عزم

عزم وہ جو قائم رہے۔
استقلال نے خاموشی سے ساری بات سنی اور اس کے بعد اپنا بیگ کھولنا شروع کیا۔
وہ سب اس کے گرد جمع تھے۔ استقلال کی خاموشی اور پراسرار سکون ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ اس اطمینان کو وہ اپنی توہین سمجھے اور انہوں نے واویلا شروع کردیا!
یہ کیا بات ہوئی۔
کیا تم کو شرم نہیں آتی۔
ہم نے کہا ناکہ یہاں رہنا تمہارا حق نہیں ہے۔
اب جو تم یہ سامان کھول رہے ہو اس کا کیا مطلب ہے۔
یہ سب کچھ اُٹھاؤ اور نکلو یہاں سے۔
چند نوجوانوں نے عجیب وغریب شکلیں بنائیں۔ ایک نے راگ الاپنا شروع کیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ گلا پھاڑ کر ایک خوفناک چیخ برآمد کرتے اور پھر ہو ہو ہے ہے کے شور میں اضافہ کرتے۔
باقی سارا مجمع اس گروہ کی بے ہنگم حرکتوں سے محظوظ ہورہا تھا۔ کچھ نے اس کا ساتھ دینے کی کوشش بھی کی۔
چند لڑکوں نے استقلال کا بیگ کھینچ کر اس کو پریشان کرنا چاہا۔ اس دوران استقلال اپنا سامان بیگ سے نکال چکا تھا۔ اس نے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ نوجوان بیگ کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
ایک شخص شور مچاتا ہوا مجمع چیر کر سامنے آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک قینچی تھی۔ اس نے پہلے اس کو ہوا میں لہرا کر استقلال کو دھمکانے کی کوشش کی۔ پھر اس نے قینچی میں بیگ کا اسٹریپ پکڑا۔
مجمع پر اچانک اضطراری کیفیت طاری ہوگئی
جیسے کچھ ہونے والا ہو۔ جیسے قینچی کا تیز پھل کپڑے اور چمڑے کے اسکریپ پر نہیں بلکہ استقلال کی گردن پر ہو۔
کاٹو
کاٹ ڈالو۔۔۔
ٹکڑے کردو
بھگاؤ
اس کو مارو
اب قینچی چلاؤ۔۔۔
سب اپنی اپنی بولی بول رہے تھے۔
استقلال مطمئن تھا۔ اس نے نظر اُٹھا کر کسی طرف دیکھا نہیں۔
اس نے اپنا سامان ترتیب دیا اور کپڑے جھاڑے اور ٹانگیں پسار دیں۔
جاؤ اب تم لوگ چلے جاؤ۔ یہ بے شرم ہے۔
نہیں اس کو ماردو۔۔۔ نہیں ایسا نہ بولو۔
اور کوئی آرہا ہے
پولیس ہے
شاید
چلو۔۔۔ ہو ہو ہو
جاؤ۔۔۔ آؤ
ایک دھماکہ اور شہر کا جگر ہل گیا۔
عین وسط میں وہ بلند عمارت نیچے گری۔
وہ جو قینچی لے کر اسٹریپ کاٹنے آیا تھا اس نے گھبرا کر نظر اُٹھائی استقلال ایک ادھیڑ عمر عورت کو زخمی حالت میں اُٹھائے ایمبولینس کی طرف بھاگ رہا تھا۔
قینچی پکڑنے والے ہاتھ شل سے ہوگئے اور اس کی نظریں جھک گئیں