عبدالسید کی امریکی سینیٹ میں نمائندگی اور پاکستان کی سیاسی پارٹیاں

عبدالرحمان محمد عبدالسید اگر پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے رکن ہوتے تو شاید وہ کبھی کسی سینیٹ یا اسمبلی کے رکن نہ بن پاتے۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن تھے، جہاں پارٹی قیادت کی حمایت حاصل نہ ہونے کے باوجود کسی امیدوار کے لیے آگے بڑھنے کے راستے بند نہیں ہوتے۔

سوال یہ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کی گڈ بُکس میں شامل نہ ہونے اور اس کی حمایت سے محروم رہنے کے باوجود عبدالسید امریکی سینیٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی کے امیدوار کیسے نامزد ہوئے؟ اس سوال کا جواب امریکہ کی سیاسی جماعتوں کے جمہوری نظام میں پوشیدہ ہے۔

امریکہ میں سینیٹ یا ایوانِ نمائندگان کے لیے پارٹی امیدواروں کی نامزدگی کا فیصلہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی طرح آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمٰن، نواز شریف یا عمران خان جیسے سیاسی رہنما نہیں کرتے۔ نہ ہی ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی شخص کو امیدوار نامزد کر دے۔ اس کے برعکس، امیدواروں کا فیصلہ پرائمری انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے رائے دہندگان اور حلقے کے پارٹی ممبران کرتے ہیں۔

یہی وہ بنیادی فرق ہے جو امریکہ کی سیاسی جماعتوں کو پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں سے ممتاز کرتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتیں جمہوریت کے دعوے تو بہت کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر امیدواروں کی نامزدگی اور اہم سیاسی فیصلوں کا اختیار چند شخصیات یا مخصوص خاندانوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ پارٹی کارکنوں کی رائے اور ان کی سیاسی جدوجہد اکثر قیادت کی ذاتی پسند و ناپسند کے سامنے بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔

عبدالسید نے امریکی ریاست مشی گن میں اگست 2026 میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں سینیٹ کی نامزدگی کے لیے حصہ لیا۔ ان کے مقابلے میں موجودہ رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز تھیں، جنہیں پارٹی کی بااثر قیادت اور اسرائیل نواز سیاسی گروہوں کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے باوجود عبدالسید نے پرائمری انتخابات میں ہیلی اسٹیونز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کے انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرلی۔ ان کی کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ جہاں سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری طریقۂ کار ہو، وہاں پارٹی قیادت کی مخالفت یا حمایت سے محرومی کسی اہل اور مقبول امیدوار کا سیاسی راستہ نہیں روک سکتی۔

عبدالسید کی کامیابی محض ایک امیدوار کی کامیابی نہیں، بلکہ اس جمہوری اصول کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں کسی فرد یا خاندان کی ذاتی جاگیر نہیں ہوتیں۔ ان کی اصل طاقت کارکنوں، ووٹروں اور جمہوری اداروں میں ہونی چاہیے۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے اس واقعے میں ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔ جب تک سیاسی جماعتوں میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوتی، امیدواروں کی نامزدگی کا اختیار کارکنوں اور ووٹروں کو نہیں ملتا، اس وقت تک ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے دعوے کھوکھلے ہی رہیں گے۔