کمال
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 04 / جولائی / 2012
- 10035
دیکھا کیا کمال کیا
ہم انہیں وہاں لے آئے جہاں کوئی نہیں لاسکا تھا۔ انہوں نے بہت ہاتھ پاﺅں مارے لیکن ہم بھی ایک کائیاں تھے اور ان کی ایک نہ چلنے دی۔
بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ ہم ساری باتیں مان لیں اور ایک ضد بھی نہ کرسکیں۔
ہم نے کیا نہیں کیا
قربانی دی
تم نے
اوہ ٹھیک ہے ہمارے لوگوں نے
آپ کے لوگوں نے
چلئے عام آدمیوں نے پر وہ تھے تو سارے ہمارے
وہ بھی جو سرحدوں پر قربان ہو گئے اور وہ بھی جو گھروں میں مار دئے گئے
کتنے ہزار گئے اور کتنے گھر اجڑے
تم کو پتہ ہے کہ گھر اجڑتا ہے تو کیا ہوتا ہے
ہاں کیوں نہیں۔ ہم نے بھی خون دیا ہے۔ شہیدوں کی قبریں بنائی ہیں ہم جانتے کیوں نہیں
مگر کبھی دیکھا ہے کہ صبح جاکر شام کو گھر میں آٹا اور سبزی لانے والا مرجائے تو پچھے رہ جانے والے بیوی بچوں پر کیا گزرتی ہے۔
بوڑھی ماں کی آنکھیں کیسی بے نور ہوجاتی ہے۔
بیوہ کی جوانی کیوں کر برباد ہوتی ہے۔
نہ آٹا آتا ہے نہ سبزی
بھوک اور احتیاج کیا کیا کھا جاتی ہے
عزتِ فس اور غیرت
آن اور آبرو
نہ یہ دکھ کی کہانیاں کبھی ختم نہ ہوں گی۔ یہ سب قصے چلتے رہتے ہیں۔ دنیا سے بھوک ختم کرنا ہماری ذمہ داری تو نہیں ہے۔
پر یہ تو تمہارے لوگ تھے
تمہارے اپنے
اور جان نثار
نعرہ زن اور خون دینے والے
ہاں وہی تو
ہم نے ایسے ہزاروں کا خون دیا ہے
اب یہ کیسے کہ ہم ہی سب کچھ سہتے رہیں
مگر تم نے قیمت تو لی تھی۔
اپنے لوگوں کو بیچا تھا
اب وہ منہ زور تو ہوں گے
وہ دھونس تو دکھائیں گے
اس میں تمہارا کیا کمال ہے۔
نہیں ہے؟
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے کیا کمال کر دکھایا ہے
تم جیسے دشمنوں کا یہی ہوتا ہے
تمہیں صرف برائی نظر آتی ہے
تم جاہ پسند ہو اور صرف اپنی تعریف سننا چاہتے ہو کبھی تمہیں دوسرے کی خوبیوں کو بھی دیکھنا چاہئے۔
تم کہتے تھے نا کہ وہ زبردست ہے۔ منہ زور ہے اور بے پناہ طاقت ور
تم سبھی کہتے تھے ہم کمزر اور بے بس ہیں اور ایک ڈانٹ کا سامنا بھی نہیں کرسکیں گے
تم نے گنا، تم نے سنا
کتنے دن، کتنے مہینے، کتنے لمحے
ہم نے ایک ایک مرحلے پر انہیں زچ کیا
یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی توانائی کے مالک ہیں
یہ پورا نظام چلاتے ہیں۔
انہیں اس بات کا بڑا گھمنڈ ہے کہ دنیا کا گلوب ان کے اشارے پر گھومتا ہے۔
ہم نے انہیں دکھایا کہ گلوب رک بھی سکتا ہے۔ اور الٹا گھوم بھی سکتا ہے۔
یہی ہمارا کمال ہے۔
یہ ایک ایسی روایت ہے جو ہمارے لوگوں کو وقار دے گی۔ ان کو سرخرو کرے گی۔ وہ سر اٹھا کر بتاسکیں گے کہ ہم نے ان کے لئے کیسا کمال کیا۔
تم واقعی لوگوں کو اتنا احمق سمجھتے ہو
تم نہیں جانتے کہ وہ سب جانتے ہیں
ہاں شاید جانتے ہوں
مگر ہمارے کمال کو تو مانتے ہیں
نہ مانتے تو یوں قطار اندر قطار
ہماری ہی ہاں میں ہاں کیوں ملاتے
ہمیں ہی ووٹ کیوں دیتے۔