بساط
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 27 / مئ / 2012
- 10650
یہ رہی میری چال
اب چلو، دیکھتا ہوں تم کون سا مہرہ سامنے لاتے ہو۔ تمہارے شاہ کو تو میرا پیادہ بھی مات دے سکتا ہے۔
دور دور اس کا کوئی مدمقابل نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ اس کھیل کا ماہر نہیں لیکن وہ اس میدان کے نامور کھلاڑیوں کو چت کرچکا تھا۔ اس نے کھیل کے اصول بدل دیئے تھے۔ اور دوسروں کو اس بساط پر کھیلنے پر مجبور کرتا تھا جو وہ خود ہی سجاتا تھا اور جس کے نشیب وفراز سے وہ بخوبی آگاہ ہوتا۔
اس کے لئے یہ کھیل تماشہ تھا۔
دوسروں کو اذیت دینے اور اپنی دھاک منوانے کا
وہ بازی جیتنا چاہتا تھا اور اس کے لئے وہ کوئی حربہ بھی اختیار کرسکتا تھا۔ اس کا قول تھا کہ کھیل ایک جنگ ہے اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔
اس میں دوسرے کو نیچا دکھانا ہی مقصود ہے اور اسی کو ہر لمحے پیش نظر رہنا چاہئے
جنگ میں کوئی دوست نہیں ہوتا۔ اس میں دشمن بھی دوست ہوسکتے ہیں اور دوست دشمن بن جاتے ہیں ۔وہ معرکہ آرائی میں دوست دشمن کی تقسیم کا قضیہ کھڑا نہیں کرتا تھا۔ دشمنوں کی گالیاں سنتا اور مسکرا کر انہیں اپنے ساتھ مل بیٹھنے کی دعوت دیتا۔
وہ دوستوں کے ساتھ پرلطف شام گزارتا اور صبح ہونے تک انہی کے دشمنوں کے بغل گیر ہوجاتا۔
وہ پکارتے، تم کو شرم نہیں آتی؟
شرم کیسی وہ ڈھٹائی سے قہقہہ لگاتا۔
یہ جنگ ہے، یہ مفاد کی، منفعت کی اور جیتنے کی جنگ ہے۔ اس میں روندے ہوئے اور پیچھے رہنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ اس میں نمایاں وہی ہوتا ہے جو سب کو روند تا ہوا آگے نکل سکے۔
مگر کوئی رشتہ، کوئی تعلق
کوئی وعدہ، کوئی پیماں
نہ ۔ ۔ ۔ وہ بے شرمی سے جواب دیتا
یہ سارے نعرے جذباتی بزدلوں کے ہتھکنڈے ہیں۔ یہ وہ اوزار ہیں جو آج کے کھیل میں ناکارہ ہوچکے ہیں۔ اب اصول اور اخلاق نہیں، جیتنے کا عزم اور دشمن کو پسپا کرنے کا حوصلہ ہونا ضروری ہے۔
مگر تم یہ کیسے جان سکو گے
تم نے کہاں وہ سارا سفر کیا ہے جو میں طے کرکے آیا ہوں تم کو کیا پتہ کہ بادشاہ کی نگری میں گڈریئے کے گھر پیدا ہونے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
صبح اٹھو اور بھیڑوں کو ہانکتے لے جاؤ اور شام کو انہیں ہانکتے ، ہاپنتے ہوئے واپس جاؤ، اس ہانکنے کی دوڑ میں انسان خود بھیڑ ہوجاتا ہے۔
بے بس مجبور چوپایہ ۔جس کی نہ زبان ہوتی ہے اور نہ ضرورت جو نہ اپنی مرضی سے ہربالی چرتا ہے اور نہ اپنی منشا سے پانی پی سکتا ہے۔
میں نے چوپائے کی زندگی جی ہے۔
میں نے آرزو کی ہے کہ میں اس زندگی سے گریز کرسکوں
میری سو پشتوں نے انسانوں کی غلامی کی ہے
مویشیوں کے ساتھ ہم انسان حیوان بنے رہے
یہ ساری حیوانیت میرے انسانی وجود کا حصہ ہے
یہ وہشت نہیں ہے۔ یہ صداقت ہے
یہ میرا سچ ہے۔ میں اس سچ کو جی رہا ہوں
تم نہیں جانتے، میں پشت ہا پشت کی محرومیوں کا مارا کیوں کر اس جنگ کا سپہ سالار بنا ہوں
وہ تو مجھے اپنی فوج میں پیادہ لینے کو بھی آمادہ نہیں تھے۔ ہمارا کام تو جانوروں کی دیکھ بھال کرنا تھا اور اس عمل میں خود جانوروں کی زندگی گزار نا تھا ۔ پھر میں نے نقب لگائی۔مویشیوں کے ریوڑ سے نکل کر انسانوں کی دنیا میں قدم رکھا۔
یہ کام آسان نہیں تھا۔ اس میں جانوروں کی ساری وہشت ساری جہالت، ساری سنگدلی اور ساری بے حسی درکار تھی
اس میں دھکا دینا، پائے حقارت سے کچلنا اور احساس وشعور قربان کرنا ضروری تھا
یہ جنگ انتقام کی نہیں ، بقاء کی ہے
یہ انکار ہے اور یہ اقرار بھی ہے
ہاں انکار ہے کہ اصولوں سے پیٹ نہیں بھرتا
اور اقرار ہے کہ آگے بڑھنا ضروری ہے اور اس کے لئے کچلنا پڑتا ہے۔ روندنا پڑتا ہے
دیکھو میں کتنی قبروں کا امین ہوں۔ میں نے یہ قبرستان اس میدان کارزار تک پہنچنے کے لئے آباد کیا ہے۔ میں ان مروں ہوؤں کے خون کو رائیگاں نہ جانے دونگا
یہ ہے میرا پینترا
یہ میری بساط ہے
اب چلو چال