روشنی
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 22 / اکتوبر / 2013
- 6662
اس نے کہا یہ روشنی ہے۔
میں نے دیکھا تو میں گھپ اندھیرے کا اسیر تھا۔ میں حیران ہؤا اور پریشانی سے اس سے پوچھا کہ یہ کیسی روشنی ہے۔ مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
اس آواز نے اسی تحکمانہ اور پرجوش لہجے میں جواب دیا کہ یہ روشنی تمہیں اس لئے نظر نہیں آتی کیوں کہ تمہاری عقل پر کفر کا پردہ ہے۔ تم غیر جانبداری سے کچھ دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہو۔ تمہیں علاج کی ضرورت ہے۔
مگر اس میں تعصب یا نظریہ کی تو بات نہیں ہے۔ یہ تو واقعاتی معاملات ہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جو کہہ رہے ہو وہ محض گمراہ کن باتیں ہیں۔ تمہارے سارے عمل دورِ تاریک کے نمائندے ہیں۔ تم بات نہیں سنتے۔ تم دلیل نہیں دیتے۔ تم محض فیصلے ٹھونستے ہو۔ تم تو گولی مارنے اور خون بہانے کی بات کرتے ہو۔ یہ کیسی روشنی ہے۔
کیوں خود سے جھوٹ بولتے ہو۔ اس نے جواب دیا۔ اب دیکھو میں کتنی دیر سے تمہاری لغویات سن رہا ہوں۔ تم جو کہہ رہے اسے برداشت کر رہا ہوں۔ حالانکہ میں جانتا ہوں کہ یہ کفر کے کلمات ہیں۔ شیطان تمہارے اندر حلول کر چکا ہے۔ یہ تم نہیں۔ وہ شیطانی قوت بول رہی ہے جس کا تم پر قبضہ ہے۔
مگر یہی بات میں تمہارے بارے میں بھی کہہ سکتا ہوں۔ تم خود گمراہی کے راستے پر گامزن ہو۔ دوسروں کو مارتے ہو اور اپنی نیک نیتی اور خداپرستی کے نعرے لگاتے ہو۔
نہ اس نے میری بات کاٹی۔ اب بہت ہو چکا۔ اب میں نہیں میری بندوق بولے گی۔
ایک آواز بند ہوئی۔ گولیوں کی بے رحم صدا نے ایک شور بپا کیا اور پھر ایک سکوت چھا گیا۔
اندھیرا مزید گہرا ہو گیا۔
کیا اس اندھیرے میں روشنی کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیا کبھی کہیں سے کوئی کرن نظر آئے گی۔ کیا کوئی اس حصارِ ستم کو توڑ سکے گا۔ کیا کوئی کبھی میری گفتار مجھے واپس دلا سکے گا۔
میں جو ایک لاش ہوں۔ جسے سب بے وقعت اور حقیر جان کر مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا کیا ہے۔ اس کی کوئی مرضی، کوئی پہچان نہیں ہے۔ بھاری بوٹ، تلخ آوازیں، چیخیں اور گولیاں۔
میرا بے جان جسم اب قوت گفتار سے محروم ہے۔ میرا لاشہ ویران بنجر زمین پر پڑا ہے۔ اس لاشے کو ڈھانپنے والا کوئی نہیں ہے۔
وہ بھی نہیں جو کبھی میرے ہمنوا تھے اور وہ بھی نہیں جن کے سینے میں میرے لئے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔
یہ ایک مردہ قوم کی زندہ کہانی ہے۔
کبھی کوئی صدا آتی ہے تو لگتا ہے کوئی لاش بولنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ورنہ قبرستان کا سناٹا ہے۔
اب تم گمراہ ہو رہے ہو۔ میرے ساتھ پڑے ایک اور لاشے نے سرگوشی کی۔
یوں لگا میری ساری حسیات زندہ ہو گئیں۔ میری آنکھیں گھوم نہ سکتی تھیں مگر دیکھ رہی تھیں۔
میں بے جان تھا مگر محسوس کر سکتا تھا۔
میری آواز چھین لی گئی تھی مگر قوت گویائی کہیں مچل رہی تھی۔
میں نے سننا چاہا۔ محسوس کرنا چاہا۔ اس آواز کو سمیٹنا چاہا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ میرا مردہ جسم کیوں کر یہ حرارت محسوس کر رہا ہے۔ یہ آواز مجھے کیسے سنائی دے رہی ہے۔
تم مر نہیں سکتے۔
مجھے پھر وہ آواز آئی۔
تم لاش نہیں احساس ہو۔ مگر خود کو مردہ قرار دو گے تو مرے ہوؤں سے بدتر ہو گے۔
میرا سارا وجود کھنکھنا اٹھا۔ مجھے لگا کہ میرے سارے بدن میں ایک حرارت، ایک رمق، ایک امید عود کر آئی ہے۔
آہ یہی میں کہتا ہوں۔ اب وہ لاشہ نہیں ایک زندہ تابندہ آواز تھی۔
تاریکی اور اندھیرا طاقت نہیں، موت ہے۔ تم نے اسے زندگی اور کامیابی سمجھنے کی غلطی کی ہے۔
میں نے سنا۔ میں نے غور کیا۔ میں نے سمجھنے کی کوشش کی۔
طاقت سوچ میں ہے، مان لینے میں ہے، قائم رہنے میں ہے، قوت روشنی میں ہے۔ ایک شمع اندھیرے سے بھرے بن کو روشن کر سکتی ہے۔ مگر تاریکی کے پرے ایک کرن کی قوت کو کم نہیں کر سکتے۔
اب میرا وجود ہرا ہو رہا تھا۔
میں زندہ ہو رہا تھا۔
اندھیرا دور ہو چکا تھا۔
میں جان گیا تھا کہ میرا مرنا مایوسی کی جیت ہے۔
میرا اٹھنا امید کی آواز ہے۔
میں نے دیکھا کہ اس مسلی ہوئی زمین پر جہاں بندوق بردار کے بھاری بوٹوں نے زندگی روندی تھی۔ زمین دھیرے سے چٹخی اور پھر اس میں سے ایک سبز پتی نے سر باہر نکالا۔
اس نے دنیا کو دیکھا۔
چاروں جانب اجالا پھیل چکا تھا۔