منادی

اعلان ہے کہ پگڑیاں سنبھال لو، اب ان کو اچھالا جائے گا۔
دستور ہے کہ زمانے کا چلن بدل گیا ہے۔ اب اس چال کو پہچانو اور اس کے ساتھ چلو۔ جو اس کو نہیں مانتے ان کو ہم نہیں مانتے۔

یہ جنگ ہے
یہ جنگ مرنے اور مارنے کی لڑائی ہے۔
نہیں.... یہاں دونوں کے لئے گنجائش نہیں ہے۔ حملہ آور کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

جو بھی نئے آئن پر حملہ کر ے گا اس کے پاﺅں کے نیچے سے زمین کھینچ لی جائے گی۔ یہ زندہ رہو اور زندہ رہنے کا اصول ہے۔ لیکن اس اصول کو پامال کرنے والوں کے لئے نئے دستور کے تحت کوئی معافی نہیں ہے۔ ان سے درگزر نہیں ہوسکتا۔

یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی۔ ہم نے تو جیو اور جینے دو کو اصول مانا ہے۔ مگر یہ جینے نہیں دیتے۔
یہ آئنِ فرسودہ کے ماننے والے ہیں
یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے لئے سانس لینا بھی مشکل کردیا جائے۔
یہ ہمیں بے دم کرکے، تھکاکے، اور لہولہان کرکے بھاگنے پر مجبور کررہے ہیں۔

اب طے ہے کہ جواب دیا جائے گا۔
نیا آئن سب کے بھلے کے لئے بنا ہے۔ اس میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اس میں سب کا حصہ ہے۔

ہاں آپ نگران ہیں تو ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ ہم آپ کے کردار کو مانتے ہیں اور یہ جو عزت آپ کو ملی ہے تو اس کو سنبھالنے کا اہتمام بھی کریں۔ ہم آپ کو سب سہولتیں دینے کو تیار ہیں۔

وہ کہتے ہیں نا کہ آم کھائں، گٹھلیاں گننے سے کیا فائدہ
آپ تو پیڑ گننے اور ان کی جڑوں کو پہچاننا چاہتے ہیں۔
اب اس کا آم کے ذائقے سے کیا تعلق ہے۔ آپ مزہ لیجئے اور ہمیں جینے دیجئے۔

یہ آئن کوئی جبر نہیں ہے۔ سارا قبیلہ اس پر متفق ہوا ہے۔
سب نے دیکھ لیا ہے کہ اسی میں سب کا بھلا ہے۔ اب ان سے کیسے کہا جائے جو سب کی بات کو نہیں مانتے۔

دیکھو ہمارے ساتھ کون نہیں ہے۔
ہمارے سردار ، سب کے سربراہ نے بھی مانا اور تسلیم کیا ہے۔ انہیں اس میں سب کا فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ وہ جان گئے ہیں یہی ترقی کا راستہ ہے۔

اور یہ جو چوبدار ہے
اسے اعتراض تھا پھر ان کو سارا منظر نامہ دکھایا گیا
انہیں پتہ چلا کہ اس میں تو سب کا فائدہ ہے

ہم نے کب کہا کہ یہ سارا ہمارا ہے۔ ہم تو یہ سب مل بانٹ کر کھاتے ہیں۔ ہم تو زندہ رہو اور زندہ رہنے دو کا راگ الاپتے رہے ہیں۔
ہمارا دسترخوان وسیع۔ ہماری میزبانی لامتناہی ہے۔ ہم نے تو ایک چشمہ جاری کیا ہے۔

میٹھے پانی کا
فیض کا
سب کے مفاد کا چشمہ

سب کو یہ بات سمجھ آرہی ہے
سب نے اس کو قبول کرلیا ہے

اب آپ حملہ آور ہیں۔ اب حملے کا جواب دیا جائے گا۔
یہ زندہ رہو یا زندہ رہنے دو کی جنگ ہے۔ جو زندگی کی قدروقیمت کو نہیں مانتے یہ ان کے خلاف اعلان رزم ہے۔

ہمیں یہاں لایا گیا ہے
اب ہم دیوار سے لگے ہیں ا ور جینا چاہتے ہیں
تمہارے مرنے ہی میں ہماری زندگی ہے

یہی سچائی ہے
زندگی سچائی کا نام ہے۔ لمحہ موجود کی سچائی کا نام
تم نے اس سچ کو ماننے سے انکار کیا اور اسے بدلنا چاہا۔ تم بھول گئے زندگی اپنا چلن نہیں بدلتی
یہ تو تقدیر کی مانند ہے۔ اسے ماننا پڑتا ہے اس کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ اس قبیلے نے اس سچ کو مان لیا ہے۔

تم آئنِ کہن پر اڑے ہو۔ تم زمانے کا چلن نہیں مانتے۔ تم سب کی بات نہیں مانتے۔ تم جینے نہیں دیتے۔
اب طے ہوا ہے

اعلان کردیا جائے
اب پگڑیاں اچھالی جائں گی یا ان کو سنبھال کر صندوقوں میں بند کردو
اعلان ہے سوچ پر پابندی نہیں ہے
لیکن جو ہمارا راستے روکنے کا سوچے گا اور اس میں عمل کرے گا، اسے دشمن کا درجہ دیا جائے گا
یہ معاملات جنگ کے اصولوں کے تحت طے ہوں گے

سچ بولنے پر پابندی نہیں۔ اسے نشر کرنے کی اجازت نہیں
انصاف مانگنے پر پابندی نہیں۔ اسے فراہم کرنا منع ہے
اپنے اصول ماننے کی ممانعت نہیں۔ انہیں دوسروں پر منطبق کرنا منظور نہیں۔

دیکھو سب خوش ہیں
سب راضی ہیں
جو راضی نہیں ہم ان سے بھی راضی ہیں

لیکن یہ علم اٹھا کر چلیں۔ دستار باندھ کر فضیلت حاصل کریں
یہ قیادت کریں
یہ منظور نہیں

اعلان ہے۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی
زمانہ قیامت کی چال چل رہا ہے
اس کو پہچان لو
نہ پہچاننے والو، منہ چھپالو

اب جھوٹ کی حکومت ہے۔