امریکہ کے وسط مدتی انتخابات: جمہوریت کی فتح
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 04 / نومبر / 2026
امریکہ میں منعقد ہونے والے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکرٹیک پارٹی کے امیدواروں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ اسے کانگرس کے ایوان نمائیندگان میں 228 اور سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل ہوچکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی ایسے علاقوں میں بھی کامیاب ہوئی ہے جہاں دہائیوں سے ری پبلکن پارٹی ناقابل شکست تھی۔
اس انتخابت کو امریکہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایران کے ساتھ چھیڑی جانے والی جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کے دو سالہ دور صدارت پر ریفرنڈم کی حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔ تاہم ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ناقابل اعتبار شخص کے دور صدارت میں منعقد ہونے والے ان انتخابات میں یہ سوال بھی زیر بحث تھا کہ کیا ٹرمپ انتظامیہ ناکامی والے انتخابی نتائج قبول کرلے گی۔ ٹرمپ ابھی تک 2020 میں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ دوبارہ صدر بننے کے بعد انتخابی نتائج رکوانے کے لیے کانگرس پر حملہ کرنے والوں کی سزائیں معاف کرکے وہ جمہوریت اور انتظامی اختیارات کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرچکے تھے۔ ٹرمپ کی قیادت میں سر اٹھانے والی ماگا تحریک انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھتی ہے اور کسی بھی ہتھکنڈے سے اقتدار پر قبضہ کرنے کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے مڈ ٹرم انتخابات میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کی ناکامی کے بعد یہ اندیشہ موجود تھا کہ وہ اپنے انتظامی اختیارات کا سہارا لے کر انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیں۔ تاہم اس طریقے سے امریکہ میں شدید سیاسی بحران پیدا ہوسکتا تھا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے البتہ انتخابی نتائج کو تسلیم کرکے وسیع الظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کی شکست کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کیا تاہم یہ مانا ہے کہ مہنگائی اور ایران جنگ سے پیدا ہونے والے حالات نے انتخابات میں ووٹروں کے رجحان کو متاثر کیا۔ اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ کی ترقی پر توجہ مرکو کرنے اور اشیائے صرف کی قیمتیں کم کرنے کے وعدے پر انتخاب جیتا تھا۔ اب اگر ان کی پارٹی یہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے تو اس کی ناکامی نوشتہ دیوار بن چکی تھی۔ گو کہ اس بار کانگرس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کی توقع کی جارہی تھی ،البتہ پارٹی کو انتخابات میں جتنی وسیع کامیابی نصیب ہوئی ہے، مبصرین اسے ڈیموکریٹک پارٹی کا سونامی قرار دے رہے ہیں۔
یہ مباحث ہوتے رہیں گے کہ ری پبلیکن پارٹی کی اس تاریخی شکست اور ڈیموکریٹک پارٹی کی ناقابل یقین کامیابی کی کیا وجوہات ہیں۔ لیکن ایک غیر امریکی کے طور پر خاص طور سے اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ صدر ٹرمپ کی شکست یاری پبلیکن پارٹی کی ناکامی ہوسکتی ہے لیکن یہ ڈیموکریٹک پارٹی سے زیادہ امریکہ میں جمہوری نظام کی کامیابی ہے۔ ٹرمپ کی تمام تر غیر جمہوری بے اعتدالیوں کے باوجود اور کسی حد تک اس یقین کے ہوتے کہ ایران جنگ اور مہنگائی کی وجہ سے ووٹر ناراض ہے، امریکہ کا طاقت ور صدر بھی مقررہ وقت پر مڈ ٹرم انتخاب رکوانے کا حوصلہ نہیں کرسکا۔ ٹرمپ کے غیر جمہوری رویہ کو مسترد کرنے کے باوجود یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں ہونی چاہئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ تو انتخابی عمل روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی دھاندلی کے الزامات عائد کرکے اسے ماننے سے انکار کیا۔ انہوں نے وضاحتیں ضرور دی ہیں اور یہ بھی کہا کہ وہ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں مگر انہوں نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا ہے۔ اس لیے اسے کسی پارٹی یا شخص کی ہار اور کسی پارٹی یا افراد کی جیت کی بجائے بنیادی طور پر جمہوریت کی فتح کہنا چاہئے۔
امریکی انتخابات میں ووٹ کی طاقت سے رونما ہونے والی تبدیلی واضح کرتی ہے کہ جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے کہ جسے اصولوں و قانون کے مطابق کام کرنے دیاجائے تو اس میں عوام کی رائے بھی سامنے آتی ہے، اقتدار کا ڈھانچہ بھی تبدیل ہوتا ہے اور فیصلہ کرنے والے چہرے بھی تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے بعد بھی لوگ خوش دلی سے ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں اور مبارک باد کے پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے متعدد جمہوری ملکوں میں دائیں بازو کے انتہا پسند کی پاپولر نعروں کی بنیاد پر استوار پالیسیوں کی وجہ سے جمہوریت کے لیے اندیشے پیدا ہورہے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ دائیں بازو کے انتہا پسند جمہوری سیڑھی کو اقتدار حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے نعروں، رویے اور نقطہ نظر سے وہ جمہوریت کو دفنانے کے درپے ہیں۔ امریکہ کے مڈ ٹرم انتخانات میں عوام کی بھرپور شرکت اور صدر کی مخالف پارٹی کو شاندار کامیابی دلوانے کے عمل سے ثابت ہؤا ہے کہ جمہوریت نہ صرف بہترین انتقام ہے بلکہ یہی طریقہ اب تک دریافت شدہ حکمرانی کے مختلف طریقوں میں سب سے زیادہ فعال اور قابل اعتبار ہے۔ اس لیے امریکہ میں جمہوری اداروں کی کامیابی پر دنیا بھر کے جمہوریت پسند بھی مبارک باد کے مستحق ہیں جو اپنے اپنے معاشرے میں مشکل حالات کے باوجود جمہوریت کے لیے جد و جہد کررہے ہیں۔
یہ بھی واضح ہونا چاہئے ڈونلڈ ٹرمپ جمہوری طریقے سے ہی براہ راست ووٹنگ کے نظام میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کی مدت صدارت چار سال پر مشتمل ہے۔ اس لیے کانگرس میں اپنی پارٹی کی اکثریت سے محروم ہونے کے باوجود ان کے اختیارات میں قابل ذکر کمی نہیں ہوگی لیکن انتخابات میں مخالف ووٹوں نے انہیں یہ پیغام ضرور دیاہے کہ ان کی اختیار کردہ حکمت عملی سے امریکی عوام خوش نہیں ہیں۔ زیرک سیاست دان کے طور پر اگر انہوں نے اس پیغام کو درست طریقے سے قبول کیا تو آنے والے وقت میں ٹرمپ انتظامیہ کا رویہ اور کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔ تاہم ڈیموکرٹیک پارٹی کی اکثریت والی کانگرس بھی صدر کے اختیارات اور ان کے عہدے کے لیے ’خطرہ ‘ نہیں بن سکتی۔ بلکہ ان دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ کانگرس کسی بھی صدر کا مواخذہ کرسکتی ہے ۔ ایسی کارروائی شروع کرنے کے لیے ایوان نمائندگان میں سادہ اکثریت سے کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔ لیکن مواخذے کے لیے سینیٹ میں دوتہائی اکثریت ضروری ہے جو اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس نہیں ہے۔
کانگرس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت کے نتیجے میں یہ پارٹی کسی معاملہ پر قانون سازی کرنے کی مجاز ضرور ہے لیکن صدر ٹرمپ نے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کسی بھی قانون کو ویٹو کردیں گے۔ اس کا استحقاق بھی انہیں امریکی آئین ہی عطا کرتا ہے۔ البتہ سینیٹ میں ڈیموکرٹیس کی واضح اکثریت کے بعد فیڈرل اور سپریم کورٹس میں ججوں کی تعیناتی یک طرفہ طور پر ممکن نہیں ہوگی۔ اب صدر ٹرمپ کوئی ایسا جج نامزد نہیں کرسکیں گے جو سینیٹ کو قابل قبول نہ ہو۔
اس صورت حال میں ہر ہوشمند صدر کانگرس میں کامیاب ہونے والی پارٹی کے ساتھ اچھے تعلقات بنانا چاہتا ہے تاکہ امور حکومت کو زیادہ آسانی سے چلایا جائے۔ تاہم اگر صدر تصادم کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے امریکی عوام ہی نقصان میں رہیں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ ری پبلیکن پارٹی کی ہار کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی امریکی مفادات میں صدر کی پشت پناہ نہیں ہوگی۔ ہر پارٹی بہر صورت امریکی آئین اور قومی مفادات کی حفاظت کے لیے کام کرنے کی پابند ہے۔ اس لیے یہ قیاس کرنا کہ ایران تنازعہ نے امریکہ میں مڈٹرم انتخابات کا پانسا پلٹا ہے اور یہ ایران کی فتح ہے، حقائق سے منہ موڑنے کے مترادف ہوگا۔ ایران یا دنیا کے دیگر ممالک کے بارے میں کانگرس بھی صدر کی طرح امریکی مفادات ہی کو پیش نظر رکھے گی۔