سرگوشی

کسی نے اس کے کان میں کچھ کہا

سننے والا اٹھا ۔ باہر پتھروں میں دبی بندوق اور بارود کو باہر نکالا اور جوش ایمانی سے لبریز وہ پوری قوت کے ساتھ پہاڑی چڑھنے لگا۔

اس چوٹی سے دور ایک دوسری وادی کے دامن میں ایک جھونپڑی میں ایک غریب عورت اپنی بکریاں دوہنے کے لئے نوعمر بیٹے کا انتظار کر رہی تھی ۔اس نے حیرت سے بیٹے کی خالی چارپائی کو دیکھا اور پریشان سی ہو کر سوچنے لگی کہ وہ کہاں گیا ہو گا۔

دھوپ آنگن میں پھیلی تو بوڑھی ماں کو بکریوں کا دودھ بھول گیا اور جواں سال بیٹے کی فکر ہوئی۔ وہ بھاگی قریبی جھونپڑیوں تک پہنچی۔ اس کے بیٹے کا تو پتہ نہ چلا مگر چند دوسرے لڑکے بھی اس بستی کی جھونپڑیوں سے غائب تھے۔

اﷲ انہیں کیا ہو گیا ۔ یہاں تو کوئی آیا بھی نہیں ۔ اب ان کے باپوں کو کیسے بتائیں کہ یہ سارے جوان بچے غائب ہیں ۔ وہ تو یہاں سے کوسوں دور مشقت میں مشغول ہیں تا کہ ان کے لخت جگر دو وقت کی روٹی کھا سکیں۔

ایک دوسرے سے لپٹتی وہ مائیں رو بھی رہی تھیں اور ایک دوسرے کو دلاسا بھی دیتی تھیں۔ ایک نے دوسری کے کان میں کچھ کہا۔

نہ مگر مولوی صاحب ہمارے بچوں کو ساتھ کیوں لے جائیں گے۔ وہ تو یہاں وعظ کے لئے آئے تھے۔ کتنی اچھی باتیں کرتے تھے ۔ میں تو چلی گئی تھی مگر میرا بیٹا ان کی محفل سے استفادہ کرنے کے لئے رک گیا تھا۔

رات ہو گئی اور پھر صبح .... بچے واپس نہ آئے روتی ماﺅں کے آنسو ان کے گالوں پر جھریاں بن کر جمنے لگے تھے۔

دو کہیں پہاڑیوں کے اس سلسلہ میں ایک وسیع دالان میں اس بستی اور دیگر دیہات سے آنے والے سارے نوجوان ایک جگہ جمع تھے۔ ان کے پیٹ خالی اور جسم ناتواں تھے۔ مگر وہ جوش ایمانی سے لبریز تھے۔

احاطے کے ایک کونے میں بنے ہوئے ایک کمرے میں بڑے حضرت صاحب فروکش تھے ۔ چند نوجوان ان کی خدمت پر مامور تھے۔

بہت سے علاقوں سے آنے والے چھوٹے مولوی جو دراصل ہرکارے تھے، باری باری اس کمرے میں داخل ہوتے ۔ بڑے حضرت صاحب اور آنے والے مولوی صاحب سرگوشیاں کرتے اور نوجوانوں کا ایک نیا ٹولہ اس گروہ میں شامل ہو جاتا جسے اس نیک مقصد کے لئے تیار کیا جا رہا تھا جس کے پورا ہونے سے پوری مسلم امہ کا بھلا ہونے والا تھا۔

نوجوانوں نے جلد ہی سیکھ لیا تھا کہ یہ دنیا فانی ہے اور اسے ختم ہو جانا ہے۔

ان کو پتہ تھا کہ مرنے کے بعد جو زندگی شروع ہو گی وہی حقیقی زندگی ہے۔

وہ یہ بھی جان گئے تھے کہ شہادت ایک ایسا مقام ہے جو صرف خوش نصیبوں کے حصے میں آتا ہے۔

بڑے حضرت صاحب حجرے سے برآمد ہوئے۔ ان کی گھنی داڑھی میں ابھی ایک نوجوان نے تیل لگایا تھا اور ان کا بھاری وجود مسلسل حلق سے نیچے اترنے والی انواع و اقسام کی نعمتوں کا راز فاش ہو رہا تھا۔

سارے مؤدب ایک قطار میں کھڑے ہو گئے۔

تنظیم بہت ضروری ہے۔

اعلیٰ حضرت دھیرے قدموں سے چلتے نوجوانوں کی طرف آئے۔

” تو تم تیار ہو “ انہوں نے پوچھا۔

” ہاں ہم تیار ہیں “ سب نے زور سے جواب دیا۔  اﷲ اکبر .... اﷲ اکبر۔

حضرت صاحب کا ہاتھ بلند ہوا تو اﷲ کے نام کی گونج ماند پڑ گئی۔

تم جانتے ہو شہادت سب کے نصیب میں نہیں ہوتی نہ یہ کوشش سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ مگر اﷲ نے تم کو چن لیا ہے۔ مبارک ہو ، مبارک ہو ، مبارک ہو۔

مبارکبادوں کے جلو میں یہ نوجوان اپنی اپنی گٹھڑی اٹھائے اپنے اپنے راستے پر روانہ ہو گئے۔ انہیں پتہ تھا کہ وہ ایک ایسی منزل کی طرف جا رہے ہیں جن کی طرف پہلا قدم وہ اٹھائیں گے اور ان کا اگلا قدم اﷲ کی رحمت سے جنت میں ہو گا۔

وہ سارے چہرے گلال تھے ، آنکھیں روشن تھیں۔

ان کے جسموں پر کئی انسانوں کی موت کا سامان بندھا تھا۔

دور وادی میں ایک بیمار ماں اپنی جھونپڑی میں اپنے لاپتہ بیٹے کے خالی بستر کو تک رہی تھی۔

وہ روز اس امید پر اس بستر کو سنوارتی تھی کہ کبھی تو اس کا لعل واپس آئے گا۔

” واپس تو ضرور آئے گا “ بوڑھی بیمار عورت نے اپنے آپ کو یقین دلانے کے لئے خود سے سرگوشی کی۔

دور پہاڑوں اور وادیوں سے دور تپتی سڑکوں اور بلند عمارتوں والے شہر میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

انسانوں کے ٹکڑے چاروں طرف پھیل گئے۔

پولیس نے ایک خود کش حملہ آور کا ہاتھ اور پاﺅں کے کچھ حصے اکٹھے کر لئے تھے۔

سرگوشی کرنے والی ماں کا دل اچانک بیٹھنے لگا ۔ اس نے اپنا کلیجہ تھاما اور فرش پر گر گئی۔