گھٹن
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 14 / مئ / 2012
- 10502
کرب اتنا کہ سہا نہ جائے
دل پھٹا جاتا ہے اور دماغ شل ہے
وہ منظر بھول نہیں پاتا
وہ خون کا دریا....... تڑپتی لاشیں
سہمے چہرے اور وہ سارے جو جان سے بھی زیادہ عزیز تھے
وہ میرا بھائی تھا
میرا چہیتا اور پورے گھر کی آنکھ کا تارا
اس نے ابھی چہکنا سیکھا تھا
وہ ہر ضد پوری کرواتا تھا اور ہر بات مانتا تھا
اس کی آنکھیں بولتیں تھیں اور ایک شریر سی مسکراہٹ اسے ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے پر اکساتی۔ جہاں وہ ہوتا وہاں زندگی جھومتی تھی ۔ دوست احباب قہقہے لگاتے
اور پھر میں نے دیکھا
اس کا الہڑ بدن خون میں نہایا بے جان پڑا تھا
وہ میری جان تھا
اس کے بغیر زندگی کیسی
کرب کے گہرے سائے، سسکی اورآہ وفغاں۔ گھٹی گھٹی چیخیں اوربے بسی کا ایک ہولناک سناٹا
ایک باپ بستر مرگ پر پڑا ہے
اسے نظر آرہا ہے کہ آخری وقت آپہنچا لیکن اسے مرنے کا غم نہیں ہے
مگر یہ مرنے کی عمر تو نہیں
ابھی تو ادھیڑ عمری سے بھی نہیں گزرا
کیوں اتنے مایوس کیوں ہو
میں مایوس نہیں ہوں
میں اسے مسکراتا دیکھ رہا ہوں
وہ مجھے بلا رہی ہے
وہ میری فرشتہ بیٹی جس نے ابھی زندگی کو پوری طرح آشکار ہوتے بھی نہ دیکھا تھا۔
میں اس کے لئے کچھ نہ کرسکا
میں نے ابھی چند ماہ پہلے اسےڈھیروں مٹی تلے دبایا ہے
اس کا شگفتہ سنہرا چہرا
اس کی معصوم شرمیلی مسکراہٹ
اس کی دھیمی مہکتی باتیں
سفید تابوت میں بند وہ مجھ سے پوچھتی تھی
پاپا میں نے کیا کیا
کسی نے مجھے بچایا کیوں نہیں
کوئی آیا کیوں نہیں
میں نے نہ آسکا بیٹی۔ میں اب آرہا ہوں۔ آرہا ہوں کہ تم سے ملوں اوراپنی نااہلی کی معافی مانگ سکوں
اس بیمار نے آنکھیں موندیں اور وہ دوبارہ نہ کھل سکیں
یہ عدل کا دربار ہے
یہ سب کے صبر کا امتحان ہے
یہ ظلم کا جواب ہے
باہر پھولوں کا ڈھیر ہے اور لبوں پر ترانہ ہے کہ
نیلا آسمان دور تک پھیلا ہوا
ہم ایک ہیں اور یہ دنیا ہماری ہے
کٹہرے میں وہ ظالم بیٹھا ہے
جسے نہ شرم ہے نہ شرمساری
جسے نہ غم ہے اور نہ پیشمانی
وہ وکیل۔ ماہرین، پولیس اور مبصرین
ایک ایک کرکے ہر اس پھول کا ذکر جس کو اس شیطان صفت نے مسل دیا اور ہنستی مسکراتی زندگی کو چھین لیا۔
ان کھکھلاتے بچوں کا ذکر اب ایک ڈاکٹر کررہا تھا
زخم کہاں تھا، کتنا گہرا تھا
گولی کہاں سے داخل ہوئی کہاں سے نکل گئی
تہذیب و روایت ، اصول اور قانون
کے بندھنوں میں جکڑے وہ سب سن رہے تھے
سسک رہے تھے
رو رہے تھے اور ایک دوسرے کو تھام رہے تھے۔ گھٹ رہے تھے
حیوان
شیطان
تم جہنم میں جاﺅ
ایک چیخ ہر سکون منظم فضا کو چیرتی ہوئی ایک کراہ کی طرح پورے ماحول پر چھاگئی
ایک جوتا اچھلا
اس مکروہ چہرے کی طرف
جو نفرت کی پیداوار اور حقارت کا نشان ہے
وہ جو شرم اور پیشمانی سے عاری ہے
جانور بھی جسے دیکھ کر منہ پھیر لیں
اور پورا کمرہء عدالت سسکیوں سے بھر گیا