کیا مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ امن قائم ہوگا؟

اس بات کا امکان موجود ہے کہ آئیندہ  چند روز میں  امریکہ اور ایران کے درمیان امن قائم کرنے کے حوالے سے کوئی بڑی  پیش رفت دیکھنے میں آئے۔ تاہم بعض مبصرین اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ ایران پر ایک نئے اور شدید امریکی حملہ  ہوسکتا ہے۔

امریکی انتخابات کے بعد ایران کے روحانی پیشوا مجتبیٰ خامنہ  ای نے ایک بیان میں واضح کیاتھا کہ امریکہ میں اقتدار کا پانسہ پلٹنے سے  امریکی پالیسی  تبدیل  نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے واشنگٹن کی ایران کے بارے میں پالیسی تبدیل ہونے کی توقع رکھنا غلط فہمی ہوگی‘۔  خامنہ ای کی بات بڑی حد تک  درست ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ انتخابات ایران کو امریکہ کے ساتھ امن قائم کرنے کا ایک اہم اور نادر موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔  البتہ اگر ایران نے  مڈ ٹرم انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کی ناکامی کو ایران کی کامیابی سمجھنے کی غلطی کی اور امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ  نہ کیا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔

بدقسمتی سے مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں ملے جلے اشارے موجود ہیں جن میں بنیادی طور سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ایران ’جھکنے‘ پر تیار نہیں ہے۔ تاہم ایرانی لیڈروں کو یہ بھی ماننا ہوگا کہ دنیا ان کے اشاروں پر کام نہیں کرتی اور کسی مصالحت اور دانشمندی سے کسی تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے دی جانے والی رعائیتوں کو شکست و کامیابی کی میزان پر نہیں تولا جاسکتا۔ اسی بیان میں ایرانی لیڈر کا یہ فقرہ بھی شامل ہے کہ ’جو لوگ اب بھی یہ معمولی سی امید رکھتے ہیں کہ امریکی بالادستی کے نظام کا رویہ سیاسی جماعتوں یا دھڑوں کی تبدیلی سے بدل جائے گا یا یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو رعایتیں دے کر ایرانی قوم کے خلاف اس کی دشمنی ختم کی جاسکتی ہے، وہ سخت غلط فہمی میں ہیں۔ ایران ،  امریکی بالادستی کے خاتمے کو ابھی دور سمجھتا ہے لیکن ہماری نظر میں یہ خاتمہ قریب ہے‘۔

اس بیان  میں اگرچہ  ایک طرف امریکی  پالیسی سازی کے بارے میں حقیقت پسندانہ  تجزیہ شامل ہے لیکن ایرن کی اس خواہش کا اظہار بھی موجود ہے کہ   اس کے خیال میں امریکہ کے ساتھ امن کا قیام خطے میں امریکی اڈوں کی موجودگی اور   ریجنل معاملات  میں امریکہ کی مداخلت ختم ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ امریکہ کی طرح ایران کو بھی یہ ماننا چاہئے کہ  جنگ مسائل کا حل نہیں ہے۔ دونوں ملکوں نے براہ راست تصادم کے ذریعے ’باہمی تنازعات‘ ختم کرنے کی کوشش کرکے دیکھ لیا ہے۔ اب اگر ایران عرب ممالک کو آسان  اہداف سمجھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ سینگ پھنسائے رکھنا چاہتا ہے تو اسے ایران کی ہٹ دھرمی سمجھا جائے گا جس سے ایران امریکہ جنگ کا کوئی خوشگوار اور فوری خاتمہ ممکن نہیں رہے گا۔ ایران کے سپریم لیڈر اور  دیگر قیادت کو یہ باور کرنے کی ضرورت ہے کہ     قیام امن کے لیے شرائط عائد کرکے اور سخت رویہ اختیار کرکے حالات خراب تو کیے جاسکتے ہیں لیکن اس سے امریکہ کو جھکنے یا ایران کی خواہش کے مطابق مشرق وسطیٰ کو خیر باد کہنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ ایران کو  ریجن کا مانیٹر بننے کی خواہش پالنے کی بجائے اپنے عوام کی  بہبود اور ضرورتیں پوری کرنے اور تیل کے وسائل  گولہ  بارود اور میزائیلوں  پر صرف  کرنے کی بجائے عوام کو سہولتیں  دینے پر صرف کرنے چاہئیں۔

 وسطی مدت کے انتخابات میں ری پبلیکن پارٹی کی شکست سے امریکی عوام نے جنگ کے خلاف پیغام ضرور دیا ہے لیکن  ووٹروں کا یہ رویہ درحقیقت جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات اور مہنگائی پر رد عمل کی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے۔ اسے امریکی عسکری کمزوری یا ٹرمپ کی مجبوری سمجھنا غلطی ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ ابھی مزید دو سال تک امریکہ کے صدر رہیں گے اور یہ ان کی آخری صدارتی مدت ہے۔ یعنی وہ اب نہ تو صدارت کے انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ  موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد  مستقبل  میں صدر بننے والے کسی شخص کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتے  ہیں۔ امریکہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ حالات کو جوں کا توں رہنے دے اور ایران پر پابندیوں اور بلاکیڈ کے ذریعے معاشی دباؤ میں اضافہ کرتا رہے۔ اس پالیسی  سے  امریکی عوام یادنیا کے دیگر ملکوں کو کچھ قیمت  ضرور ادا کرنا پڑے گی لیکن ٹرمپ کے طرز سیاست سے سیکھا جاسکتا ہے کہ انہیں اپنے اقتدار کے آخری سالوں میں اس کی کوئی خاص پرواہ نہیں ہوگی۔  ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعہ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس جنگ میں خود کو شکست خوردہ  دیکھنا پسند نہیں کریں گے۔

صدر ٹرمپ کے پاس  یہ دوسرا آپشن   موجود ہے  کہ ایران کو کسی امن معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے ایک بار پھر حملوں کا آغاز کردیا جائے۔ مزید ایرانی لیڈروں کو ہلاک کیا جائے اور تہران میں رجیم تبدیل کرنے کا نامکمل ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش  کی جائے۔ امریکہ کے پاس  اس آپشن پر عمل کرنے کے وسائل اور صلاحیت  موجود ہے۔ دوونوں صورتوں میں ایران کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور اس کی معیشت مزید زیربار ہوگی۔ ایرانی حکام کو اپنی کامیابی کا پیمانہ دشمن کے نقصان  کوبنانے کی بجائے ایک نظر اپنے ملک میں عوام کی حالت زار اور تباہی و بربادی پر بھی ڈالنی چاہئے تاکہ تصادم کا موجودہ سلسلہ ختم  ہوسکے۔ ایران کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ اگر جنگ جاری رہتی ہے تو یہ اسرائیل کی کامیابی ہوگی اور  ایران کے تمام بہی خواہوں جن   میں پاکستان اور متعدد عرب ممالک کے علاوہ چین اور روس بھی شامل ہیں، کی ناکامی ہوگی۔  گزشتہ  9 ماہ کے تنازعہ میں دیکھا جاچکا ہے کہ کوئی بڑی طاقت اس جنگ میں امریکہ کے مقابلے میں ایران کا ساتھ نہیں دے گی۔   اگر یہ جنگ ایران کو اپنے بل بوتے پر لڑنی  ہے تو اس سے نکلنے کا راستہ بھی ایرانی لیڈروں کی ہوشمندی اور زیرکی کا محتاج ہے۔

جنگ جاری رہنے کی صورت میں ایران عرب ممالک کے لیے خطرہ بنا رہے گا لیکن جس اسرائیل کو مسلمانوں کا  ’دشمن‘ تصور کیا جاتا ہے، اس کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔ موجودہ جنگ میں ایران کی بے اعتدالی کے باوجود تمام عرب ممالک نے جنگ پھیلانے کی بجائے اسے روکنے کی کوشش کی   جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اب  بھی ایران پر حملے شروع  کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی انتخابات میں واضح کامیابی کے بعد نیتن یاہو کے لیے  سیاسی وجوہات کی بنا پر  اور  یہ  جنگ اور بھی اہم ہوچکی ہے۔ اس لیے ایرانی لیڈر اگر دوستوں کی بات سننے اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کریں گےتو نیتن  یاہو  کے لیے ٹرمپ جیسے صدر کو جنگ کے ایک نئے دور پر آمادہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ ایران اور اس کے تمام  ہمدرد ممالک  کی کامیابی یہی  ہوگی کہ اسرائیل اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو۔ تاہم اگر ایر انی لیڈر  اپنی صلاحیت پر غیر ضروری اعتماد کرکے امن سے گریز کرتے ہیں تو  ہر گزرنے والا دن تنازعہ کو طول دینے کا سبب بنے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر ایران کے ساتھ قابل قبول امن معاہدہ  کرنےمیں کامیاب نہیں ہوتے توتاریخ  میں اپنا نام  ایک  ایسے امریکی  صدر کے طور پر درج کروانا چاہیں گے جس نے ایران  کو سبق سکھایا اور اس کی عسکری و جوہری صلاحیت تباہ کردی۔  یہ مقصد  حاصل کرنے کے لیے امریکی صدر کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ  ہوسکتے ہیں۔  اس لیے تہران کے پاس اس وقت پاکستان اور قطر کی صورت میں دو ایسے ثالث موجود ہیں جو فریقین کو کسی قابل قبول حل   کے لیےمتفق ہونے پر آمادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم تہران کو مصالحت کی اہمیت سمجھنے،  کسی سنجیدہ امن معاہدہ کے لیے درمیانی راستہ اختیار کرنے اور دوستوں کو دشمن بنانے کی بجائے ان پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہوگی۔

واشنگٹن اور تہران   کے موجودہ لیڈر کسی بھی انتہا کی طرف جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے متعدد ماہرین کو امن کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے ۔لیکن اگر ایرانی لیڈروں نے  مڈ ٹرم انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سفارتی امکان  سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا تو  یہ تنازعہ ختم ہونے کا امکان  بھی موجود ہے۔