شجرممنوعہ

میں نے سنا کہ بہار آنے والی ہے
 
میں جو دھوپ کے تھپیڑے کھاتا، لو سے جلتا، گرمی سے پگھلتا سسکتا اور بلکتا زندگی گزر رہا ہوں۔ مجھے یہ آواز سنائی نہیں دی۔
 
اس نے کہا تم نے سنا کہ میں نے کیا کہا؟
سنتے ہیں بہار آنے والی ہے
 
”تو میں کیا کروں“ میں اپنی حالت زار پر نڈھال، مایوس، ہواس باختہ اور پریشان تھا۔
 
میرا دوست حیران ہوا اور بولا:
یہ تو بہار کی بات ہے۔ پھول اور خوشبو کا ذکر ہے۔ تازگی اور رعنائی کی نوید ہے اور تم ہو کہ مسلسل مایوسی اور پریشانی کی بات کرتے ہو۔ کیا خوشی تمہارے لئے شجر ممنوعہ ہے۔
 
میں اسے تکتا رہا اور سوچنے لگا
بات تو وہ ٹھیک کہتا ہے۔ آخر یہ خبر تو اچھی ہے۔ اس پر تو خوش ہونا چاہئے۔
ہر مشکل کے بعد آسانی پیدا ہوتی ہے۔ ہر آزمائش کے بعد منزل ملتی ہے۔ ہر خزاں کے بعد بہار آتی ہے۔ اب یہ
نوید ہے کہ بہار آنے والی ہے۔
 
میں نے سوچا کہ آخری بار بہار کب آئی تھی پھر میری یادوں کے پر جلنے لگے۔
میں پیدا ہوا اور میں نے ہوش سنبھالا۔ جوانی آئی اور گزر گئی اب بڑھاپا مجھ پر حاوی ہے۔ بہار کے انتظار میں میں نے خزاں کے موسم کو اپنا مسکن بنالیا۔ لیکن اسے آنا تھا نہ آئی۔
 
بزرگوں نے بتایا تھا اور کتابوں میں پڑھا تھا۔ سب بتاتے تھے کہ بہار آتی ہے تو پھول کھلتے ہیں اور رعنائیاں چہار سو بکھر جاتی ہیں۔ تفکرات دور ہوتے ہیں اور نئی امیدوں کے غنچے کھلنے لگتے ہیں۔
 
ادھر تو یہ عالم ہے کہ امید نام کا لفظ لوح تقدیر سے مٹا دیا گیا۔ اب تو گھٹ گھٹ کر جینا اور جینے کو بھگتنا ہی زندگی ہے۔ اس میں امید کی کوئی توقع نہیں اور نہ ہی جگہ ہے۔
 
یہ جدوجہد ہے۔ یہ ایک لڑائی ہے۔ جس میں طاقتور جیت جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے سے زیادہ طاقتور سے مات کھا کر درماندہ اور پریشان حال اس سچ کو مان لیتا ہے کہ زندگی ایک تہمت ہے، اندھیرا ہے، پریشانی ہے مگر امید ہرگز نہیں۔
 
جب کوئی بہار کا ذکر کرتا ہے تو اس کا تعلق امید سے جڑتا ہے۔ جن زندگیوں سے امید نکل چکی ہے وہاں بہار کا گزر کیسے ہوگا۔
 
ہاں میرے دوست تم نے شاید درست کہا ہے۔ بہار اور امید ہمارے لئے، ہماری نسل اور ہمارے طبقے کے لئے شجر ممنوعہ ہے۔
 
یہ ایک ایسی اندھیری گلی ہے جس میں داخل ہونے سے غموں اور دکھوں میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے۔
بہار کے نام پر کتنی بار ہم نے بھی خواب دیکھے۔
 
تم تو دوست ہو مگر وہ بھی دوست جیسے ہی تھے
جب میرے بال سفید نہیں ہوئے تھے
ابھی قویٰ بھی مضحمل نہیں تھے
 
تب میں پر امید نہیں تو حوصلہ مند ضرور تھا۔ یہ ہوش ضرور رکھتا تھا کہ امید کو کھوجنا چاہئے۔
تب انہوں نے پہلی بار یہ نوید دی تھی:
بہار آیا چاہتی ہے۔ اب پریشانی کی ضرورت نہیں ہے
میرے سارے قبیلے نے انہیں سر پر بٹھایا۔ خوشی میں رقصاں ہوئے اور امیدوں کو ازسر نو زندہ کیا تھا۔
 
مگر وہ تو سراب تھا
وہ بہار کہاں تھی
اور وہ قاصد بھی انسان کہاں تھے
 
وہ تو سائے تھے
سایوں نے بتایا کہ بہار آیا چاہتی ہے
اور ہم نے ہاتھ بڑھائے اور امید کے دامن پھیلا دئے
 
دامن سمیٹا تو اس میں چھید تھے
بہار تو نہ آئی۔ یہ سراب امید کرنے کا حوصلہ بھی چھین کر لے گیا
 
اب تم تو دوست ہو
تمہیں سایہ کیسے کہوں
مگر کیسے مان لوں کہ بہار آنے والی ہے
 
یہ تو ایک لفظ ہے
ایک قصہ ہے
ایک کہانی ہے
جو کتابوں میں پڑھی ہے
جو ماں سے سنی ہے
اور جس کی چمک میں نے اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھی ہے
 
اب میں نے سیکھ لیا ہے
اور یہ سبق 60 برس پرانا ہے
کہ بہار آتی نہیں ہے
 
ہاں یہ ہمارے لئے شجر ممنوعہ تھی
اور شجر ممنوعہ ہی رہے گی۔