مکالمہ
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 10 / مارچ / 2012
- 12134
’’یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔
اور ان غلطیوں کی سزا مجھے بھگتنی پڑے گی۔ تم تو مروگےہی لیکن تمہاری نادانیوں کی وجہ سے میں بھی مارا جاؤں گا‘‘
میرا دوست بدحواس دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے بال کھڑے تھے اور چہرے کی جھریاں مزید گہری ہوگئی تھیں۔ آنکھوں کے گرد حلقے سیاہ اور بھیانک لگ رہے تھے۔ اس نے مجھے گھورا اور پھر گویا ہوا۔
’’یہ نظام اور یہ ملک انہوں نے صدیوں کی محنت کے بعد تعمیر کئے ہیں۔ یہ لوگ اتنی آسانی سے اسے تباہ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے اس نظام کو پانے کے لئے صدیوں جنگ کی ہے اور سینکڑوں لوگوں کی قربانی دی ہے۔ ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس نظام کو نقصان پہنچائیں۔ ہمیں یہاں رہنا ہے تو ان جیسا بن کر رہنا ہوگا۔ ہم ان کو تبدیل کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ ہمیں ہی تبدیل ہونا پڑے گا۔‘‘
’’مگر ایک معاشرے میں رہتے ہوئے تبدیلی تو سب کو قبول کرنا پڑتی ہے۔ یہ انسانی مزاج کا حصہ ہے۔‘‘
’’نہیں یہ تبدیل نہیں ہوں گے اور کیوں ہوں؟ ہمیں ہی تبدیل ہونا چاہئے اور ہونا پڑے گا۔ یہاں ہمیں کس نے دعوت دے کر نہیں بلایا تھا۔ ہم خود اپنی مرضی سے یہاں آئے ہیں۔ اب ان اصولوں اور رواجوں کو ماننا ہماری ذمہ داری ہے جو ان معاشروں کی شناخت ہیں۔ ہمیں ان پر جنگ مسلط کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔‘‘
وہ ہر لفظ پر زور دے کر ادا کررہا تھا۔ مکالمے کے سارے راستے بند کرکے منزل کا واحد راستہ خود اس کی رہنمائی میں ہی طے کیا جاسکتا تھا۔ اسے قبول کرنا قدرے مشکل تھا۔ میں نے کہا:
’’جنگ مسلط کرنا کوئی اچھی بات نہیں۔ بعض انتہا پسند ایسی حرکتوں میں ملوث ہیں۔ ہم سب کو مل کر ان سے نمٹنا ہوگا۔ پھر یہ جنگ ایک طرفہ نہیں۔ اس کی کئی جہتیں اور بہت طویل تاریخ ہے۔ ہم یہاں آئے ضرور ہیں لیکن انہوں نے بھی اپنی ضرورت کے تحت ہی ہمیں قبول کیا ہے ورنہ ہمارے ملکوں میں بھوک اور احتیاج ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی سفر کے متمنی لوگوں کی۔۔۔‘‘
’’تاریخ کی بات چھوڑو‘‘ اس نے میری بات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا۔ ’’ماضی میں اگر کوئی زیادتیاں ہوئی ہیں تو وہ گزرا وقت ہے۔ اب یہ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’لیکن یہ عراق۔۔۔ افغانستان اور۔۔۔‘‘
’’اس نے پھر میری بات کو اچک لیا‘‘
’’یہ مغربی طاقتیں جمہوریت اور امن کی پیامبر ہیں۔ انتہا پسند ہم ہیں۔ تلوار ہم نے اٹھا رکھی ہے۔ اگر ہمیں یہاں کا نظام قبول نہیں تو اپنا اسباب سمیٹو اور نکلو یہاں سے۔ تم لوگوں نے ہمارا امن وچین تباہ کردیا ہے۔‘‘
’’نہ میرے دوست‘‘ میں نے اصرار کیا۔
’’تم جانتے ہو کہ میں انتہا پسند نہیں ہوں۔ میں مساوات، امن اور جمہوریت کا داعی ہوں۔ نہ میں خون بہانے کو جائز سمجھتا ہوں اور نہ ہی میرا عقیدہ مجھے اس کی اجازت دیتا ہے۔ ہم ایک گروہ کی انتہا پسندی کو عقیدے کا نام نہیں دے سکتے۔‘‘
’’نہیں تم غلط ہو۔ سچ یہی ہے کہ مذہب کے نام پر تم لوگ ان معاشروں کو فتح کرنے نکلے ہو۔ تم ایک ناکام سفر کے مسافر ہو۔‘‘
ہم دونوں تین دہائی پہلے ایشیا سے مغرب کی طرف آئے تھے۔ اپنے اپنے ملکوں میں ہم نے اپنی اپنی زندگی کو استوار کیا تھا۔ مقامی معاشرے میں گھل مل کر انتہائی محنت سے اپنی اور اپنی اولاد کی جگہ بنائی تھی۔ ہم اب ربع صدی بعد ملے تھے۔ ہم خوشی اور گرمجوشی سے بغلگیر ہوئے۔ موسیقی کی دھیمی دھنوں کے درمیان محنت اور لگن سے تیار کیا ہوا لذیز کھانا نوش کیا۔ پھر ڈھلتی شام گہری رات میں بدلنے لگی۔ خوشگوار رسمی گفتگو ادب وصحافت، ثقافت اور سماجیات سے ہوتی سیاست کے تلخ موضوع تک پہنچ گئی۔
ایک ساتھ سفر کا آغاز کرنے والے ہم دونوں ندی کے دو کبھی نہ ملنے والے کناروں کی طرح ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔ درمیان میں بہنے والا دھیما اور ہموار پانی اب متلاطم تھا اور غرانے لگا تھا۔
عجیب سمان تھا۔ ایک مقام سے روانہ ہوکر ایک ہی منزل کی جانب رواں دو لوگ متفق ہوکر بھی ایک دوسرے سے کوسوں دور تھے۔
صورت مکالمے کی تھی مگر مواصلت نہ تھی-