وہ وہاں نہیں تھا
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 14 / دسمبر / 2013
- 5814
سب وہاں موجود تھے۔
میں بھی تھا اور تم بھی تھے
مگر وہ نہیں تھا۔
سارے بہت بڑی بڑی باتیں کرتے تھے۔ بہت سی باتیں میری فہم سے بالا تھیں لیکن اکثر کہنے والوں کے اپنے ادراک سے بھی ماورا تھیں۔ لیکن وہ باری باری بولتے تھے۔ ان پر واہ واہ ہوتی تھی۔
میں نے تم سے کہا یہ لوگ کیا بولتے ہیں۔ تم کو ان باتوں کا مفہوم معلوم ہے۔ تمہارا جواب کتنا سارہ تھا: کہ ہاں اس میں کیا مشکل ہے۔ یہ سارے جن میں تم اور میں بھی شامل ہیں، یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہمیں ترقی کرنی اور آگے بڑھنا ہے۔
” اچھا “ میں نے حیرت سے پوچھا۔ مجھے تو ان قد آور دانشوروں کی کسی بات سے آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کی کسی خواہش کا اندازہ نہیں ہؤا۔ تمہیں یہ کیسے پتہ چل گیا۔
تم نے مضحکہ اڑاتی ہوئی خشمگین نگاہوں سے مجھے گھورا تھا۔ اور کہا تھا کہ ترقی ثمرات کا نام ہے۔ یہ کچھ حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ ہم سب یہاں پر اپنے اپنے حصے کا پھل پانے آئے ہیں۔ فائدہ اٹھانے آئے ہیں۔
ہاں چلو یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو ان باتوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ تو میرے حصے کی ترقی کہاں ہے۔
تمہارا قہقہہ ابھی تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ تم نے مجھے گھورا اور یوں دیکھا جیسے کوئی بچہ کسی اعلیٰ درجے کی کلاس میں غلطی سے داخل ہو گیا ہو۔ اور اب ایک سینئر طالب علم سے یہ ضد کر رہا ہو کہ یہ علم و اسرار کی باتیں اس کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہیں۔
مجھے حیرت تب ہوئی جب یہ ساری باتیں جو تمہارے قہقہے کی گونج نے میری سماعت سے ہوتے ہوئے میرے شعور تک پہنچائی تھیں .... تم نے الفاظ میں بیان بھی کر دیں۔ تم نے کہا تھا:
تم غلط وقت ، غلط جگہ اور غلط توقع کے ساتھ آئے ہو۔ تمہاری فہم کا علاج میرے پاس نہیں ہے۔ اب مجھے یہ بات سننے دو۔ جانتے نہیں یہ ہمارے شہر کے دبستانِ خرد کے ستارے ہیں۔
میں خفیف ہو گیا۔ تم نے اپنی جگہ بدل لی اور میں اکیلا رہ گیا۔
کمرے کی آخری نشست پر اپنی جگہ پر بیٹھا میں سوچنے لگا کہ یہ باتیں میری سمجھ میں کیوں نہیں آتیں۔
کیا اس لئے کہ یہ دانش اور فہم کی باتیں ہیں یا اس لئے کہ وہ انہی خوبیوں سے عاری ہیں۔
میں نے جلسہ گاہ پر نظر ڈالی اور اسے تلاش کرنے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ یہاں ہو گا۔ یہ بڑوں کی محفل تھی اور اس میں ان کیفیات اور احساسات کی بات کی جا رہی تھی جو انسان کو ان ارفع خوبیوں کی طرف بڑھنے میں مدد کرتی ہیں ، جن سے روح کو بالیدگی ، فرد کو شعور اور معاشرے کو تبدیلی کا حوصلہ ملتا ہے۔
میری نگاہیں تھک گئیں .... وہ کہیں نہیں تھا۔ وہ یہاں کیوں نہیں ہے۔
کل جب میں اس سے ملا تھا تو وہ اپنی کٹیا میں کیسے سکڑا بیٹھا تھا۔ اس کی عاجزی سے مسکینی کا شائبہ ہوتا تھا۔ میں نے اپنی خود پسندی میں جھونپڑی نما اس جگہ کو بظاہر رعونت مگر درحقیقت حقارت سے دیکھا تھا۔ وہ گھر اس کا تھا مگر مجھے لگا کہ اس کا مالک میں ہوں۔
باتیں شروع ہوئیں۔
میں بولتا رہا۔ وہ سنتا رہا۔ آخر تنگ آ کر اس نے پوچھا:
تم یہاں کیوں آئے ہو
میں یہاں عقل و دانش سے اکتساب کرنے آیا ہوں۔ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم معاملات کو جانتے ہو۔ وسیع مطالعہ کرتے ہو۔ تاریخ ، تمدن اور تہذیب کے علاوہ ادب اور فلسفہ پر تمہاری دسترس ہے۔
میں نے اس کے چہرے پر حیا کی لالی دیکھی مگر اسے قابل غور نہیں سمجھا۔
مگر۔۔۔
ہاں مگر کیا۔ مایوس ہوئے نا؟
اس نے میرے دل کی بات کو ادا کر دیا۔ تو اس ساری تہذیب اور رکھ رکھاﺅ کے سبب جو میری دنیا نے مجھے سکھایا تھا، مجھے خجالت کا احساس ہؤا۔
میں جو بھی سوچوں۔ میرے چہرے اور تاثر سے کسی کو میرے دل کی بات کا پتہ نہیں چلنا چاہئے۔ مگر یہ میرے دل کا راز کیسے پا گیا۔
” نہ میں دلوں کا حال نہیں جانتا۔“ اس کی باریک آواز ایک ہتھوڑا بن کر میرے سر پر لگی۔
میرے استاد نے تو مجھے صرف انسان پہچاننے کا گر سکھایا ہے۔
بس میں اسی میں دسترس حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سیکھتا رہتا ہوں۔
پھر وہ کٹیا وسیع ہو گئی۔ کونے میں سکڑا سمٹا وہ شخص اس وسیع کائنات پر حاوی ہو گیا۔
مجھے لگا کہ میں کسی دیوقامت کے سامنے ایک بالشتیا ہوں۔ وہ اپنی ہتھیلی پر بٹھا کر مجھ سے کہہ رہا ہے کہ تم جو بھی سوچو ، کچھ بھی چھپاﺅ۔ مجھ پر سب آشکار ہے۔
” یہ حقیقتیں آشکار کیسے ہوتی ہیں “ میں نے عاجزی سے پوچھا۔
” اس کے لئے اپنی سچائی جاننا پڑتی ہے “
اس کا جواب میری سمجھ میں نہیں آیا لیکن اس کی شخصیت مجھ پر حاوی ہو گئی۔ میری فرار کے سارے راستے بند تھے۔
میں اس گھر سے نکلا تو یوں لگا کہ مالا مال بھی ہوں اور تہی دست بھی۔
میں جلسہ گاہ میں اس سکڑے سمٹے صاحب فہم و فراست کو تلاش کرتا رہا۔
محفل اب اپنے عروج پر تھی۔ باتیں مزید بلند و بانگ ہونے لگی تھیں۔ لگتا تھا کہ بازی لگی ہے اور ہر شخص اس میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا تھا۔
لفظ شاندار تھے۔ تشبیہیں اور استعارے بے مثال تھے مگر وہ شب .... جو میں نے اس کے حجرے میں بتائی تھی مجھے ان باتوں کی کھنک اور شان و شوکت سے لاتعلق کر چکی تھیں۔
میں نے آخری کوشش کی۔ مگر اسے نہ پا کر میں جلسہ گاہ سے اٹھا اور اس کی کٹیا کی جانب روانہ ہؤا۔ وہ گھر میں ہی تھا۔ گویا میرا انتظار کر رہا ہو۔
تم وہاں نہیں آئے۔ وہاں تو دبستانِ خرد کے سارے ستارے تھے۔
وہ عاجزی سے مسکرایا۔
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پھر تھوڑی دیر بعد پوچھا:
مگر تم وہاں سے کیوں آ گئے؟
(تحریر: سید مجاہد علی)