھی آیا۔

میں نے ذکرکیا کہ ان تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے اپنی بساط کے مطابق ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہوں، لیکن ایک معاملہ ایسا ہے جس میں مجھے اپنا کردار نسبتاً زیادہ مؤثر محسوس ہوتا ہے۔ یہ پاکستان سے جاپان کو آم کی برآمد کا قصہ ہے۔ پاکستان نے جاپان کو آم درآمد کرنے پر آمادہ کیا تو جاپان نے اپنے صحت و صفائی کے سخت معیارات کے مطابق پاکستانی آموں کی خصوصی صفائی کیلئے مشینری اورپلانٹ پاکستان بھجوا دیے۔ یہ مشینیں جب پاکستانی بندرگاہ پر پہنچیں تو ہماری بیوروکریسی نے اچانک خاموشی اختیار کرلی۔ متعلقہ حکام کی طرف سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ مشینیں بندرگاہ پر پڑی تھیں اور سمندر کی نم آلود ہوائیں ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی تھیں۔ جاپان نے اپنا کام کر دیا تھا، اب پاکستان کی باری تھی۔ لیکن ہمارے ہاں بعض کاموں میں باری آنے کے بعد بھی باری نہیں آتی۔ انہی دنوں جاپان کے اس وقت کے سفیر کا فون آیا۔ انہوں نے صورتحال بتائی اور مسئلے کے حل کیلئے میری مدد چاہی۔ اس وقت نواز شریف وزیراعظم تھے۔ ان سے میری پہلی ملاقات 2003 میں جدہ میں ہوئی تھی۔ ان کے مزاج کا ایک پہلو میں نے اس پہلی ملاقات سے آج تک محسوس کیا ہے کہ وہ لوگوں سے جس انداز میں ملتے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد بھی ان کے ساتھ اسی تعلق کو برقرار رکھتےہیں۔

میں نے ان کے ذاتی موبائل فون پر رابطہ کیا اور انہیں جاپانی مشینری کے بندرگاہ پرپھنسنےکی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے فوراً کہا کہ آپ جاپانی سفیر کو کہہ دیں کہ انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگلے ہی روز انہوں نے سفیر سے ملاقات کی، معاملے کی تفصیلات خود سنیں اور موقع پر ہی اس کے حل کیلئے اقدامات کروا دیے۔ یوں یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں تجارت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہوتی ہے۔ سفارتی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن جب تک انکے ساتھ تجارتی روابط مضبوط نہ ہوں، تعلقات مکمل نہیں ہوتے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بیوروکریسی کی رکاوٹیں بعض اوقات ایسے معاملات کو بھی الجھا دیتی ہیں جنہیں حل کرنےکیلئے غیر معمولی ذہانت یا وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بہرحال، جاپانی سفیر کی آمد پر یہ پرانا قصہ بھی یاد آ گیا۔ جاپان سے بات چلی تو ترکی کا ذکر بھی بے محل نہیں۔ ترکی کے قومی دن کی تقریبات اسلام آباد اور لاہور، دونوں شہروں میں منعقد ہوئیں۔ آخر لاہوری ہوں تو لاہور میں منعقدہ تقریب میں ہی شرکت کی ۔ ترکی کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کا تعلق صرف تحریکِ خلافت تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ عثمانی خلافت کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں کی وابستگی اس سے کہیں پرانی ہے۔ ٹیپو سلطان نے عثمانی خلیفہ کے پاس سفارت بھیج کر اپنی حکمرانی کی توثیق حاصل کی تھی اور اپنی سلطنت میں مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے نام کا خطبہ ختم کرکے عثمانی خلیفہ کے نام کا خطبہ جاری کروایا تھا۔ اس ایک واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس زمانے میں عثمانی خلافت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آج حالات بدل چکے ہیں۔ خطے کی سیاست، دفاعی ترجیحات اور بین الاقوامی تعلقات نے نئی صورت اختیار کر لی ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں بھی ایک نیا عہد ہمارے سامنے ہے اور ترک سفارتکار ان بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنے روابط کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ لاہور میں ترکی کے موجودہ قونصل جنرل نے ایک سال کے اندر اردو زبان سیکھ لی اوراپنی تقریر کا آغاز اردو میں کیا۔ یہ بظاہر ایک چھوٹا سا اقدام ہے، لیکن سفارتکاری میں ایسے اقدامات کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ ان کے پیشرو قونصل جنرل بھی خاصے متحرک تھے۔

جاپان اور ترکی کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔ ایک تعلق میں تجارت، جدیدیت اور باہمی تعاون کے امکانات نمایاں ہیں تو دوسرے کے ساتھ تاریخ، تہذیب اور جذباتی وابستگی کی ایک طویل داستان جڑی ہے۔ تاہم دونوں میں ایک قدر مشترک ہے: دوستی کو محض سرکاری سطح تک محدود نہ رہنے دینا۔ سفارتکاری کی کامیابی اسی میں ہے کہ سفیر اپنے میزبان ملک میں صرف حکومت کے نمائندے بن کر نہ رہیں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی جگہ بنائیں۔ جاپانی سفیر کی اہلیہ کی ایک اعزاز کی تصویر اتارنے کی خواہش اور ترک قونصل جنرل کا اردو میں گفتگو کرنا بظاہر دو الگ واقعات ہیں۔ لیکن دونوں کے پیچھے ایک ہی جذبہ کارفرما ہے۔

تعلقات کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ فاصلے کم ہوں، اپنائیت بڑھے اور دوستی محض کاغذوں پر لکھی ہوئی عبارت بن کر نہ رہ جائے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)