کیا بلاول بھٹو قومی مصالحت کار بن سکتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 07 / نومبر / 2026
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز لاڑکانہ میں تقریر کرتے ہوئے قومی سیاست کے بارے میں اہم باتیں کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو دوسری پارٹیوں کے ساتھ تنازعات میں وقت اور صلاحیت ضائع کرنے کی بجائے سیاسی مصالحت کے لیے کام کرنے اور معیشت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عام شہریوں کی معاشی مشکلات کم ہوسکیں۔
بلاول بھٹو نے بیک وقت حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کو ساتھ لے کر چلنے کا تاثر دیا ہے۔ وہ ایک طرف حکومت کو ملک میں سیاسی تصادم ختم کرنے کا پیغام دے رہے ہیں تو دوسری طرف انہوں نے تحریک انصاف سے کہا ہے کہ جب تک وہ پارلیمانی نظام کا حصہ نہیں بنیں گے ، اس کی کارروائیوں میں شراکت دار نہیں ہوں گے اور بائیکاٹ کی سیاست سے گریز نہیں کریں گے ، اس وقت تک انتخابی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر ان کی رائے سامنے نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کی تجویز قبول کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ پیپلز پارٹی نے تجویز دی ہے کہ اپوزیشن کے نمائندوں کو بھی مکمل تعداد میں اس کمیٹی کا حصہ بنایا جائے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر اپوزیشن کو انتخابات میں دھاندلی سے متعلق شکایات ہیں تو ان کے ازالے کے لیے بہترین فورم یہی پارلیمانی کمیٹی ہے ،جہاں سب معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کو مضبوط اور فعال بنانا تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ اس بات کی حامی رہی ہے کہ قومی معاملات کے فیصلے پارلیمان کے ذریعے ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری نے اگرچہ اس تقریر میں ملک میں سیاسی مصالحت کا ماحول پیدا کرنے اور اس میں بالواسطہ طور سے پیپلز پارٹی کے کردار کا ذکر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ جمہوری روایت اور پارلیمانی طاقت پر یقین رکھتی ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو بھی اس دھارے میں لاکر قومی مسائل حل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم اس بیان میں نہ تو پیپلز پارٹی کا کردار واضح ہوتا ہے اور نہ ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ کیابلاول بھٹو تحریک انصاف کو مستقبل میں انصاف پر مبنی نظام کی تشکیل میں پیپلز پارٹی کی معاونت کا یقین دلارہے ہیں ۔اور اسے انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کے ذریعے اس تعاون پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ تقریر اگرچہ کسی حد تک بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے ملکی سیاست میں پیپلز پارٹی کو ایک مثبت متبادل سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ضرور ہے لیکن ان کی باتوں میں موجود تضادات اور اہم تنازعات پر کوئی واضح مؤقف اختیار کیے بغیر مصالحت کی باتیں اسے ایک سیاسی تقریر سے زیادہ اہم بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
ملک میں سیاسی اختلافات کا سب سے بنیادی پہلو قومی سیاست میں تحریک انصاف کی سیاسی اہمیت سے انکار کا معاملہ ہے۔ پارٹی کو قومی اسمبلی میں 80 کے لگ بھگ نشستیں حاصل ہیں لیکن قانونی موشگافیوں کا سہارا لے کر الیکشن کمیشن نے انہیں آزاد ارکان قرار دیا ہے۔ حکمران پارٹی کے علاوہ پیپلز پارٹی نے بھی اس یک طرفہ اور ناانصافی پرمشتمل طریقے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروانا مناسب نہیں سمجھا۔ اسی بنیاد پر جب تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کو دیگر پارٹیوں میں تقسیم کرنے کا سوال سامنے آیا تو پیپلزپارٹی نے بھی اپنا حصہ وصول کیا اور کسی اخلاقی جواز یا قانونی حق کے بغیر ان نشستوں پر اپنے امید واروں کو کامیاب کرا لیا جن پر تحریک انصاف کا استحقاق تھا۔ اس طرح قومی پارلیمانی سیاست میں پیدا ہونے والی بداعتمادی صرف مسلم لیگ (ن) تک محدود نہیں رہی بلکہ پیپلز پارٹی نےبھی پارلیمانی سیاست میں جانبداری کا مظاہرہ کیا اور تحریک انصاف کو جائز حق سے محروم کرنے کے عمل کا حصہ بنی۔ پیپلز پارٹی نہ صرف شہباز شریف کی حکومت کو پارلیمانی سہارا فراہم کرتی ہے بلکہ صدارت سمیت اہم آئینی عہدے وصول کرکے اس نے اپنی سیاسی جانبداری کا برملا اعتراف بھی کیا ہے۔ اس صورت حال میں تحریک انصاف یاکوئی بھی پارٹی بلاول بھٹو کی باتوں پر یقین نہیں کرے گی۔
ایک طرف بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ کی بالا دستی کا دعویٰ کرتے ہیں اور تحریک انصاف کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ یہ عمل مضبوط کرنےمیں کردار ادا کرے۔ لیکن دوسری طرف پیپلزپارٹی ایسی تمام آئینی ترامیم اور قانون سازی کا حصہ رہی ہے جس نے پارلیمنٹ کی حیثیت کے علاوہ عدلیہ کی آزادی پر کمپرومائز کیا ہے۔ 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کے بعد ملک میں سیاسی انصاف کا حصول مشکل بنایا گیا ہے اور عدلیہ پر سیاسی کنٹرول مضبوط ہؤا ہے۔ تحریک انصاف ان ترامیم کی مخالف رہی ہے اور انہی تبدیلیوں کی وجہ سے اسے اعلیٰ عدلیہ سے انصاف نہ ملنے کی شکایات بھی پیدا ہوئی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس عمل میں حکومت کا ساتھ دیا اور تحریک انصاف کی شکایات سننے یا اس کے ساتھ مفاہمت کا کوئی فارمولا تیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بظاہر موجودہ حکومت کے ساتھ اختلافات کا اظہار تو کرتی رہتی ہے اور بعض مراحل پر یہ بھی لگتا ہے کہ وہ موجودہ نظام کو سہارا دینے سے گریز کرے گی لیکن اس کے باوجود ہر متنازعہ قانون سازی یا فیصلہ میں وہ حکومت کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ اس میں تازہ ترین فیصلہ خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی و گورنر راج لگانے سے متعلق ہے۔ اس فیصلہ سے ایک صوبے کی جمہوری حکومت ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ تحریک انصاف کی سیاسی طاقت زائل کرنے کی مؤثر کوشش کی گئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی اس عمل کا حصہ رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ کی تقریر میں بھی اس طریقہ کار کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ اگر تحریک انصاف خیبرپختون خوا میں دہشت گردی کے معاملہ پر وفاقی حکومت سے اتفاق رائے کے فارمولے پر اتفاق کرلے تو وہ گورنر راج کی مخالفت کرنے والے پہلے شخص ہوں گے۔ یہ دعویٰ بجائے خود تضاد بیانی کا شاہکار ہے۔ ایک تو اگر تحریک انصاف اور حکمران جماعت کسی فارمولے پر متفق ہوجائیں تو پیپلز پارٹی کاکردار اس میں غیر ضروری ہوگا۔ دوسرے بلاول بھٹو یہ واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ کیا دہشت گردی سمیت کسی اہم معاملہ پر وفاقی حکومت سے اختلاف اتنا بڑا جرم ہے کہ اس صوبے کی منتخب حکومت ختم کردی جائے؟ بلاول بھٹو زرداری یہ بتانے میں بھی ناکام رہے ہیں کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے۔ اور پیپلز پارٹی کن بنیادوں پر تحریک انصاف کو ایک ایسی وفاقی حکومت سے مصالحت کا مشورہ دے رہے ہیں جو اس کی صوبائی حکومت ختم کرکے صوبے کے معاملات و اختیارات اپنے ہاتھ میں لے چکی ہے۔
بلاول بھٹو کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ ملک کے داخلی مسائل حل کرانے پر زور دیتے ہیں اور حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ تحریک انصاف اور مولانا فضل الرحمان سے لڑنے کی بجائے عوام کی سہولت کے لیے کام کرے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ان اختلافات کو دور کرانے کا کوئی فارمولا پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نہ ہی وہ پیپلز پارٹی کا کوئی ایساکردار واضح کرسکے ہیں جس میں اسے غیر جانبدار سیاسی قوت مان کر بلاول بھٹو زرادری کو قومی مصالحت کار کا مقام حاصل ہوجائے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کے بارے میں پیپلز پارٹی کے چئیرمین کی خواہش برملا ہے لیکن یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تمام پارٹیاں سیاسی معاملات میں عسکری قیادت کی مداخلت ختم کرنے کے سوال پر متفق نہ ہوں۔ لیکن پیپلز پارٹی موجودہ ہائبرڈ نظام میں شراکت دار بھی ہے اور اس کے ’استحکام‘ کی ضامن بھی بنی ہوئی ہے۔ اس صورت حال میں کسی ایسی پارٹی کے سربراہ کی طرف سے پارلیمانی طاقت و انتخابی اصلاحات کی باتوں پر کیسے یقین کیا جائے جو خود اس نظام کی وجہ سے سیاسی قوت حاصل کرکے مطمئن و شاداں ہے۔
پاکستان میں سیاسی تصادم اور داخلی تنازعات حل کرنے کے لیے سیاسی پارٹیوں میں عدم اعتماد کا خاتمہ ضروری ہے۔ تحریک انصاف کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے اسے کچھ بنیادی سہولتیں دینا اہم ہوگا۔ جن میں عمران خان سمیت تمام سیاسی لیڈروں پر ناجائز طور سے قائم کیے گئے مقدمات کی واپسی اور سیاسی آزادی کا ماحول فراہم کرنا اہم ہوسکتا ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی طرح پیپلز پارٹی کو بھی اندیشہ ہے کہ ایسی صورت میں اس کی اپنی سیاسی حیثیت چیلنج ہوگی۔ اسی لیے وہ بھی تحریک انصاف کی طرف سے عمران خا ن کے لیے سہولتوں کی باتوں کو نظر انداز کرکے، پیچیدہ سیاسی و پارلیمانی معاملات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کررہی ہے۔ تاہم اس سے بلاول بھٹو زرداری کو بڑا لیڈر بننے کا موقع نہیں ملے گا۔