بونوں کی بارات
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 14 / فروری / 2014
- 6132
بہت جنگ و جدل اور دہائیوں کی توتکار کے بعد بالآخر ان سب نے اتفاق کیا کہ وہ اس راجدھانی کا انتظام سنبھالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اب امن اور خوشحالی کے لئے بونوں کو حکومت سونپ دی جائے تاکہ وہ اپنے اصول و ضابطے اور قاعدے کے مطابق اس شورش زدہ علاقے میں امن بحال کریں۔
یہ معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں تھا۔ لیکن جب اس دھرتی کے ہر گھر سے کئی کئی لاشے اٹھے اور بعض گھرانوں کو یقین ہو گیا کہ اس طرح تو ان کی نسلیں تباہ ہو جائیں گی اور ان کا نام لیوا بھی اس دنیا میں نہیں رہے گا تو طوعاً کرہاً انہیں یہ بات ماننا ہی پڑی۔
یوں تو صرف جنگ اور خوں ریزی نے اس جنگجو اور بہادر قوم کو عاجز نہیں کیا تھا۔ یہ لوگ نسل در نسل لڑنے اور مقابلہ کرنے کے عادی تھے۔ چھوٹی موٹی مشکلوں کو درخوراعتنا بھی نہیں سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ میدان میں کھڑے ہو جائیں تو ان کے قدم لڑکھڑاتے نہیں ہیں۔
اب جو صلح کا اعلان ہؤا تھا اور ملک کے ایک گوشے میں آباد اسی قوم کے وسائل اور سہولتوں سے عزت، وقار اور طاقت پانے والے بونوں کو حکومت سونپنے کا جو فیصلہ ہؤا تھا وہ دراصل اس جری اور بہادر قوم کی شکست ہی تھا۔ دل کی گہرائیوں میں قوم کے سارے بڑے یہ محسوس کرتے تھے کہ انہیں اپنی عزت اور وقار سے محروم ہونا پڑا ہے۔ لیکن صلح نامے کے متن میں اس اہم فیصلہ کو شکست کا نام نہیں دیا گیا تھا۔
اس میں صرف یہ درج تھا کہ یہ قوم اور اس کے سارے برگزیدہ رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ بونوں کی قیادت نے امن اور خوشحالی کا جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ سب کے لئے بہتر اور شاندار مستقبل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ یہ منصوبہ اس عہد نامہ کی تجدید ہے جو بونوں سمیت اس دھرتی پر آباد سب نسلوں، لوگوں، قبیلوں، برادریوں اور گروہوں کے بزرگوں نے کئی سو سال پہلے طے کیا تھا۔ چوں کہ بونوں کی طرف سے نہایت سلیقے اور عقلمندی سے اس قدیم عہد نامے کی خوبیوں کو سامنے لا کر یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ اس پر مکمل اور حرف بہ حرف عمل کئے بغیر امن ممکن نہیں ہے۔
یوں تو سب ہی اس عہدنامے کو مانتے تھے۔ ملک کا قانون بھی اسی عہد نامے کے اصولوں سے رہنمائی اور روشنی حاصل کرتا تھا لیکن بونوں نے چند دہائیوں سے یہ واضح کرنا شروع کر دیا تھا کہ قوم عہد نامے سے منکر ہو چکی ہے۔ ان کے بڑوں نے مل جل کر اس عہد نامے کی ایسی توجیہہ پیش کی جو اس مملکت میں آباد اکثر لوگوں کے لئے ناقابل قبول تھی۔ لیکن جس طرح کہ ہر قوم میں ہوتا ہے، بعض لوگوں کو بونوں کی باتوں میں سچائی نظر آنے لگی اور انہوں نے برملا کہنا شروع کیا کہ بھئی بات تو وہ درست کہتے ہیں۔ اب وہ بونے ہیں کم عقل تو نہیں ہیں۔ اس لئے ان کی بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ایک بار بونوں کی فہم و فراست کا اصول مان لینے کے بعد اس قوم کے مختلف النوع لوگوں کے پاس بونوں کی دلیل کو مسترد کرنے کا کوئی جواز نہیں بچا تھا۔ دراصل یہ قوم عرصہ دراز سے اس اصول پر قائم رہی تھی کہ ہر شخص اور گروہ کو اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔ کوئی اپنے گھر، زندگی اور برادری کے معاملات جس طرح چاہے طے کر لے۔ اسے شہری کے طور پر وقار اور اہمیت حاصل رہے گی۔ ان سب کا خیال تھا کہ بقائے باہمی اور احترام کا یہ اصول اس قدیم اور عظیم عہد نامے کے عین مطابق تھا جو ان کے بزرگوں نے طے کیا تھا۔
لیکن چند دہائیوں پہلے بونوں کے بعض سرداروں نے یہ محسوس کیا کہ امن اور سکون کی اس فضا میں انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔ اگرچہ کوئی بھی ان کے وجود سے انکار نہ کرتا تھا اور نہ ہی ان کی ہیئت اور قد کی وجہ سے انہیں مسترد کیا جاتاتھا۔ بلکہ اس قوم کے قانون سازوں نے یہ طے کیا تھا کہ بونوں کو خصوصی مراعات اور سہولتیں دی جائیں۔ تاکہ وہ خود کو کمتر نہ سمجھیں اور قومی اکائی میں برابر کے حصہ دار ہوں۔ لیکن بونوں کی نئی قیادت نے محسوس کیا کہ اس طریقہ کار سے انہیں معمول کے مطابق وسائل ملتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ کوشش کریں تو انہیں مملکت کے وسائل اور معاملات میں زیادہ حصہ مل سکتا ہے۔
اس دوران ہمسایہ ملک میں شورش بپا ہوئی تو سرحدی علاقوں میں آباد ان بونوں کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا۔ بونوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور بڑھ چڑھ کر ملک کی فوج اور حکومت کے ذریعے بیرونی دنیا سے روابط میں اضافہ کیا اور زیادہ سے زیادہ وسائل پر قبضہ شروع کر دیا۔
ملک کی فوج نے ان رضاکار بونوں کی خدمات کو بیش قیمت سمجھتے ہوئے اپنے اسلحہ خانے اور تربیتی مراکز تک ان کو دسترس دے دی۔ اس طرح بونوں کا جو گروہ ایک محدود علاقے میں محدود وسائل کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا عادی تھا اسے طاقت اور حکمرانی کا مزہ آنے لگا۔
اس عمل میں بونوں کے چند بگڑے ہوئے لیڈروں نے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل کرنے کے لئے اپنی ہی قوم کے روایتی بزرگوں اور عقل و دانش کی بات کرنے والے بڑوں کو مارنا شروع کر دیا۔ اس طرح اپنی پوری قوم پر انہوں نے طاقت اور خون ریزی کی دہشت طاری کر دی۔ ملک کی فوج اور حکومت کے ساتھ ان کی دوستی برقرار رہی۔ تاہم گروہی فساد کی وجہ سے بعض گروہ یہ سمجھنے لگے کہ اس ملک کی حکومت اور طاقت ور طبقے انہیں نظرانداز کر رہے ہیں۔ اشتعال میں انہوں نے رات کے اندھیرے میں بم دھماکوں اور خفیہ گوریلا حملوں کے ذریعے انسانوں کو مارنا شروع کر دیا۔ اس طرح بدامنی اور تباہی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہؤا کہ اس نے رکنے کا نام نہیں لیا۔
ایک طرف بونوں کا یہ ٹولہ جانتا تھا کہ اسے اس ملک کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے تو دوسری طرف فوج و حکومت اور معاشرے کی اشرافیہ اسی بحث میں الجھی ہوئی تھی کہ قدیم عہد نامے کے حوالے سے بونوں کی بات میں بہرحال وزن تو ہے۔ اس بحث نے ملک میں کئی ایسے گروہوں کو جنم دیا جو یہ بات تو کہتے تھے کہ بونوں کو مار دھاڑ بند کرنی چاہئے لیکن ساتھ ہی یہ بھی قرار دیتے تھے کہ ان کی جنگ ایک جائز مقصد کے لئے ہے اس لئے ان کے ساتھ مصالحت کرنے میں ہی بھلائی ہے۔
اسی بحث میں ملک کے ایک قد آور لیڈر نے تو یہ اعلان بھی کیا کہ کوئی بتائے کہ کبھی کسی نے ان بونوں کے ساتھ کوئی جنگ جیتی ہے۔ پھر وہ سوال کرتا کہ اگر جنگ جیتی ہی نہیں جا سکتی تو اسے لڑنے کا فائدہ؟ لوگ حیرت سے اس لیڈر کا منہ دیکھتے اور لاجواب ہو جاتے۔
بھئی بات تو وہ درست کہتا ہے۔ کبھی کوئی طاقت بونوں کے ان علاقوں میں انہیں شکست نہیں دے سکی تو اب ہم ان سے کیسے لڑیں؟
اس سوال جواب میں کوئی یہ یاد دلانے کی زحمت نہیں کرتا تھا کہ تاریخ کے کسی حصے میں بھی کسی حکومت یا حملہ آور نے کبھی ان بونوں کے خلاف جنگ نہیں کی تھی۔ کیوں کہ اس قسم کے تصادم سے پہلے ہی بونوں کے زیرک و چالاک مگر لالچی لیڈر حملہ آور کے ساتھ جا ملتے اور مراعات اور سہولتیں پا کر امن کا اعلان کر دیتے۔ اس طرح حملہ آور کو بھی ایک بے سود جنگ پر وسائل اور طاقت ضائع کرنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔
بونوں کی ان آبادیوں کے لیڈر نسل درنسل قوم فروشی میں مشغول رہے تھے۔ اب صورت حال بدل چکی تھی۔ اگرچہ بونوں کے بعض لیڈر اور سردار اب بھی سرکار سے بھتہ اور وظیفہ لیتے تھے لیکن بعض چھچھورے اور طاقت سے روشناس ہونے والے نئے لیڈروں کی نظریں اب وظیفہ لینے کی بجائے وسائل کے ممبع پر تھیں۔ اس کے لئے قوم کو شکست دینا، اسے ذہنی اور عملی طور پر مفلوج کرنا اور بے بسی میں ہتھیار پھینکنے پر مجبور کر دینا ہی ان کی حکمت عملی کا بنیادی اصول تھا۔
تو اب وہ اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تھے۔ قوم کے سب لیڈروں نے اپنی پگڑیاں اتاریں اور اقتدار کا تاج بونوں کے سردار کے سر پر سجا دیا جو ایک آنکھ سے کانا اور ایک ٹانگ سے لنگڑا تھا۔
اس کانے اور لنگڑے حاکم اعلیٰ کو اپنی طبعی کمزوریوں اور بونوں کی فطرت کا احساس تھا۔ اس لئے اس نے اقتدار میں آتے ہی پرانے عہد کے سربرآوردہ سب لیڈروں کے قتل عام کا حکم جاری کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ان گمراہ لوگوں نے قدیم عہد نامہ کی خلاف ورزی کی تھی اس لئے وہ واجب القتل ہیں۔
اسے یہ بھی احساس تھا کہ اگرچہ سازشوں، شرارتوں اور خفیہ حملوں کے نتیجے میں وہ برسراقتدار آ گیا ہے لیکن اس کی صلاحیتیں سب پر عیاں ہیں اور جلد ہی اس بات کا پول بھی کھل جائے گا کہ عہد نامہ کی بات بھی جھوٹ کا پلندہ تھی۔ اس لئے اس نے اپنے خاص دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے اور ملک میں آباد باقی سب طبقوں کو رسوا کرنے کے لئے اقدامات پر غور شروع کر دیا۔
ان سب نے مل کر جو فیصلے کئے ان میں سرفہرست یہ تھے:
۔۔۔ کوئی شخص ہتھیار بند نہیں ہو سکتا۔ ہتھیار رکھنے اور اسے استعمال کرنے کا حق صرف کانے لنگڑے سردار اور اس کے ساتھیوں کو ہو گا۔
۔۔۔ عہد نامہ قدیم کی شقات پر لفظ بہ لفظ عمل کیا جائے گا۔ لیکن اس کی تشریح صرف حاکم اعلیٰ ہی کر سکے گا۔ وہی تمام طاقت کا سرچشمہ اور تمام اختیارات کا مالک ہو گا۔
۔۔۔ کانے لنگڑے حاکم اعلیٰ کی اجازت سے ہتھیار بند بونے والے جب چاہیں جسے چاہیں جس الزام میں چاہیں سزا دے سکتے ہیں۔ عام طور سے یہ سزا موقع پر ہی ہلاک کرنا ہوگی۔ تاکہ معاشرے میں آباد دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔
ان تین سادہ اصولوں سے اس راجدھانی میں ہر طرح کے مسائل ختم ہو گئے۔ شہروں اور قصبوں میں قبرستان جیسی ویرانی اور خاموشی طاری ہو گئی۔ ہر شخص بات کرنے یا اونچا بولنے سے گریز کرتاتھا۔
کانے سردار اعظم کے کارندے لوگوں کو تاکتے اور بات بے بات جہنم رسید کر دیتے۔ انہیں یہ محسوس کر کے بے حد خوشی اور فخر کا احساس ہوتا کہ وہ بے طاقتی اور کم قامتی کے باوجود اتنے طاقتور ہیں کہ جوان قدآور اور گرانڈیل حوصلہ مند ان کے سامنے چوں تک کرنے کی مجال نہیں کرتے تھے۔
آخر کانا لنگڑا سردار لوگوں کو مارنے اور ذلیل کرنے سے تنگ آ گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اب تفریح طبع کے لئے کیا کیا جائے۔
تب ان بونوں کو احساس ہؤا کہ انہیں تو مارنے اور خون بہانے کے علاوہ کوئی کام نہیں آتا۔ امورمملکت سے انہیں کوئی شغف نہیں تھا۔ سارے ہمسایہ ممالک بونوں کی حماقتوں اور ظلم و ستم سے تنگ آئے ہوئے لوگوں کی حالت دیکھ کر آہستہ آہستہ اس مملکت میں اپنے پائوں پھیلانے لگے تھے۔
اپنے لوگوں کو مارنے کے عادی کانے لنگڑے سردار کو اس سے غرض نہیں تھی۔ بالآخر اس کے مصاحبین خاص میں سے ایک نے مشورہ دیا کہ حاکم اعلیٰ کو شادی کر لینی چاہئے تاکہ روزوشب کی بے رونقی میں کچھ کمی ہو سکے۔ یہ مشورہ اس بدہیئت، کم عقل، کم ظرف اور بالشت بھر سردار کو بہت پسند آیا۔
طبل جنگ کی طرح شادی کے شادیانے بجنے لگے۔ موسیقی پر پابندی کی و جہ سے بندوقوں اور توپوں کے فائر سے خوشی کا اظہار ہونے لگا۔ رعایا کو حکم ہؤا کہ وہ پست قامت سردار کی بارات کے استقبال کے لئے گھٹنوں کے بل دو رویہ حاضر ہوں۔
سارے بونے اپنے سردار کی بارات میں شامل تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بھاری بھرکم بندوقیں اور مشین گنز تھیں اور وہ ان سے بے دریغ فائر کر رہے تھے۔ ملک کی ساری آبادی گھٹنوں کے بل کھڑی سر جھکائے اپنے نئے حکمرانوں کا جلوس دیکھنے پر مجبور تھی۔
یہ بونوں کی بارات تھی۔
اور یہ بونے اپنی اس فتح اور کامیابی پر بے حد مسرور تھے۔
یہ بارات رواں تھی۔ پورے ملک کی آبادی سرنگوں تھی اور سرحدوں پر چاروں طرف سے ہمسایہ ملکوں کی فوجیں بونوں کے سرکوبی کے لئے مارچ کرتی ہوئی داخل ہو رہی تھیں۔
(تحریر: سید مجاہد علی)