عرب جماعتوں کی ممکنہ حمایت سے اسرائیل میں آئزنکوٹ کے وزیرِ اعظم بننے کے امکانات بڑھ گئے

  • ہفتہ 07 / نومبر / 2026

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سابق آرمی چیف اور اپوزیشن رہنما گاڈی آئزن کوٹ کو عرب جماعتوں کی حمایت ملنے کے بعد اقتدار حاصل کرسکتے ہیں۔

جمعرات کو صدر آئزک ہرزوگ کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے دوران عرب جماعتوں نے آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ عرب جماعتوں کے پاس 19 نشستیں ہیں۔ ان کی حمایت کے بعد اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئزن کوٹ کو 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، جو سادہ اکثریت کے لیے درکار تعداد سے 6 زیادہ ہے۔

دوسری جانب موجودہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کو بڑا دھچکا پہنچا ہے کیونکہ ان کی پرانی اتحادی جماعت یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) کے ایک دھڑے نے بھی انہیں حمایت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

عرب جماعت رعم کے رہنما منصور عباس نے جمعرات کو گاڈی آئزن کوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کی جماعت کے پاس آٹھ نشستیں ہیں۔ اس موقع پر عباس نے دو ریاستی حل (اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے حماس سمیت تمام مسلح اور فوجی تنظیموں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا۔ رعم جماعت اس سے پہلے بھی نفتالی بینیٹ کی قیادت میں قائم حکومت کی بیرونی حمایت کر چکی ہے۔

11 نشستوں والی دوسری بڑی عرب سیاسی جماعت جوائنٹ لسٹ نے بھی آئزن کوٹ کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے اپنے اس فیصلے کو نیتن یاہو حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے ’خراب اور بہت خراب‘ متبادل میں سے ایک انتخاب قرار دیا ہے۔ جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے کہا کہ ان کے وفد کا فیصلہ عرب ووٹروں کی تبدیلی کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں عرب شہریوں کو نسل پرستی، امتیازی سلوک، جرائم اور سیاسی و سماجی محرومی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کے پاس 53 نشستیں ہیں لیکن انہیں تمام 53 ارکانِ پارلیمان کی حمایت ملنے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ یونائیٹڈ توراہ جوڈازم (یو ٹی جے) کی سات نشستوں میں سے چار نشستوں کی نمائندگی کرنے والے دھڑے ڈیگل ہاتورہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کی حمایت نہیں کرے گا۔