خیبر پختونخوا میں خفیہ انسداد دہشت گردی عدالتیں قائم کرنے کا منصوبہ
خیبر پختونخوا کی صوبائی انتظامیہ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں گواہوں، پراسیکیوٹرز اور ججوں کے تحفظ کے لیے خفیہ انسداد دہشت گردی عدالتوں کا قیام بھی شامل ہے۔
صوبائی سیکریٹری داخلہ امجد علی خان نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں گواہ اپنی شناخت ظاہر ہونے اور ممکنہ انتقامی کارروائیوں کے خوف سے عدالتوں میں پیش ہونے سے گریز کرتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ قانونی ترمیم بھیجی جا چکی ہے، جس کے تحت گواہوں کے علاوہ ججوں اور سرکاری وکلا کو بھی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
انتظامیہ نے پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے کے لیے سالانہ 70 ارب روپے مختص کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس میں پولیس کے لیے 59.8 ارب روپے اور سی ٹی ڈی کے لیے 10.3 ارب روپے شامل ہیں۔ رقم کا بڑا حصہ جدید اسلحے، آلات، نگرانی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خرچ ہوگا۔
حکام کے مطابق پولیس میں 10 ہزار سے زائد اہلکاروں کی کمی ہے جبکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں سیکیورٹی کے لیے بجٹ کا صرف 3.2 فیصد مختص ہے۔ ان علاقوں میں پولیس کا انحصار بڑی حد تک سابقہ فاٹا کے خاصہ داروں اور لیویز اہلکاروں پر ہے، جنہیں مطلوبہ تربیت اور سہولیات بھی حاصل نہیں ہیں۔
دہشت گردوں کی ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور بنوں میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیے جائیں گے۔ پولیس اسٹیشنوں اور چیک پوسٹوں کو مضبوط بنانے، سیف سٹی منصوبے کو وسعت دینے اور دس اضلاع میں ڈسٹرکٹ نیورو سینٹرز قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے نگرانی کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔
حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلح افواج کے 1,003، پولیس کے 627 اہلکار شہید ہوئے جبکہ 808 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔
اس کے علاوہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کرنے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو گرفتار کرنے، مشتبہ افراد کی دوبارہ تصدیق، پولیس کی ریپڈ رسپانس فورس کو فعال بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔ قبائلی عمائدین کے ساتھ جرگوں اور عوامی رابطوں کے ذریعے مقامی آبادی کا اعتماد حاصل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
بریفنگ کے موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی قیادت کی مکمل سرپرستی اور حمایت حاصل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی میں سیاسی سطح پر اس جنگ کی ذمہ داری قبول کرنے میں کمی رہی اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے اسے اپنی جنگ تسلیم کرنے سے گریز کیا جاتا رہا۔
گورنر نے واضح کیا کہ جو عناصر ریاست، آئین اور قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں، ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے بلکہ ان کا جواب اسی مناسبت سے دیا جائے گا۔