امریکی مڈٹرم انتخابات، جمہوریت جیت گئی
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 05 / نومبر / 2026
ہم پاکستانیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے طاقتور امریکی صدر کی موجودگی میں ان کی جماعت ریپبلکن سینیٹ کے انتخابات میں کیسے ہار گئی۔ دنیا کے ہر فیصلے میں ٹانگ اڑانے اور من مانی کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ہی ملک میں یہ جھٹکا کیوں ملا۔
ہمارے ہاں تو یہ تصور موجود ہے جو اقتدار میں ہے یا کسی طاقتور پوزیشن میں ہے، اسے کوئی نہیں ہرا سکتا۔ یہاں ضمنی انتخابات میں کوئی حکومتی امیدوار نہیں ہارتا۔ چاہے وہ کتنا ہی نکما اور غیر مقبول ہو۔ تو وہاں وسط مدتی انتخابات میں ڈیمو کریٹ کیسے جیت گئے، یعنی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ووٹ ڈالے اور یہ پرواہ بھی نہیں کی کہ عالمی سطح پر انہوں نے امریکہ کا کتنا رعب داب قائم کر رکھا ہے۔ اب تجزیہ کار اس حوالے سے دور دور کی کوڑی لا رہے ہیں لیکن ہم پاکستانیوں کے لئے تو یہی باعثِ حیرت ہے ایک طاقتور صدر کی جماعت سینیٹ میں شکست کیسے کھا گئی۔
یہ اہم ایوان اب ریپبلکن کے ہاتھ سے نکل کر ڈیموکریٹس کے پاس چلا گیا ہے جو امریکی نظام کو جانتے ہیں، انہیں علم ہے سینیٹ میں اکثریت کے بغیر صدر کس قدر کمزور ہو جاتا ہے۔ امریکی عوام کو امریکہ کے دنیا پر کلی اختیار سے کوئی دلچسپی نہیں، انہیں اس بات سے دلچسپی ہے، امریکہ کو دنیا میں ایک جمہوری ریاست سمجھا جائے، اسی لئے وہ کسی ایسے امریکی صدر کو پسند نہیں کرتے جو اقتدار میں آکر امریکہ کو دنیا کا سب سے بڑا تھانیدار بنانے پر توجہ مرکوز کر دیتا ہے اور اس کے لئے امریکہ کے جمہوری تشخص کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دنیا حال میں دیکھ چکی ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت کو عوام نے پسند نہیں کیا۔ سب سے زیادہ مخالف مظاہرے امریکہ میں ہوئے حتیٰ کہ امریکی اسرائیل پر بھی برستے رہے اور نیتن یاہو کے خلاف شدید احتجاج کرتے رہے۔ اگر امریکی عوام میں سیاسی شعور نہ ہوتا تو وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پروپیگنڈے کی زد میں آکر ان کی کھلی حمایت کرتے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اُن دنوں جب کہتے تھے کہ امریکہ سپرپاور ہے اور ایران کو ہم صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے تو امریکی عوام نے اس بات کو اپنے بھرپور احتجاجی مظاہروں سے رد کر دیا تھا ۔بلکہ تجزیہ کار تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر عوام کا دباؤ نہ ہوتا تو وہ جنگی جنون میں وہ کچھ کر جاتے جو دنیا کی تباہی کا سبب بن جاتا۔ امریکہ میں ووٹ کی طاقت کو کوئی پامال نہیں کر سکتا، حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا امریکی صدر بھی ایسی کوئی طاقت نہیں رکھتا کہ ڈبوں سے اپنی مرضی کے ووٹ نکال سکے۔ یہ جو فارم 45اور فارم 47کی بدنما ترکیبیں ہمارے ہاں رائج ہو چکی ہیں، امریکہ میں ان کا دور دور تک کوئی ذکرتک نہیں ہوتا۔ الیکشن میں شفافیت امریکی جمہوریت کی مضبوطی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اگر یہ شفافیت نہ ہوتی تو آج وہاں انتخابی نتائج کا نقشہ کچھ اور ہوتا جو بے بسی اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی حالت سے مترشح ہے، وہ اسی مضبوط جمہوریت کا کیا دھرا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کو امریکہ میں ایک ہنگامہ خیز دور سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ٹرمپ نے بیک وقت کئی محاذ کھولے۔ کبھی ٹیرف کے معاملے میں امریکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔ کبھی ان ممالک سے محاذ آرائی شروع کر دی جن کی وجہ سے امریکی تجارتی خسارہ کم رہتا تھا۔ چین، روس، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے خوامخواہ کی چھیڑچھاڑ کی جس کی وجہ سے امریکہ میں مہنگائی، کساد بازاری اور بے روزگاری کا سیلاب آیا۔ امریکیوں کے بقول جتنی مہنگائی ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ہوئی ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پھر امریکہ کو سب سے بڑا نقصان آبنائے ہرمز بند ہونے سے ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید ایران کو نشانہ بنانے سے پہلے اس پہلو پر سوچا نہیں تھا۔ یہ ایران کی ایک ایسی چال تھی جس نے پوری دنیا کی اقتصادیات پر حملہ کر دیا۔ اب طاقت کے زور پر اسے کھلوانے کی کوئی کوشش کیسے کامیاب ہو سکتی تھی، جب ایران کا وہاں مکمل کنٹرول ہے۔ ایک دوبار کی کوششوں کے بعد جب امریکہ کو منہ کی کھانا پڑی تو ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کا سہارا لیا۔ جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔ اب بھی وہ اپنا تما م تر زور لگا چکے ہیں، ہر قسم کی دھمکی دے چکے ہیں امریکی رو اسرائیلی میزائلوں کی بارش ایران پر گرا چکے ہیں۔ مگر اس کے باوجود آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول ہے، یہ سب کچھ امریکی عوام دیکھ رہے ہیں ان میں انہیں ہزیمت زیادہ اور فتح کم نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی ایسی راہ کی تلاش میں ہیں جو انہیں اس گرداب سے نکال سکے، اگر وہ کچھ حاصل کئے بغیر ایران سے معاہدہ کرلیتے ہیں اور ایٹمی ٹیکنالوجی پر اسے نیچا نہیں دکھا پاتے تو ان کی یہ شکست ان کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن کو بھی لے ڈوبے گی۔
امریکہ کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی طاقت، مضبوط معیشت اور عالمی اثر و رسوخ کی وجہ سے سپرپاور ہے اس کا عالمی چہرہ شاید یہی ہے تاہم اس کی مضبوطی اور استحکام کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک مضبوط جمہوریت ہے۔ اس کی اڑھائی سو سالہ تاریخ میں جس خوبی نے اسے زوال نہیں آنے دیا وہ جمہوریت اور عوام کی طاقت ہے۔ اسی جمہوریت کے ثمرات کی وجہ سے امریکہ میں قانون کی عملداری ہے، آئین کی مضبوطی ہے اور سب سے بڑھ کر مستحکم جمہوری روایات ہیں، جن سے روگردانی کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ملٹی نیشنل آبادی کے باوجود جس بات نے امریکہ کو ایک لڑی میں پرو رکھا ہے وہ اس کی جمہوریت اور آئین ہیں۔ آئین ایسا ہے کہ اس میں کوئی ابہا م نہیں۔ کوئی طاقتور اسے اپنے مطلب کے معنی نہیں پہنا سکتا نہ ہی اس کی کسی شق کی خلاف ورزی کر سکتا ہے۔
عدالتیں اتنی آزاد ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور احکامات کو بھی اڑا کر رکھ دیتے ہیں۔ امریکہ ایک سپرپاور ہے اور اس کے اجزائے ترکیبی میں آئین کی سپرمیسی، اداروں کی توقیر، آئین کے مطابق ہر ادارے کی اپنی حدود تک محدودیت اور پارلیمنٹ کی بالادستی ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات انہی اجزا کی حاکمیت کا اظہار ہیں۔ وہاں ہر ووٹ کی اہمیت ہے اور ووٹ کی حرمت پر کسی کو انگلی اٹھانے کی جرات نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)