بت
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 02 / مارچ / 2012
- 13166
وہ بتوں کو نہیں پوجتے تھے۔ وہ ایک الوہی طاقت کے ماننے والے اور ایک پروردگار پر یقین رکھتے تھے۔
لیکن وہ پھر بھی اس کو پوجتے تھے۔
اوہ۔۔۔
نہیں میرا مطلب ہے کہ وہ اسے توصیف وتعریف کی اس معراج پر رکھتے تھے جو پرستش سے زیادہ دور نہیں تھی۔
وہ بولتا تھا اور سب سنتے تھے۔
وہ جہاں کھڑا ہوتا ایک مجمع ہوتا۔
کہا جاتا تھا کہ اس کے منہ سے موتی جھڑتے ہیں اور اس کے لفظوں میں پھول مہکتے ہیں۔ وہ سچ بولتا تھا اور خوبصورت لفظ اس کا طرۂ امتیاز تھے لیکن وہ ان دلکش لفظوں میں دوسروں کا مکروہ چہرہ انہی کو دکھاتا تھا۔ یہی اس کی مقبولیت کا راز تھا۔
لوگ کہتے تھے کہ یہ گن صرف سچے اور سُچّے لوگوں میں ہی مل سکتے ہیں۔ اس میں یہ اوصاف بہ درجہ اُتم موجود تھے۔ کوئی وجہ تو تھی۔ اگر وہ کہتا کہ پہاڑ کے دوسری طرف کھائی نہیں وادی ہے تو سب مان لیتے۔ وہ کہتا کہ سرسبز وادی کے آخر میں بنجر میدان شروع ہوگا جس میں ببول ہوں گے۔ دھوپ پیاس اور تکلیف ہوگی۔ کوئی اس کی بات پر دلیل نہ کرتا۔
وہ کہتا اب یہ سبزہ اور شادابی ختم ہوتی ہے۔ یہ سراب ہے دکھاوا ہے۔ بناوٹ ہے۔ ڈھونگ ہے۔ ایک خول ہے۔
وہ سب کے خول اتارتا تھا۔ سب کا پول کھولتا تھا۔ سب کا سچ بتاتا تھا۔ وہ ان سب کو پسند تھا۔
وہ پوجا پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن وہ پوجا جاتا تھا۔
وہ اپنی اس قوت اور کرشمہ سے واقف تھا۔ وہ اس طاقت کو استعمال کرنا جانتا تھا۔ اس نے یہ صلاحیت پوری زندگی کی ریاضت سے حاصل کی تھی اور آج وہ اس مقام پر تھا اور اس کا خوب لطف اٹھاتا تھا۔
ابھی تھوڑی دیر میں اس کا شو شروع ہونے والا تھا۔ لوگ اکٹھے ہورہے تھے اور وہ تیار ہورہا تھا۔
باہر میدان بھر رہا تھا۔ لوگ بے چینی سے انتظار کررہے تھے۔
’’کیا کمال کی بات کرتے ہیں‘‘ مجمع میں شامل ہونے والے ایک شخص نے ہجوم کا حصہ بنتے ہوئے کہا۔
’’ہاں صاحب، اتنا سچ تو انسان خود اپنے آپ سے بھی نہیں بولتا‘‘
کسی دوسرے نے جواب دیا لیکن وہ کسی سے مخاطب نہیں تھا۔
’’ہم یہاں کیوں جمع ہیں‘‘ کسی نے عین وسط میں سینکڑوں لوگوں کے بیج حبس اور گھٹن سے نجات پانے کے لئے سوچا۔ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے اس نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے اپنے دماغ پر زور ڈالنے کی کوشش کی۔ اسے لگا کہ اس کا دماغ ماؤف ہے۔ اور سوچنے کے سارے دروازے بند ہیں۔ پھر اس نے یہی سوال ایک دوسرے زاویئے سے دیکھنے کی کوشش کی۔
’’کیا یہاں جمع سب دوسرے لوگ بھی اسی طرح محسوس کرتے اور سوچتے ہیں؟‘‘
اس انہونی سوچ پر وہ کانپ ساگیا۔ اسے لگا کہ اگر کسی نے یہ گناہ آلودہ خیال اس کے چہرے پر پڑھ لیا تو سب اس کے پرخچے اڑا دیں گے۔
گھبراہٹ میں اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ گھٹن اور گھبراہٹ میں اضافہ ہورہا تھا۔ اس کی سانس رک رہی تھی اور وہ بے بس تھا۔
میدان کے اس پار اس قلعہ نما حویلی میں وہ مقید تھا۔
وہ بت نہیں تھا مگر پوجا جاتا تھا۔ وہ سچا نہیں تھا مگر مانا جاتا تھا۔ وہ سراب تھا مگر حقیقت کا روپ لئے ہوئے تھا۔
شو کا وقت قریب آرہا تھا۔ اور وہ بدحواسی اور غصے میں کانپ رہا تھا۔ نوکروں کی فوج اس کے مطالبے پورے کرنے کے لئے بھاگ دوڑ رہی تھی۔ سفید کوٹ مل گیا تھا لیکن نیلا سکارف نہیں مل رہا تھا۔
’’دیکھو اس قمیص کی استری درست نہیں ہے‘‘ اس نے کریم کلر کی قمیص سیاہ رنگ کے ملازم کے منہ پر دے ماری۔
’’جیسی تمہاری شکل بھدی ہے، تمہارے کام اس سے بھی زیادہ بدنما ہیں۔‘‘ وہ چلایا۔
اس کی آواز بھدی اور آنکھیں غضبناک تھیں۔ شو کا وقت قریب آرہا تھا اور وہ نروس تھا۔ وہ جو پوجا جاتا تھا۔
وہ جو سنا جاتا تھا۔
وہ جو مانا جاتا تھا۔
وہ جو سچ بولتا تھا اور جس کے منہ سے پھول جھڑتے تھے۔
وہ اونچی دیواروں کے پیچھے ایئرکنڈیشنڈ محل میں نوکروں کی فوج کے بیچ ایک دیوانے کی طرح رنگ، خوشبو، کاجل اور ہیئرکلر کا انتخاب کررہا تھا۔
لوگ جمع ہورہے تھے۔ تعداد کے ساتھ گرمی اور گھٹن میں اضافہ ہورہا تھا۔
پریشانی کی کیا بات ہے۔
وہ ابھی آتے ہی ہوں گے۔
وہ جو گھٹن اور پریشانی کو دور کردیتا ہے۔