مشرق وسطیٰ میں امریکی شہریوں کو انتباہ، ایران پر نئے حملے کا اندیشہ

  • ہفتہ 07 / نومبر / 2026

امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ خطے میں مسلح حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر زیادہ محتاط رہیں۔ اس دوران ایران پر نئے امریکی حملوں کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

تاہم امریکی حکام کے مطابق یہ خطرہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے ممکنہ حملوں اور ایرانی کوششوں سے متعلق ہے جن کا مقصد خطے میں امریکی حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنانا ہے۔

امریکہ نے فضائی پروازیں منسوخ ہونے، فضائی حدود بند کیے جانے اور سفری نظام میں خلل پڑنے کے خدشے سے بھی آگاہ کیا ہے۔ امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ ملک کے لیے جاری کردہ سکیورٹی ہدایات پر عمل کریں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور یمن کے حوثی جنگجوؤں کے حملوں سے خلیجی ممالک کی سکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔

حوثی جنگجو اس سے قبل سعودی عرب کے مختلف شہروں اور ہوائی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

اس دوران قطر کے وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے خبردار کیا ہے کہ مذاکرات میں مزید رعایتیں حاصل کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کشیدگی دوبارہ بڑھانے کی حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہوگی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ قطر کے ثالثوں نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے پانچ دورے کیے ہیں تاکہ فوجی تنازع دوبارہ شروع ہونے سے روکا جا سکے۔ ان کے مطابق بعض ملاقاتیں 15 سے 20 گھنٹے تک جاری رہیں۔

قطری وزیرِاعظم نے مذاکرات کو مشکل قرار دیا تاہم ان کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی بھی امن معاہدہ مکمل طور پر مثالی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس سے ایسی توقع رکھنی چاہیے۔‘ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز میں آزادانہ جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر حتمی معاہدہ طے پانے کو ممکن قرار دیا۔

ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قطر کے امیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف مزید فوجی حملوں کے بجائے سفارت کاری کا راستہ جاری رکھیں۔

قطری وزیرِاعظم کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں جاری رکھنے اور دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کے حوالے سے متضاد بیانات دے رہے ہیں۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور تہران اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔ فلوریڈا میں ناسا کے مرکز میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘