پکار
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 17 / اپریل / 2012
- 11178
یہ گلستان باغ وبہار تھا
ہر طرف پھول کھلے تھے۔ کلیاں مسکارہی تھیں......
مہکتی فضا میں نقرئی قہقہے اور ان کے بیچ گلنار دمکتے چہرے
یہ سارے سب کا مستقبل تھے۔ یہ یہاں جمع تھے اور زندگی مسکرا رہی تھی۔ وہ بھاگا۔ یہ گرا۔ اس نے کھینچا۔ نہ اب نہیں، رکو تو، اوہ۔
دیکھو ٹیلی فون بج رہا ہے۔
”ہاں یہاں سب ٹھیک ہے۔“ قہقہہ
”نہ ماں پریشان نہ ہو۔“ ہونہہ
”کہانا۔ اب کیا کیوں۔ اوہ اتنا مزہ ہے۔ موسم بھی اچھا۔“
”سورج چمک رہا ہے اور پتہ ہے آج بڑی مزے کی ورک شاپ ہے۔ ہاں ہاں بہت کام کی باتیں ہوں گی“
”نہ یہاں سب کھیلتے تھوڑی رہتے ہیں“ ایک نوجوان لڑکی اپنے باپ سے بات کررہی تھی۔ ”ہم یہاں کام بھی کرتے ہیں۔ سچ“
”جی ابّو ان چند دنوں میں اتنا کچھ سیکھ لیتے ہیں کہ سارا سال اسکول میں سبق یاد کرتے ہوئے بھی اتنی معلومات حاصل نہیں ہوتیں“
چلو اب فون بند کرو، وہ آگئیں، وہ بول رہی ہیں
میرے عزیز بچو
خاتون نے خطاب شروع کیا
زندگی کے نشیب وفراز سے گزرکر کامیابی کی تمام منازل کو چھو کر آنے والی یہ خاتون نوجوان دمکتے چہروں، مسکراتی آنکھوں اور امید و امنگوں سے بھرے نوجوانوں کو دیکھ نہال ہورہی تھیں۔
”میرے بچّو “ وہ پھر گویا ہوئی
”زندگی میں امکانات اس بے پناہ سمندر کی طرح بے شمار ہیں۔“
”امکانات پانے کا راز اور بامِ عروج پر پہنچے کی قوت آپ کے اندر ہے اور یہ قوت ان اصولوں سے حاصل ہوتی ہے جن پر آپ اپنی زندگی کی بنیاد استوار کرتے ہیں۔“
تالیاں
”آپ اپنے اصول پر ، اس قدر پر جو آپ کو آگے لے کر جاسکتی ہے اور جو آپ کو مضبوط کرسکتی ہے۔
یہی اقدار ہیں جو آپ کو انسانیت کے معیار پر پورا اتارنے کا سبب بنتی ہیں۔“
آج آپ کے پاس سب کچھ ہے لیکن آپ کی صلاحیتوں اور ہمت پر دوسروں کا حق بھی ہے۔
آپ کو بڑھنا ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے
سب کے لئے کچھ کرنا ہے۔
کمزوروں کے لئے آواز اٹھانا ہے
بے کسوں کی مدد کرنی ہے
صرف اپنے لئے نہیں سب کے لئے سوچنا ہے
احتیاج اور محرومی کو پوری دنیا سے مٹانا ہے۔
ہاں ہم ایک ہیں
ہاں ہم سب کے ساتھ ہیں
ہاں یہ دنیا ہماری ہے۔
ہاں ہم اس کے محافظ ہیں
یہ نوجوان محافظ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے پرعزم اور پرجوش تھے۔
ناانصافی اور ظلم کے خلاف سب مل کر قدم بڑھانے کے لئے تیار تھے۔
کسی نے نہ دیکھا افق سے کالی آندھی اٹھی اور اس آندھی میں سے تاریکی اور برائی کا یک چشمی دیو اس جزیرے میں ہنستے گاتے مسکراتے اور عزیمت کے نغمے الاپتے نوجوانوں کے درمیان آ وارد ہوا۔
ایک طوفان سا بپا ہوا۔ گولیوں کی بوچھاڑ اور چیخیں آہیں اور سسکیاں....... آنسو اور پکار.........
ٹیلی فون کی گھنٹی بجی
”مجھے بچالو“
”کوئی مار رہا ہے۔ وہ مار دے گا۔“
”امی میں یہاں چھپا ہوں، وہ ادھر ہی آرہا ہے، تڑاخ تڑاخ“
”ابو میری ٹانگ زخمی ہے۔“
”میں کچھ کرتا ہوں“
”تم ہو......... تم کہاں ہو....... تم سن رہی ہو“
معصوم سی فرشتہ کے بے جان کھلے ہاتھ میں اٹکے موبائل پر گھبرائی ہوئی آواز پکارتی رہی۔