تصویر
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 09 / جون / 2013
- 11279
سربستہ رازوں کی اس سرزمین میں میں حیران کھڑا ایک کے بعد دوسری محیر العقل شے کو دیکھتا اور خدا کی قدرت کی داد دیتا تھا۔
مجھے یہ سب اس سے پہلے کیوں معلوم نہیں تھا۔ یہ راز مجھ پر کیوں وا نہیں ہوتے تھے۔ مگر ماحول کی کشش اور جنت نظیر مناظر میری ساری توجہ واپس میرے اردگرد پھیلے ماحول کی طرف لے آتے۔
میں نے کوشش کی کہ اپنے ہاتھ کی ایک انگلی دانتوں تلے دبا کر زور سے کاٹ لوں۔ میں یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ یہ جو میں دیکھ رہا ہوں، یہ ایک خواب نہیں حقیقت ہے۔
ایک لمحے کو میں سوچتا کہ حقیقی دنیا میں تو یہ سب کچھ نہیں ہوتا مگر میں جہاں تھا اور میں جو دیکھ رہا تھا اس میں سوچ اور غور و فکر کا سلسلہ زیادہ دیر دراز نہیں رہ سکتا تھا۔
سچ تو یہ ہے کہ سوچنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس وقت تو یہ دل چاہ رہا تھا کہ غور کے سارے دروازے بند کر کے ان نعمتوں اور ان حیران کرنے والے ماحول سے لطف اٹھایا جائے جو اس لمحے، اس وقت مجھے میسر تھا۔
یہ تو احساس بھی نہیں تھا کہ یہ طویل وقت ایک لمحہ میں سمٹ جائے گا اور مجھے واپس اس دنیا میں لوٹنا پڑے گا جہاں مصائب کی تیز دھوپ ہے، جہاں مشقت اور محنت مگر ظلم و جبر ہے۔ جہاں نہ انصاف ہے اور نہ مساوات۔ جہاں طاقتور کمزور کو اور کمزور ، کمزور تر کو نشانہ بناتا اور لطف اٹھاتا ہے۔
میں ابھی حیرانیوں میں گھرا اپنے حواس پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا کہ ایک شفیق ہاتھ نے مجھے تھام لیا۔ قریب ہی ایک سہانی ندی کے کنارے قالین پر چند لوگ فروکش تھے۔ سہانی ہوا چل رہی تھی۔ نہ تیز دھوپ تھی اور نہ سردی کی شدت۔ بس دلپذیر موسم تھا۔
کسی نے ایک مشروب کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھمایا اور میں نے بے خودی کے عالم میں اسے لبوں سے لگا لیا۔ ایک سرور کی کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میرے مصائب سارے انجان تھے لیکن وہ سارے مہربان تھے۔
میں کہاں ہوں .... میں نے دریافت کیا۔ مگر میں تو قوت گویائی سے محروم تھا۔ میری زبان تو گنگ تھی۔ اس ماحول کی جاذبیت نے میری ساری قوتوں کو میری آنکھوں اور محسوس کرنے کی حسیات میں محدود کر دیا تھا۔
یہ آپ ہی کا گھر ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہاں اجنبی ہیں .... کسی سہانی دلنشیں آواز نے جواب دیا۔ مگر وہاں تو کوئی بولا نہیں تھا۔ یہ جواب کہاں سے آیا۔ کیا دل میں ابھرنے والا خیال آواز بن کر مواصلت کی منازل طے کر چکا تھا۔ میں نے مشروب کا ایک بڑا گھونٹ حلق سے نیچے اتارا اور چھم چھم کرتی ایک پری اپنے ہوشربا رقص سے مجھے نیند کی آغوش میں لے گئی۔
آنکھ کھلی تو منظر بدل چکا تھا۔ میرے لئے سارے کردار بھی نئے تھے۔
مگر وہ سب مجھے جانتے تھے۔ وہ مجھ سے مخاطب تھے اور وہ میرے لئے حاضر تھے۔
کیا میں یہاں اکیلا ہوں۔ میں کہاں سے آیا ہوں۔
نہیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ یہیں سے ہیں۔ یہی آپ کی دنیا ہے۔ آپ محو خواب تھے۔ غسل کر لیجئے اور پوشاک تبدیل کیجئے۔ کوئی میرا ہاتھ پکڑ کر سنگ مرمر کے چمکتے فرش پر چلاتا غسل خانے کی طرف لے گیا۔
مگر نل میں پانی تو ہو گا
ہاں کیوں نہیں
مگر شاید یہ گرم نہ ہو۔ گیس کا بھی مسئلہ ہے
نہیں پانی گرم کرنے کے لئے یہاں گیس استعمال نہیں ہوتی۔ یہاں پانی ویسا ہی ملتا ہے جیسا آپ چاہتے ہیں۔ یہاں ہر چیز آپ کی خواہش و ضرورت کے مطابق ہے۔
میں نے سحر زدہ کیفیت میں حمام کے اندر قدم رکھا۔ خوشبوﺅں کا ایک جہان آباد تھا۔
خوشگوار حرارت والا پانی ، وسیع تالاب نما غسل خانہ ، جھرنوں کی آب و تاب کے ساتھ پورے جسم کی تھکاوٹ کھینچ لینے والی بوچھاڑ۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے خود کو اس ماحول کے حوالے کر دیا۔ میں وہ سب سوچنا نہیں چاہتا تھا جو میرے اس خواب نما آج کو منتشر کرنے کا سبب بنتا ہو۔
مگر حیرتوں کا سلسلہ لامتناہی تھا۔
میں بازو پھیلا دئیے۔ میں ان نعمتوں کو سمیٹنا چاہتا تھا۔
میں چاہتا تھا سب کچھ ساکت ہو جائے اور میں اس دلپذیر منظر میں جامد ہو جاﺅں۔
میں نے سوچا اور میں ہو گیا۔
دیوار میں آویزاں اس تصویر کے ایک نامعلوم کردار کی مانند اور اس خوشگوار دنیا اور منظر نامے کے ایک جزو کے طور پر ........
آپ نے دیکھا۔ یا آپ بھی مجھے نظر انداز کر گئے۔