ایک سفر

میں نے اسے قبر میں اتارا تو اس نے مجھے پکارا:

مجھے کہاں چھوڑے جاتے ہو

میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے اور میں نے ادھر ادھر دیکھا۔ میں نے چاہا کہ میرے ساتھ وہ سارے زندہ لوگ جو میرے اس دوست کو قبر میں اتارنے آئے تھے ، اب میرا ساتھ دیں۔

میں اس آواز کو وہم سمجھا تھا۔ مگر یہ وہم نہیں تھا کہ میں اس قبر کے دہانے پر کھڑا تھا۔ وہ سب دوست ، احباب اور رشتہ دار جو اس قبرستان تک اس شخص کو اس کی آخری منزل تک پہنچانے آئے تھے ، سب وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔ آخر میں ہی کیوں یہاں اکیلا رہ گیا۔

میں نے چاہا کہ قدم بڑھاﺅں اور اس آسیبی آواز کے چنگل سے آزاد ہو جاﺅں۔ مگر وہاں میری مدد کے لئے کوئی نہیں تھا۔ میرے پاﺅں من من کے ہو رہے تھے اور چاہنے کے باوجود ان میں جنبش کی سکت نہ تھی۔

میں اسی گومگو میں تھا کہ اس کی کراری آواز پھر سنائی دی۔ اب سوچتے کیا ہو۔ آﺅ دیکھو یہاں کتنا نظارہ ہے۔ اچھے دوست ہو جو مجھے یہاں دبا کر بھاگے جاتے ہو۔ آﺅ تمہیں میں اپنا نیا گھر دکھاﺅں۔

میری ٹانگوں پر لرزہ طاری تھا۔ دل بیٹھ رہا تھا۔ میں نے سوچا شاید میرا آخری وقت آن پہنچا۔ پھر میں نے اپنی ساری ہمت جمع کر کے سوچا کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ ایک مرے ہوئے کے ساتھ ایک زندہ انسان بھی قبر میں اتر جائے۔ مجھے اور کوئی صورت نظر نہ آئی تو میں نے حوصلہ کر کے سارے ابہام کو پس پشت ڈال کر اس آواز کو جواب دیا:

“دوست ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔ یہی مشیت ایزدی ہے۔ افسوس اب تمہارا وقت پورا ہؤا۔ ہم نے کیا خوب دن گزارے تھے اور تمہیں زندگی سے کتنا پیار تھا ۔ کیسی نفیس چیزیں تم اپنے گھر پر جمع کرتے تھے“۔

“اور تم نے ساری زندگی جو خواب دیکھے انہیں پورا کرنے کے لئے خوب محنت کی۔ تم نے کامیابی چاہی۔ وہ تم کو مل گئی ۔ اور اب یہی دیکھ لو تم نے عین روانگی سے پہلے کتنا عالیشان محل کھڑا کیا تھا۔ اس گھر کا ڈرائنگ روم پہاڑیوں کی اوٹ میں تھا اور تمہارا شاندار بیڈ روم سامنے بہنے والی ندی کا نظارہ دکھاتا تھا۔ تم کھیت ، باغ اور پھول پسند کرتے تھے۔ وہ سب تمہاری نظر کے سامنے تھے“۔

“افسوس تمہارا وقت پورا ہؤا۔ اب تو مجھے جانا ہے۔ اور تمہیں اپنے نئے سفر پر روانہ ہونا ہے۔ لو اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو“۔

میرا خیال تھا کہ میری پند و نصیحت سے بھری باتیں سن کر وہ متاثر ہو گا اور اس کی جادوئی آواز میرا پیچھا چھوڑ دے گی لیکن وہ ہمیشہ کا ضدی تھا۔ قبر کی گہرائی بھی اس کے لہجے کی کھنک اور زبان کی شیرینی کو کم نہیں کر سکی۔

وہ گویا ہوا : ارے تم نہیں سمجھے۔ تم مرنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہو۔ میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنا مہمان بنانا تو نہیں چاہتا۔ یہاں تو اپنا اپنا معاملہ ہے۔ نہ کوئی کسی کی مدد کرتا ہے اور نہ تعاون چاہتا ہے۔ اور یہ جو تم سمجھتے ہو، یہ قبر کے اندر ویسی تاریکی بھی نہیں ہے۔ آ کر تو دیکھو یہاں بڑا نظارہ ہے۔ نہ لوڈ شیڈنگ کا جھنجھٹ ہے اور نہ بجٹ بنانے اور مصارف پورے کرنے کی پریشانی۔ میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ آﺅ دیکھو تا کہ تم کو پتہ چلے کہ مرنا اتنا بھی برا نہیں ہے۔

اس کی دل نشین باتوں نے میرے خوف کو کچھ کم کیا۔ مگر اگلے ہی لمحے زندگی سے پیار کرنے والا انسان جاگ اٹھا۔ اس نے ڈپٹ کر مجھ سے کہا: خبردار اس کی باتوں میں نہ آﺅ۔ یہ تو وسوسہ ہے۔ وہ مرا ہوا شخص تم سے کیوں کر مخاطب ہو سکتا ہے۔ یوں بھی تم جانتے نہیں خود کشی حرام ہے۔ کوئی مرنے والوں کے ساتھ نہیں مرتا۔ اگر ایسا ہونے لگے تو رب کی بنائی ہوئی یہ کائنات انسانوں سے خالی ہو جائے۔ اب چلو تم اپنے دوست سے الوداع کہو اور اسے اپنے اعمال کا حساب دینے دو۔

عقل و دانش کی یہ باتیں سن کر پھر سے میرا حوصلہ بلند ہوا۔ ایک عزم تازہ کے ساتھ میں نے پھر اس قبر نشین کی باتوں کو مسترد کرنا چاہا۔ مگر آواز میرے حلق سے نہ نکلی۔ نہ جانے کیا ہؤا۔ میں یہ کہاں آ گیا۔

یہ تم میری قبر میں ہو .... اس کی آواز آئی۔ وہ مسرور تھا۔ ہمیشہ کی طرح بحث میں جیتنے کے بعد اس کے لہجے میں نشاط کی ایک کیفیت ہوتی۔ وہ کیفیت اب بھی بدرجہ اتم موجود تھی۔

مگر یہ تو قبر نہیں۔

یہی تو میں کہہ رہا تھا۔ یہ تو ایک ایسا جہان ہے جس سے تم بے خبر تھے۔ میں نے چاہا کہ تم کو یہ نظارے دکھا دوں۔ تم جو ہمیشہ سے مرنے اور قبر کے عذاب کی باتیں کرتے تھے۔ دیکھو یہاں کتنا سکون ہے۔

مگر یہ آہ و زاری کیسی۔ یہ کون روتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کے عزیزوں دوستوں نے یہاں پہنچا دیا۔ ان کے خون سے ہاتھ رنگے۔ یہ دکھی ہیں کہ انہوں نے کیا سوچا تھا اور یہ سارے رشتے کیسے نکلے۔

آﺅ تمہیں اس گلستان کی سیر کراﺅں۔

میں اس آواز کے ہمراہ آگے بڑھا۔ دلفریب جہان رنگ و بو میں تنہائی کا احساس شدید ہونے لگا۔

مگر یہاں تو میں اکیلا ہوں۔ میں کیا دیکھوں۔

تم زندوں کی دنیا سے آئے ہو۔ اس لئے تم دیکھ سکتے ہو سن نہیں سکتے۔ یہ صرف ہمارے اختیار میں ہے۔ وہ تمسخرانہ انداز میں ہنسا اور بولا: تم صرف اس کی آواز سن سکتے ہو جو تم سے مخاطب ہونا چاہے۔ تم اپنی مرضی سے کسی کو مخاطب نہیں کر سکتے۔ یہ ہماری دنیا ہے۔ یہاں ہمارا اختیار ہے۔

وہ خاموش ہؤا ہی تھا کہ اچانک بہت سی آوازیں میرا پیچھا کرنے لگیں۔ اچھا تو یہ زندوں کی دنیا سے آیا ہے۔

اس کو لوٹ جانا ہے۔ ادھر آﺅ میاں میری بات بھی سنو۔

نہیں میری سنو۔ اس دنیا کے باسیوں کو میرا پیغام بھی پہنچانا۔ اب سندیسہ لے جانے والا کوئی روز روز تو نہیں آتا۔
ایک آواز آوازوں کے اس ہجوم میں سے گویا سب کو دھکیلتی ہوئی مجھ سے مخاطب ہوئی:

نہ میری بات سنو۔ بتانا میرے اس ناکارہ شوہر اور اس کی لالچی ماں کو جنہوں نے پیٹرول چھڑک کر مجھے جلا دیا اور اپنے تئیں اس ویرانے میں پھینک گئے۔ بتانا کہ میں یہاں کتنی خوش ہوں۔ اور جو جہنم وہ مجھے دینا چاہتے تھے وہ ان کے نصیب میں لکھی ہے۔ وہ کہیں گے کہ زندہ ہیں۔ مگر وہ مرنے کی اذیت سے گزررہے ہیں۔ وہ آواز کھکھناتی ہوئی دور ہو گئی۔

ایک آواز نے بھائی کے ظلم کا قصہ سنایا کہ باپ کی جائیداد کا اکیلا وارث بننے کے لئے کس طرح اس نے اسے زہر دے کر مار دیا۔

وہ آوازیں بولتی رہیں۔ میری سننے کی صلاحیت گویا مفقود ہو گئی مگر اس نوجوان آواز کی سسکیوں نے میری غنودگی اور تھکن دور کر دی۔

کیا تم کو نوعمری میں مرنے کا غم ہے؟ میں نے اس آواز سے اس کی عمر کا اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا۔

نہ۔ وہ سسکیاں اب باحوصلہ آواز میں تبدیل ہو گئیں۔ میرے اہل خاندان نے اس روز میری اکیسویں سالگرہ دھوم دھام سے منائی تھی۔ سب مدعو تھے۔ میری ماں میرے واری جاتی تھی اور بہنیں صدقہ اتار رہی تھیں کہ مجھے کسی کی نظر نہ لگے۔ اسی روز شام کو باہر نکلا تو ایک زبردست کے منہ زور بیٹے اور اس کے دوستوں نے میرا سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ میں تو خوش تھا کہ ایک ظالم دنیا سے اس دلفریب نگری میں آ گیا۔ مگر مجھے اپنے باپ ، ماں اور بہنوں پر افسوس ہوتا۔ میں چاہتا تھا کہ کسی طرح ان کو یہ پیغام پہنچا سکوں کہ میں کتنے سکون میں ہوں۔

اچھا تو میں بتا دوں گا ان کو .... میں نے تسلی دیتے ہوئے اسے جواب دیا۔

نہ دوست تم نے آنے میں دیر کر دی۔ اب تو وہ میری لاش کا سودا کر چکے۔ میرے باپ نے خوں بہا لے کر میرے قاتلوں کو معاف کر دیا۔ یہ معافی نہیں سودا ہے۔ میں یہ سنتا ہوں تو یہاں بھی میرا دل پھٹا جاتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ تمہاری طرح میں بھی اس دنیا میں واپس جاﺅں تو ان سب سوداگروں کا گلا دبا دوں۔

مگر میں جا نہیں سکتا۔ اور تم سے کہہ نہیں سکتا۔ یہی تو ہماری اس دنیا کی مجبوری ہے۔

وہ سسکنے لگا۔

سناٹا پھر گہرا ہو گیا۔

میرا سر پھٹنے لگا۔ جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔

بجلی پھر چلی گئی تھی۔

پنکھا بند ہو چکا تھا۔

آنکھ کھلی تو میں بستر پر بدحواس بیٹھا اس جہاں کو یاد کر رہا تھا۔