کرپشن کا کمبل اوردعوے

اندر کی خبر لانے کا دعویٰ کرنے والے مخبرانِ کرام یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کرپشن کے خلاف علم اُٹھا لیا ہے اور اب پنجاب میں کوئی کرپٹ افسر چاہے وہ کسی بھی محکمے کا ہو بچ نہیں سکے گا۔ست بسم اللہ جی، اندھے کو اور کیا چاہئے، دو آنکھیں اور بھوکے کو کیا چاہئے،دو روٹیاں۔

ایسی خبریں جھوٹی بھی ہوں تو کچھ وقت کے لئے دِل خوش ہو جاتا ہے۔ ہمیں تو یہ خبر بھی خوش کر دیتی ہے کہ وزیراعلیٰ کے اس حکم کی وجہ سے افسروں میں خوف پھیل گیا ہے۔ اس ملک میں سب سے بڑی بریکنگ نیوز بنتی بھی یہی ہے کہ افسر خوفزدہ ہو گئے ہیں،وگرنہ یہ مخلوق تو صرف خوف پھیلانے کے لئے رکھی گئی ہے۔ ایک سابق خاتون ڈی سی کے خلاف انکوائری کی خبر آئی تو ایک سراسیمگی اور حیرت نے جنم لیا ہے۔ابھی کل ہی مَیں پاکستان  انڈمنسٹریٹو سروس(پی اے ایس) کی ایک پریس ریلیز دیکھ رہا تھا، جس میں اِس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ بلاثبوت کسی افسر کے خلاف کارروائی یا خبر جاری کرنے سے اس سروس کے افسروں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔ یعنی اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ سی ایس پی افسروں کو یہ بھی گوارا نہیں کہ حکومت نے اگر کسی کرپشن کا نوٹس لیا ہے تو اُس میں ملوث کسی افسر کا نام تک نہ لیا جائے۔

 سیاستدان چاہے کچھ کریں یا نہ کریں انہیں صبح و شام رگیدا جائے، کسی کو کوئی پرواہ  نہیں مگر دودھ کے دھلوں کی طرف انگلی اٹھانا بھی ایک گناہ ہے،اس لئے احتیاط کی جائے۔یہاں تو یہ حال ہے کہ ایک وفاقی وزیر پنجاب میں کرپشن سے بھری الماریوں کے انکشاف کر دیتا ہے مگر ثبوت نہیں دیتا اور کہتا ہے بھائیو بتا دیا ہے، اب تم خود ہی ڈھونڈ لو۔ ویسے میں نے بہت عرصے سے اب یہ رویہ اپنا رکھا ہے کہ کسی کی کرپشن بارے کوئی بات کرے تو سنتا ہی نہیں ہوں۔ یعنی صبر و ضبط کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ نصف صدی گزر نے کو ہے صحافت کرتے کرتے، کب یہ بات نہیں سنی کہ ملک میں کرپشن ہو رہی ہے۔ یہاں تو کرپشن کی وجہ سے حکومتیں برطرف ہوتی رہی ہیں۔ کسی افسر کی کارکردگی کو دیکھنا تو گوارا نہیں کرتے البتہ یہ الزام پہلے لگاتے ہیں کہ وہ لوٹ کر گیا ہے۔نہ کبھی سزا ہوتی ہے اور نہ ہی کرپشن ختم ہوتی ہے۔ پھر اس طوق کے ڈھول کو گلے میں ڈال کے بجانے کا فائدہ کیا ہے۔ مملکت ِ پاکستان میں کس حکومت یا کس خاندان کی کرپشن کے حوالے سے کہانیاں  بلکہ بڑی بڑی داستانیں نہیں سنائی گئیں۔

جہاں تک وطن عزیز میں کرپشن کا تعلق ہے وہ ہمیشہ دو طرح کی رہی ہے۔ایک کرپشن وہ ہے جو حکومتی منصوبوں میں کی جاتی ہے، اربوں روپے کے منصوبوں میں کک بیک اور کرپشن کی شکایات ہر دور میں عام رہی ہیں۔یہ کرپشن سیاستدانوں کی سطح پر بھی ہوتی ہے اور افسروں کی سطح پر بھی۔ موجودہ پنجاب حکومت کے دور میں البتہ یہ ہوا کہ منصوبے منظور ہو  کر سرکاری افسروں کے ذریعے مکمل کرائے جاتے رہے۔ سیاستدان حتیٰ کہ حکومت سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی بے خبر رہے۔اس کے خلاف آوازیں بھی اٹھیں مگر صدا بصحرا ثابت ہوئیں۔ افسروں کو جتنا بااختیار اور طاقتور اِس دور میں بنایا گیا ہے پہلے کبھی نہیں تھے۔ پہلی بار یہ بھی ہوا کہ مریم نواز نے لاہور سے باہر بھی ترقیاتی منصوبے دیئے۔ گجرات کو اتنے زیادہ فنڈز دے دیئے کہ خود گجراتی حیرت سے انگشت بدنداں رہ گئے۔ چودھری خاندان کو شاید اپنی کم مائیگی کا احساس بھی اسی لئے ہوا کہ اربوں روپے کے ترقیات منصوبے اُن کی دسترس سے باہر کیوں رکھے گئے۔

درمیان میں بات ڈپٹی کمشنر اپنی مرضی کا لگانے کی بھی آئی جس کا جواب چودھری سالک نے یہ دیا کہ وہ اپنی پسند کا ڈپٹی کمشنر نہیں لگوانا چاہتے تھے بلکہ یہ چاہتے تھے کہ اتنے بڑے میگا پراجیکٹس کیلئے کوئی تجربہ کار ڈی سی ہونا چاہئے۔گویا وہ یہ تو مان گئے کہ گجرات کو میگا پراجیکٹس دیئے گیے ہیں البتہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ تجربہ کار ڈپٹی کمشنر کسے سمجھتے ہیں۔ گجرات جیسے اضلاع میں ہمیشہ 18ویں یا زیادہ سے زیادہ 19ویں گریڈ کا سی ایس ایس افسر ڈپٹی کمشنر لگتا ہے۔ جتنا دوسرے افسروں کا تجربہ ہوتا ہے اتنا ہی ہر تعینات ہونے والے افسر کے پاس ہوتا ہے، سوائے پسند نہ پسند کے اور کوئی فرق نہیں۔ تو اس صورت میں ڈی سی بدلوانے کی خواہش کیا معنی رکھتی ہے۔ خیر یہ تو اب ذرا اوپر کا معاملہ بن گیا ہے۔ شاید عدالت میں بھی جائے۔ تاہم میں یہ سوچ رہا ہوں اگر واقعی پنجاب میں کرپشن کے خلاف کوئی لہر آنے والی ہے اور پنجاب حکومت نے عزم کر لیا ہے میں تو اگر مگر کے بغیر اُس کی حمایت کرتا  ہوں۔یہ تو ایک بڑا جہاد ہو گا۔ کرپشن کی دیمک نے تو ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ نہ صرف قومی خزانے سے مختلف منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم کے ایک ایک پیسے کا حساب ہو،بلکہ کرپشن کی جو گنگا سرکاری دفاتر میں بہہ رہی ہے اُس کے ذمہ داروں کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونا چاہئے۔

مریم نواز جس طرح پورے اختیارات کے ساتھ وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالے ہوئے ہیں،اگر وہ یہ معجزہ دکھانے میں کامیاب رہتی ہیں کہ پنجاب کرپشن فری صوبہ بن جائے تو اُن کی سیاسی قدر و منزلت میں یقینا ً اضافہ ہو گا۔یہ آسان کام ہر گز نہیں ہے، ویسے بھی پنجاب میں ہمیشہ یہ تاثر رہا ہے کہ بیورو کریسی مسلم لیگ(ن) کے دور میں خود کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتی ہے۔ کہیں رشتہ داریاں اور کہیں سیاسی چھتر چھاؤں انہیں اچھی پوسٹنگ بھی دلاتی ہے اور برے وقت سے بھی بچاتی ہے۔اگر پاکستان ایڈمنسٹریٹر سروس کو افسروں کے خلاف کارروائیوں کے امکانات پر پریس ریلیز جاری کرنا پڑ گیا ہے تو اس میں عقل والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔کہیں کوئی تپش ضرور محسوس ہو رہی ہے۔ ہاں اُن کی اِس بات پر توجہ دی جانی چاہئے کہ کسی کو پسند نا پسند کی وجہ سے نشانہ نہ بنایا جائے۔

 افسروں کو بھی سوچنا چاہئے کہ زمانہ بدل گیا ہے۔اب عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھنے کا دور نہیں رہا۔ کچھ کر کے دکھائیں تاکہ عوام کے دِلوں میں بھی اُن کے لئے نفرت میں کمی اور محبت میں اضافہ ہو۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)