حیف
- جمعرات 29 / اگست / 2013
- 7013
کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کے مطالبے کے بعد شہر میں ایک مربوط آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں کا تعلق ایم کیو ایم سمیت متعدد سیاسی گروہوں سے ہے۔ سپریم کورٹ اور وزیر داخلہ یکساں طور پر یہ تقاضہ کر رہے ہیں کہ شہر میں امن و امان کی بحالی کیلئے بلاتفریق جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
کل جو گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں متحدہ قومی موومنٹ اس پر سیخ پا ہے۔ حالانکہ یہ اقدام جرائم کے سمندر سے ایک قطرہ اچکنے کے مترادف بھی نہیں ہے۔ تاہم قائد تحریک الطاف حسین نے فوری طور پر یہ بیان دینا ضروری سمجھا کہ متحدہ کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ حیرت ہے کہ الطاف حسین ایک روز قبل اسی ریاست کی سب سے بڑی اور مؤثر قوت کو کراچی کا انتظام سنبھالنے کی دعوت دے رہے تھے۔ اب وہ رینجرز کے اقدام پر کیوں کر اس قدر سیخ پا ہو سکتے ہیں۔
وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز کراچی کی صورت حال کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دو اہم نکات بیان کئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل یہ یقین رکھتے ہیں کہ کراچی میں امن بحال کیا جا سکتاہے۔ البتہ وہ یہ تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ گزشتہ 5 برس کے دوران رینجرز کو کراچی میں مکمل اختیار حاصل رہا ہے۔ پھر وہ امن و امان کے حوالے سے کامیابی حاصل کیوں نہیں کر سکے۔ اس کے برعکس رینجرز کی زیادتیوں اور بدعنوانیوں کی خبریں ضرور سامنے آتی رہی ہیں۔ کراچی میں گزشتہ 15 برس سے سیاسی گروہوں، شخصیات، جرائم پیشہ عناصر اور امن و امان کے ذمہ دار اداروں کے درمیان جو کھچڑی پکتی رہی ہے، اس کے نتیجے میں کراچی کا ہر گھر سوگوار اور ہراساں ہے۔ کوئی ذمہ دار ریاست یہ صورت حال برداشت نہیں کر سکتی۔ البتہ اب تک پاکستان کی حکومت نے اس فقید المثال قوتِ برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ سرکاری مشینری کے ہر حصے کا شہر کی صورت حال خراب کرنے میں حصہ بھی ہے اور شاید فائدہ بھی۔
چوہدری نثار علی خان کو بلاشبہ ملک میں امن و امان نافذ کرنے والے اداروں پر اعتبار کا اظہار کرنا چاہئے لیکن ان اداروں کی جوابدہی بھی وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے۔ رینجرز اگر گزشتہ کئی برس کے دوران کراچی میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو اس کی کوئی وجہ ضرور ہو گی۔ اور اس وجہ کو جانے بغیر اور بیان کئے بغیر یہ توقع کرنا کہ محض ڈی جی رینجرز کے پراعتماد جواب اور وزیر داخلہ کے معصومانہ اقرار کے بعد صورت حال قابو میں آ جائے گی، ایک بے سود کوشش قرار پائے گی۔
البتہ رینجرز اور پولیس کی ناکامی کی وجہ کے بارے میں چوہدری نثار علی خان کے بیان کا دوسرا حصہ صورت حال واضح کرنے کی کوشش ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کا مسئلہ صرف اس وقت حل ہو سکتا ہے جب اس میں سیاست آڑے نہیں آئے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔ کراچی کی صورت حال بہتر بنانے کیلئے ایمان داری کی ضرورت ہے۔
یہ ایمانداری کراچی کے معاملات میں عنقا ہے۔ سپریم کورٹ ایک بار پھر کراچی میں امن و امان کے صورت حال کے حوالے سے معاملہ پر غور کر رہی ہے۔ آج بھی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے چیف سیکریٹری کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ اس حوالے سے ایک فیصلہ میں کراچی میں امن بحال کرنے کے لئے کئی تجاویز دے چکی ہے۔ بدنصیبی سے عدالت عالیہ کے کسی حکم پر عمل نہیں ہو سکا۔ گزشتہ حکومت نے سپریم کورٹ کے ساتھ ضد کا رشتہ قائم کیا ہوا تھا۔ نئی وفاقی حکومت گو کہ عدالت عالیہ کی فرماں برداری کا دم بھرتی ہے لیکن سندھ میں عدالت مخالف اور مسلم لیگ (ن) مخالف، پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ اگر سول ڈھانچے میں کراچی کا امن بحال ہونا ہے تو سندھ کی حکومت کو ہی اقدام کرنا ہو گا۔ اس سلسلہ میں سپریم کورٹ اور وفاقی حکومت دونوں بے بس تماشائی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔
حیرت ہے یہ سب جاننے کے باوجود سپریم کورٹ سیاسی نوعیت کے مقدمات کی سماعت پوری سرگرمی سے کرتی ہے۔ دوران سماعت بے بس اعلیٰ افسران کو بلا کر عاجز کیا جاتا ہے اور ریمارکس کے نام پر ایسی باتیں کی جاتی ہیں جو ٹیلی ویژن خبروں میں بریکنگ نیوز اور تبصروں کی بنیاد بنتی ہیں۔
اگر ریمارکس، تبصروں، مباحث اور بیانات سے کراچی یا پاکستان کا مسئلہ حل ہو سکتا تو اب تک کراچی جیسے دسیوں شہروں میں سکون اور اطمینان بحال ہو جاتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیانات اور تبصرے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر رہے ہیں۔ میڈیا کے قدآور اینکرز اور نامی گرامی صحافیوں کو بھی اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ کراچی کے بڑے سیاسی گروہ آپس میں بیٹھ کر یہ طے کر لیں کہ انہوں نے جرائم پیشہ عناصر کو پارٹی وفاداری کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرنا ہے یا ان کی ہمدردی شہر کے ڈیڑھ کروڑ بے بس اور مظلوم عوام کے ساتھ ہے۔ اس قسم کا اتفاق رائے سامنے آئے بغیر کراچی میں امن کی بحالی کسی سویلین سیاسی نظام کے بس کی بات نہیں ہے۔
صورت حال کا یہ پہلو خاص طور پر قابل غور ہے۔ اگر کراچی کی حد تک یہ طے ہو گیا کہ سول نظام اور سیاسی قوتیں امن و امان بحال کرنے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی ہیں تو یہ اصول بھی طے ہو جائے گا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ملک میں جمہوریت کے فروغ اور جمہور کے تحفظ کی اہل نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں جو نتائج سامنے آئیں گے وہ ایک نئے المناک باب کا پیش لفظ ہوں گے۔ اور اس باب کے آخر کا لکھا آپ سابقہ ابواب کی روشنی میں پڑھ سکتے ہیں۔
اس کے باوجود فی الوقت متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کے رویہ سے جو بات سامنے آئی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ ملک کی سیاسی قوتیں بلوغت کی منزل سے کوسوں دور ہیں۔ الطاف حسین حالات کو کراچی کے عوام کے آلام کے تناظر کی بجائے ملک کی سیاست میں ایم کیو ایم کی توقعات، امیدوں اور خوابوں کی روشنی میں دیکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ الطاف حسین کراچی میں امن کی بحالی سے زیادہ شہر میں اپنی قوت بحال رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ جب برطانوی قانون کا شکنجہ ان کی گردن کی طرف بڑھے تو کراچی کی گلیاں آگ اور خون سے گلنار ہو سکیں۔
یہ ایک پیچیدہ اور بہت ہی مشکل صورت حال ہے۔ چوہدری نثار علی خان، سپریم کورٹ، رینجرز اور سندھ کی حکومت اس کا پوری طرح ادراک رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا مزید چند برس اسے مستقل بیانوں، ریمارکس، وعدوں اور دعووں کیلئے استعمال کیا جائےگا یا کوئی سیاسی پارٹی کبھی ایمانداری کو اپنا شیوہ بھی بنا سکے گی۔
سیاسی پارٹیوں کی خود فریبی ہی ماضی میں ان کے پائوں کی زنجیر اور گلے کا پھندہ بنتی رہی ہے۔ حیف ابھی تک تو کسی نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔