خواب
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 22 / دسمبر / 2013
- 5977
وہ عجیب خواب تھا۔
نہ شور تھا نہ ہنگامہ۔
سب کام ہو رہے تھے۔ سڑکوں پر گاڑیاں رواں تھیں۔ ٹرینیں بروقت اپنی منزلوں پر پہنچ رہی تھیں اور تمام طیارے مختلف جگہوں پر اتر بھی رہے تھے اور پرواز بھی کر رہے تھے لیکن جس شور کا میں عادی تھا وہ موجود نہیں تھا۔
کیا یہ کوئی دوسری دنیا ہے۔
نہیں اب انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہؤا ، ماحولیات کی بہتری کی منزلیں مارتا اس مقام تک پہنچ چکا ہے جہاں صنعتی انقلاب نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے۔ اب سب مشینیں انسان کی دسترس میں ہیں۔ وہ نہ آلودگی پیدا کرتی ہیں اور نہ ہی ان کے استعمال سے ہنگامہ برپا ہوتا ہے۔
دنیا کتنی پرسکون ہو چکی ہے۔ یہ تو کئی ہزار سال پہلے کا زمانہ لگتا ہے۔ تب انسان محدود اور دنیا وسیع تھی۔ اب انسان نے اپنی عقل و مہارت سے دنیا کو محدود بھی کر لیا ہے اور اسے اتنا وسیع بھی کہ وہ فطرت کی خاموشی اور فیاضی کا لطف بھی اٹھا سکتا ہے۔
اب وسائل کی تقسیم کا جھگڑا بھی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان نے نئے وسائل دستیاب کر لئے ہیں۔ ان کی فراوانی کی وجہ سے کسی کو محرومی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
حیرت ہے کہ اسلحہ ساز صنعتیں اب معدوم ہو چکیں۔ اب دشمنی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اسی لئے کوئی کسی کے عقیدے اور نظرئیے سے پریشان نہیں ہے۔ اب نعرے بلند نہیں ہوتے اور حکومتوں کو سکیورٹی کے نام پر تشدد کا سہارا بھی لینا نہیں پڑتا۔
اور حکومت کیا ہے۔ اب تو لوگ یہ معاملات بھی مشینوں کے سپرد کر چکے۔ ایسے بہت سے کام جو حکومتوں کو سرانجام دینا پڑتے تھے اب آٹو میسیج کے ذریعے کمپیوٹر خود ہی سرانجام دے لیتے ہیں۔ اس لئے انتخاب کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اب تو لوگ امور مملکت دیکھنے کو ذمہ داری اور ڈیوٹی سمجھتے ہیں اور اسی وقت اس فرض کو نبھاتے ہیں جب اصول و قاعدے کے مطابق اپنی باری پر انہیں یہ کام سرانجام دینا پڑتا ہے۔ اس لئے انتخابات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رقابتوں کا سلسلہ کب کا ختم ہو چکا ہے۔
تم سب کو بنیادی سہولتیں حاصل ہو جاتی ہیں؟
ہاں اب لوگ بیمار نہیں ہوتے اس لئے اسپتالوں کی ضرورت نہیں ہے۔ کھیتوں میں کام کے لئے مشینیں ہیں۔ صنعتی پیداوار خود کار نظام کے تحت ہی کم یا زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے مزدوروں اور مزدور یونینوں کا جھنجھٹ بھی ختم ہؤا۔
اسکول کی اب ضرورت نہیں ہے۔ بچوں کو بھی استاد جتنا ہی علم حاصل ہے۔ اب علم کتاب سے نہیں الیکٹرانک چپ کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔ مساوات کے اصول کے تحت ہر شخص کو ساری معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس لئے ہر شخص ڈاکٹر بھی ہے اور سائنسدان بھی ، استاد بھی ہے اور کسان بھی۔ معلومات کا حصول اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اب معلومات ہر کسی کی فنگر ٹپ پر ہیں۔ انگلی دبائی اور کمپیوٹر کی اسکرین پر ہر معاملہ کا سارا کچا چٹھا موجود ہوتا ہے۔
اب زبان و بیان سے پیدا ہونے والے اختلافات کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ اب اس دنیا کے ہر انسان کو ہر زبان پر مکمل دسترس حاصل ہے۔ اس لئے اب یہ مشکل نہیں ہے کہ ترجمہ کا اہتمام کیا جائے اور پھر ترجمہ کی غلطیوں کی وجہ سے آپس میں جھگڑا کیا جائے۔ بلکہ ایک سطح پر پوری دنیا کے انسانوں نے اس بات پر بھی غور شروع کر دیا تھا کہ مختلف زبانوں اور طریقہء اظہار کو متروک کرتے ہوئے ایک ہی عالمی مواصلاتی ذریعہ پر اتفاق رائے کر لیا جائے۔ تب کچھ جہاں دیدہ دانشوروں کی یہ بات سب کو سمجھ آ گئی کہ تنوع کا اپنا حسن ہوتا ہے۔ اس لئے بنی نوع انسان نے ہزارہا سالوں کے دوران جو مختلف زبانیں ، ثقافتی رویے ، رسوم و رواج اور مواصلت اور اظہار کے ذریعے ایجاد کئے ہیں انہیں محفوظ رکھا جائے بلکہ ان کی پرداخت کے لئے کام کیا جائے۔
چونکہ اس کائنات کا ہر شخص ہر زبان اور مواصلاتی استعاروں اور ادبی و فنی اظہار پر دسترس اور ادراک رکھتا تھا اس لئے کسی کو بھی کسی بھی اظہار میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی اور نہ ہی محض زبان یا ثقافتی اظہار اور سماجی رویہ کی وجہ سے تعصب اور امتیاز کی کیفیت پیدا ہوتی تھی۔
اکثر یوں ہوتا کہ پارکوں ، کیفے یا کسی ادبی و ثقافتی نشست میں جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے تو حیران ہوتے کہ ماضی کا انسان کس قدر رجعت پسند اور غیر ترقی یافتہ تھا کہ ان معمولی باتوں کی وجہ سے جنگوں میں مصروف رہتا ، ایک دوسرے کا گلا کاٹتا یا نفرتوں کا اظہار کرتا۔
یوں یہ سارے معاملات بڑی احتیاط سے تاریخ کا حصہ بنا لئے گئے تھے اور شعور کی عمر کو پہنچنے والے نوجوان خاص طور سے عبرت حاصل کرنے کے لئے ان کا مطالعہ کرتے۔ پھر آپس میں گفتگو کرتے۔ اکثر یہ بات چیت ماضی کے انسان کی قدامت پسندی ، کوتاہ نظری اور کم نظری پر ایک قہقہہ کی صورت انجام پذیر ہوتی۔
انسان نے ترقی کے نو دریافت شدہ اس عمل اور جذباتی صورتحال پر دسترس کے باوجود زبان ، ثقافت اور سماجی رکھ رکھاﺅ کے تنوع کے ساتھ عقائد اور نظریات کے فرق کو بھی برقرار رکھا تھا۔ دراصل یہ مرحلہ علم کے عام ہونے کی وجہ سے آسان ہو گیا تھا۔
یہ انتہائی ترقی یافتہ انسان سب عقائد کے بارے میں معلومات رکھتا تھا اور ان کی تمام جہتوں سے واقف تھا۔ تاہم فیصلہ کرنے میں آزاد تھا۔ ایک مرحلے پر تو یوں لگتا تھا کہ شاید تمام تر تکنیکی ترقی اور علمی دسترس کے باوجود انسان عقائد کے فرق کی وجہ سے بدستور مصروف جنگ رہے گا۔ اس طرح یہ سکون جو اب دنیا نے حاصل کر لیا تھا کبھی دستیاب نہیں ہو سکے گا۔
چند نسلوں تک یہ مشکل درپیش رہی تھی۔ تاہم جب علوم تک رسائی عام ہو گئی اور فرد کسی معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ایسے لوگوں کا محتاج نہیں رہا جنہیں زمانہء جہالت میں عالم کہا جاتا تھا تو یہ مشکل مرحلہ آسانی سے عبور کر لیا گیا۔ بڑے بزرگ اپنے بچوں اور نوجوانوں کو بتایا کرتے تھے کہ اس میں سابقہ نسلوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ مناسب وسائل اور صلاحیت نہ ہونے کے سبب کوئی بھی شخص کسی معاملہ کے تمام پہلوﺅں پر پوری طرح عبور نہیں رکھتا تھا۔ اسی لئے اختلافات پیدا ہونا فطری عمل تھا۔
اب یہ مشکل حل ہو چکی تھی۔ اب نہ زبان ، نہ ثقافتی اظہار نہ سماجی رویہ کسی معاملہ کو سمجھنے میں رکاوٹ بنتا تھا۔ بڑے بزرگ بھی بتاتے تھے اور نئی نسل کتابوں میں بھی پڑھتی تھی کہ عقیدہ کے حوالے سے مرحلہ سب سے مشکل تھا۔ اس میں اختلافات بھی زیادہ تھے، جذبات بھی ملوث تھے اور غلط فہمیاں بھی عام تھیں۔ لیکن جدید انسان کے علم کی کنجی نے اس سب مشکلوں کو آسان کر دیا تھا۔ اب کوئی شخص کسی غلط پہلو پر دلیل نہیں کر سکتا تھا۔
ہر شخص کے پاس تاریخ کے علاوہ آنے والے وقتوں کے بارے میں بھی مکمل معلومات موجود تھیں۔
اس خطہء ارض کے انسان اپنی زندگیوں کا لطف لیتے تھے۔ وہ شکر خداوندی بجا لاتے اور اقرار کرتے کہ مشیت ایزدی کے بغیر زمینوں، زمانوں اور افلاک کے اندر اور باہر کا علم انہیں حاصل نہ ہوتا اور نہ وہ ایک ایسی کائنات کی تعمیر اور تکمیل میں کامیاب ہوتے جہاں سب لوگ خوش ، مطمئن ، کامیاب ، ترقی یافتہ ، عالم اور ایک دوسرے کے ہمدم و رفیق تھے۔
(تحریر: سید مجاہد علی)