بھیک

وہ آیا اور چھاگیا
 
سب جانتے تھے کہ وہ کون ہے۔ وہ ملک کی سیاست اور مذہب کے حوالے سے جانا پہچانا جاتا تھا۔ کوئی اس کے مداح تھے تو کوئی مخالف، جیسا کہ ایسی شخصیات کے حوالے سے عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے۔
 
پھر وہ غائب ہوگیا۔ اس نے اس قوم و ملک کو تنہا چھوڑا اور عالمی منظر نامے پر اپنی حیثیت ورتبے کے مطابق مقام حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی۔ 
 
اس نے پوچھا۔  آج سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
”دہشت گردی“ اس نے خود ہی جواب دیا۔
 
پھر وہ  بھرپور تفصیل کے ساتھ دہشت گردی کے عوامل کا احاطہ کرنے لگا۔
چہرے پر داڑھی سجائے، قدامت پسند مشرقی لباس میں ملبوس یہ شخص نہ صرف یہ کہ شفاف انگریزی بولتا تھا بلکہ اس کے خیالات  بھی ان قوتوں کے نظریات کا پرتو تھے جو اس دنیا میں استحصال کی علامت سمجھی جاتی ہیں، جہاں سے وہ کوچ کرکے اب یہاں آگیا تھا۔ ایک جہانِ نو میں۔ اپنا مرتبہ اور مقام پانے۔ دنیا کو تباہی سے بچانے اور اسلام کا ہیرو بننے۔۔۔
 
وہ شخص ان لوگوں کو بتارہا تھا کہ اسلام کی وہ تعریف جو وہ سمجھ رہے ہیں۔ غلط ہے۔ اس نے واضح کیا کہ کس طرح مٹھی بھر دہشت گردوں نے اسلام کے نام کو استعمال کرکے مسلمان ملکوں میں آباد غیر تعلیم یافتہ اور ضعیف العقیدہ لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ اس شخص نے یہ نظریہ پیش کیا کہ غلطی نہ اسلام میں ہے، نہ مسلمانوں میں۔ غلطی ان جاہ پسندوں میں ہے جنہوں نے دولت، شہرت اور طاقت حاصل کرنے کے لئے ان دونوں کا غلط استعمال کیا ہے۔
 
اس نے فتوے بھی جاری کئے اور دشمنیاں بھی مول لیں۔ اس نے عقیدوں کو باہم ملانے کے لئے ان دشمنوں کو گلے لگالیا جنہیں قتل کرنے کے لئے دور دراز ملکوں کے انتہا پسند قیمت مقرر کررہے تھے۔ اس کے ان اقدامات کو حوصلہ، روشن خیالی اور اعتدال پسندی سے تعبیر کیاگیا۔
 
پھر اس نے اعلان کیا کہ میں آرہا ہوں
اس دوران اس کی قوم تکلیف میں مبتلا رہی تھی مگر وہ غائب تھا۔ وہ عالمی منظر نامے پر اپنی شناخت پیدا کررہا تھا مگر اب وہ آرہا تھا۔
اور وہ آگیا
 
اس نے اعلان کیا کہ یہ نظام جو تم نے نافذ کیا ہے اسے نیست ونابود کرنا ضروری ہے!
مگر یہ تو جمہوریت ہے۔ اسے تو لوگوں نے پسند کیا ہے۔ یہ نظام تو ایک آمر مطلق کو شکست دینے کو بعد عوامی قوت کے ذریعے نافذ العمل ہوا ہے۔
 
یہ درست ہوگا۔ مگر یہ نظام ظالموں اور استحصالیوں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں ہے۔ اس میں لوگ بھوکے ہیں اور غیر محفوظ ہیں۔ عام آدمی ناتواں اور اشرافیہ طاقت ور ہے۔
اس نظام کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
 
سب نے کہا کہ یہ تو سب نے مل کر طے کیا ہے ۔
اب آپ اس کو کیسے بدلیں گے۔
میں طوفان لے آؤں گا۔
میں لوگوں کو ان ایوانوں کے سامنے لاکھڑا کروں گا جن کی بلند وبالا دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر عام آدمی کے حقوق کا سودا کیا جاتا ہے۔ انہیں محروم کیا جاتا ہے۔
 
پھر اس نے قصدِ سفر کیا۔ ایک ہجوم اکھٹا کیا۔ سب مریدین کو اور پرستاروں کو۔ ان سب کو جو اس کو سچا اور باقی سب کو جھوٹا مانتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ سچا آدمی ہے اور یہ حق کی بات کرتا ہے۔
 
حق کی بات یہ ہے کہ بدعنوانوں کی دولت چھین لو۔ لوگوں کو فیصلے کرنے کا حق دو۔ سب کو روٹی دو، مکان دو، عزت دو۔ سب  سہولتیں سب کو  فراہم کرو۔ عدم مساوات کو مٹادو۔
یہی سب سچ ہے۔ یہی سچ ہے مگر اس کو آشکار کیوں کر کرو گے؟
 
یہ ہمارا حق پرست کرے گا۔ وہ سارے پکارے اور روانہ ہوئے۔
وہ ہزاروں تھے یا لاکھوں۔ مگر وہ تھے پرستار۔
 
بیچ میدان کے۔ اقتدار کے ایوانوں کے عین سامنے ایک محفوظ بنکر میں وہ شخص مقیم ہوا۔ اس کے پرستار اس کے اردگرد پھیل گئے۔ سردی تھی یا بارش۔ بھوک تھی یا مشکلات۔ انہوں نے عزم کیا کہ وہ اس کمین گاہ میں حصار بند شخص کی اطاعت کریں گے، جو بدعنوان حاکموں کے پیٹ چیر کر عام آدمی سے لوٹی ہوئی دولت نکال کر واپس قوم کے حوالے کردے گا۔
 
پھر اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل ہوئی۔ لمبی سیاہ گاڑیوں میں سوار سارے ہی مقتدر اس شخص کے بنکر میں حاضر ہوئے۔ اور اس نے اپنی فتح کا اعلان کردیا۔
 
سردی سے ٹھٹھرے، فاقہ زدہ لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہوئے۔ وہ مسرور تھے کہ کامیاب ہوئے۔ اور قوم کو ساری مشکلات سے آزادی ملی۔ ہر محروم کو اس کا حق مل گیا۔
 
گھر واپس جانے کے لئے سڑک کے کنارے کسی کی امداد کا انتظار کرتے ایک گروہ میں ایک کم سن نے اپنے سے بڑی عمر کے شخص سے پوچھا:
لوٹی ہوئی جو دولت واپس ملی ہے،  کیا اس میں ہماری بھی کچھ حصہ ہے؟
کیا اس کے بعد تو ہمیں واپس گھرجانے کے لئے بھیک نہیں مانگنا پڑے گی نا؟