اعزاز
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 14 / جولائی / 2013
- 6445
وہ بول رہی تھی تو میں حیران پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتا تھا اور سوچتا تھا۔
یہ لڑکی ابھی دس ماہ قبل گولیوں کا نشانہ بنی تھی۔ گولی اس کا سر چیرتی ہوئی نکل گئی تھی اور ہاتھ اس کی صحت یابی کے لئے اٹھ رہے تھے۔
ڈاکٹروں کی ٹیمیں دن رات ایک کر کے اسے بچانے میں مشغول تھیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس جان لیوا حملے کے بعد یہ معصوم بچی کیوں کر جاں بر ہو سکے گی۔
آج وہ دنیا کے سب سے معتبر پلیٹ فارم پر کھڑی ، دنیا کے طاقت ور رہنماﺅں کے جلو میں ، درجنوں ملکوں سے آئے ہوئے نوجوانوں کے سامنے یہ بتا رہی تھی کہ میں تو وہی ملالہ ہوں۔
تو کیا اس بارود اور اس ظلم میں اتنی سکت بھی نہیں کہ ایک لڑکی کو مار نہیں سکتا تو کم از کم اسے خاموش کروا دے۔ بے حوصلہ کر دے اور اسے تبدیل کر دے۔
اسے احساس دلا دے کہ یہ جو بارود پیٹھ پر اٹھائے ، بندوق تھامے خالی الذہن لوگ ۔۔۔ بدحواس دیوانوں کی طرح دھماکے کرتے اور گولیاں چلاتے چھرتے ہیں ۔۔۔ انہیں اس کی آواز ، اس کی رائے ، اس کا مشن قبول نہیں ہے۔
اسے خاموش رہنا چاہئے۔
جان لینا چاہئے کہ اگر وہ بچ گئی ہے تو یہ اللہ کا عظیم کرم ہے ۔ یہ موقع اسے دوبارہ نہیں ملے گا۔
اسے باز آ جانا چاہئے کہ وہ جو کہہ رہی ہے ۔۔۔۔ اسے یہ اسلحہ بردار گمرہی ، اسلام دشمنی اور ثقافتی بغاوت قرار دیتے ہیں۔
مگر یہ لڑکی تو بول رہی ہے۔ اس کی آواز میں ٹھہراﺅ بھی ہے اور تمکنت بھی۔ اس کا لہجہ نرم مگر اس کے الفاظ واضح ہیں ۔ وہ صاف لفظوں میں ایک عزم ، ایک ارادے اور ایک مشن کی بات کر رہی ہے ۔ وہ کہہ رہی ہے۔
یہ آواز ایک ملالہ کی آواز نہیں ہے۔
یہ آواز ان لاکھوں لوگوں کی آواز ہے جو اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
یہ آواز امن ، بھائی چارے کو عام کرنے کی بات کر رہی ہے۔
یہ بتا رہی ہے کہ ہر عورت ، لڑکی اور لڑکے کو تعلیم حاصل کرنے اور مساوی مواقع کا حق ملنا چاہئے۔
اس لڑکی کی آواز میں لغزش نہیں ولولہ ہے۔ اس کے پیغام میں نفرت نہیں ساتھ مل کر چلنے کی آرزو ہے ۔ اور وہ کہہ رہی ہے اگر آج وہ شخص میرے سامنے کھڑا ہو جس نے مجھ پر گولی چلائی اور میرے ہاتھ میں کارتوس سے بھرا پستول ہو ۔ پھر بھی میں اس پر گولی نہیں چلاﺅں گی۔ میں اسے معاف کرتی ہوں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔
16 برس کی ایک لڑکی عفو اور رحم کی بات کرتی ہے اور اس کا چہرہ اور الفاظ اس کی سچائی کی تائید کرتے ہیں۔
اس کا عزم ، اس کا حوصلہ اور اس کا مقصد ایک پیغام ہے جو گھر گھر پہنچے۔ میں بے ساختہ اپنی نشست سے کھڑا ہو گیا ۔ میرے ہاتھ تالی بجانے کے لئے بلند ہوئے ........
اچانک کسی نے انہیں تھام لیا۔
” اب یہ کیا کرتے ہو ۔ ایک ڈرامے باز کے لئے اپنی تالیاں اور تحسین ضائع نہ کرو“۔
” ڈرامے باز “ میں نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا ۔ اس کا چہرہ کرخت ، آنکھیں خونی اور لہجہ سخت تھا۔
” مگر یہ تو ایک بچی ہے۔ ابھی بستر مرگ سے اٹھی ہے۔ وہ تو محبت اور معاف کرنے کی بات کرتی ہے۔ اس میں ڈرامہ کیسا .... یہ تو ایک عزم ہے ۔ ایک پیغام ۔ ایک حوصلہ ........ “
ابھی میری بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ اس شخص نے حقارت سے مجھے بیچ میں ہی ٹوک دیا۔
یہ مسلم امہ کے خلاف سازش ہے۔ یہ اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس لڑکی کو آلہ کار بنایا گیا ہے۔ تم نہیں دیکھتے کیسے اسے پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر سے لا کر اس بڑے پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا گیا ہے تا کہ وہ ہماری روایت اور تہذیب کا جنازہ نکال سکے۔
مگر اس نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ وہ تو شہید لیڈر بے نظیر کی چادر اوڑھے روایتی پاکستانی لباس میں وقار اور اعتماد کے ساتھ بات کرتی ہے۔ تم کو اس میں سازش کہاں سے نظر آ گئی۔
مگر کیا ظلم کا شکار ہونے والی وہ تنہا ہے
نہیں مگر وہ ظلم کے خلاف اس کم عمری میں آواز بلند کرنے والی شاید تنہا حوصلہ مند ہے۔
اسی لئے دنیا اس کے ساتھ ہے۔ سب اس کو قدر سے دیکھ رہے ہیں ۔ اس لڑکی نے پاکستان کو عزت اور مرتبہ عطا کیا ہے۔
وہ قابل تحسین ہے۔
میں تو اس کے لئے تالی بجاﺅں گا۔
آﺅ تم بھی اس ستائش میں شامل ہو جاﺅ۔
اس نے میرا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹکا اور حقارت سے پاﺅں پٹکتا کمرے سے نکل گیا۔