باپ کون ہے

اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ پہاڑی کے دامن میں ایک چھوٹے سے جھونپڑے نما مکان میں رہتے تھے۔ اس کے تین بہن بھائی تھے۔ ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ وہ خوشی سے زندگی گزار رہا تھا۔

ان کا گھر قریبی دیہات سے بھی فاصلے پر تھا۔ اس کی ماں کو پانی لینے کے لئے کئی میل کا سفر کر کے گاﺅں میں کنویں تک جانا پڑتا تھا۔ اس کے باپ گوالا تھا۔ اس کے پاس اپنا ایک چھوٹا سا ریوڑ تھا۔ روز صبح وہ بکریوں کا دودھ دوہ کر قریبی گاﺅں میں فروخت کرنے جاتا۔ واپس آ کر ماں کی پکائی ہوئی سوکھی روٹی پانی یا لسی کے ساتھ کھاتا پھر بھیڑ بکریوں کو پہاڑیوں پر چرانے کے لئے چلا جاتا۔

بس بچپن کی یہی یادیں اس کے ذہن میں موجود تھیں۔ اپنے ماں باپ کے چہرے بھی اس کی یاد سے محو ہو چکے تھے۔ اسے سوائے اس کے اب کچھ یاد نہیں کہ ان دیکھے دشمن نے اس کی سہانی اور خوشگوار زندگی اس سے چھین لی تھی۔ اسے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب آسمان سے کوئی چیز اس کے گھر کے آنگن میں آ گری تھی۔ وہ اپنے باپ ، اکلوتی شیر خوار بہن اور دو چھوٹے بھائیوں کے ساتھ چولہے کے قریب بیٹھا روٹی کھا رہا تھا۔ ماں نے اس سے باپ کے لئے پانی لانے کے لئے کہا۔ وہ پیتل کا گلاس لے کر دالان کے دوسرے کونے پر رکھے گھڑے سے پانی نکال رہا تھا کہ اس کی دنیا اجڑ گئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو جہاں ماں باپ اور بہن بھائی بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے وہاں ایک گڑھا تھا۔ جھونپڑی آگ کے شعلوں کی نذر ہو چکی تھی۔ ابھی یہ نظارہ پور طرح اس کے شعور میں سمایا نہیں تھا کہ کوئی سخت چیز اس کے سر سے ٹکرائی اوور پھر اسے کچھ یاد نہیں رہا۔

ایک چھوٹے سے کمرے کے میلے کچیلے بستر پر اس کی آنکھ کھلی تو اردگرد نظر آنے والوں میں کوئی بھی اس کا اپنا نہیں تھا۔ بابا کہاں ہے؟ اس نے نحیف آواز میں پوچھا۔ ” میں تمہارا باپ ہوں “ گھنی داڑھی والے ایک جوان آدمی نے اس کے ماتھے کو چھوتے ہوئے کہا۔

اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔

میرے باپ کی پیشانی کشادہ، آنکھیں مسکراتی اور چہرہ فراخ تھا۔ اس شخص کی آنکھیں اند دھنسی ہوئی، ماتھا اور منہہ بالوں سے بھرا اور جثہ فربہی تھا۔ وہ اس کے باپ جیسا بالکل نہیں تھا۔ اس میں بولنے کی طاقت نہیں تھی۔ 

اس وقت کیا ہؤا تھا؟ اس نے سوچنے کی کوشش کی

گھنی داڑھی والے شخص نے ایک گلاس میں دودھ ڈال کر اسے پلایا اور شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

تم ذرا تندرست ہو جاﺅ تو ہم گھر چلیں گے۔

گھر ؟ اس نے سوچا۔

مگر میرا گھر تو جل چکا ہے اور وہ میری ماں کہاں گئی۔ بہن اور بھائیوں کو کیا ہؤا۔

یہ باپ کی شکل اتنی تبدیل کیوں ہو گئی۔

شروع میں یہ سوال اسے پریشان کرتے تھے لیکن پھر یہ سوال مدھم ہونے لگے۔ تھوڑے ہی عرصے میں وہ فراموش کر چکا تھا۔

اس کا باپ اسے بتاتا تھا کہ دشمن نے بم سے تمہارے گھر اور خاندان کو تباہ کر دیا ہے۔ اب اللہ نے تمہیں نئی زندگی دی ہے۔ اب تمہیں اپنے گھر والوں کی موت کا انتقام لینا ہے۔

موت ، انتقام ، دشمن .... یہ سارے لفظ اس کے لئے نئے تھے۔ لیکن سانحہ نے اس کے سوچنے اور بولنے کی صلاحیت سلب کر لی تھی۔ وہ صرف سنتا اور دیکھتا تھا۔ گھنی داڑھی والے باپ کے کئی بچے تھے۔ وہ ایک چھوٹی سی مسجد کے بغل میں ایک حجرے میں رہتا تھا۔ مسجد میں نماز پڑھاتا اور دور دراز سے آئے ہوئے مہمانوں سے محو گفتگو رہتا۔ سارے بچے گھر کا کام کرنے یا باپ کا حکم بجا لاتے ہوئے مہمانوں کی خدمت کرنے میں مصروف رہتے۔ کبھی کبھی ذرا بڑی عمر کے بچے کو آنے والا کوئی مہمان اپنے ساتھ لے جاتا۔ کوئی سوال نہ کرتا اور نہ ہی حیران ہوتا۔ یوں لگتا تھا کہ ہر کسی کو اس گھر سے ایک روز جانا ہے۔ پھر نئے بچے اس باپ کی اولاد بن کر جانے والوں کی جگہ لے لیتے۔

باپ نے اسے نماز پڑھنے کا طریقہ بتایا۔ مسجد کے آداب سکھائے اور یہ سبق یاد کروایا کہ اللہ نے اسے ایک بڑے کام کے لئے منتخب کر لیا ہے۔ اسی لئے اسے خاندان کے بوجھ سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ یہ یقین کرنے لگا کہ دور کہیں کوئی ایسا دشمن موجود ہے جس سے اسے بدلہ لینا ہے۔ مگر وہ کون ہے۔ نہ اس نے پوچھا اور نہ کسی نے اسے بتایا۔

ایک روز آنے والے ایک ادھیڑ عمر مہمان نے اس کا نام پوچھا۔

میرا نام کیا ہے؟ اس نے سوچا۔ اور یہ نام کیا ہوتا ہے؟ وہ انہی سوالوں کے گورکھ دھندے میں حیران تھا کہ اس کے باپ نے جواب دیا۔ اس کا نام رحمت اللہ ہے۔ اس پر اللہ کی رحمت ہے۔

ماشاءاللہ ! مہمان نے مسکرا کر جواب دیا۔

تھوڑی دیر بعد باپ نے اسے بتایا: رحمت اللہ یہ مولانا کبیر خانزادہ ہیں۔ اب یہی تمہارے باپ ہیں۔ اب تمہیں ان کے ساتھ جانا ہے۔

رحمت اللہ کا بچپن اور شناخت اس دھماکے میں گم ہو چکا تھا جس نے اس کے جنم داتاﺅں اور بہن بھائیوں کی جان لی تھی۔ وہ حادثہ ایک ادھوری تصویر کی مانند اس کے حافظے میں منجمد ہو چکا تھا۔ نہ یہ تصویر مکمل ہوتی تھی اور نہ وہ اسے کھرچ کر اپنی یادداشت سے محو کر سکتا تھا۔

کبیر خانزادہ تین روز کے پر صعوبت سفر کے بعد اسے ایک بڑی درسگاہ میں لے گیا۔ یہاں کئی سو یا کئی ہزار بچے تھے۔ اس کی عمر کے بھی اور چند برس بڑے بھی۔ اسے کئی بچوں کے ساتھ ایک بڑے کمرے میں ایک بستر دے دیا گیا۔ پھر ایک بڑے ہال میں ایک سفید ریش بزرگ نے سب بچوں سے باتیں کیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب آپ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تا کہ آپ اللہ کے حکم کے مطابق زندگی گزارنے اور قربان کرنے کا طریقہ سیکھ لو۔

ان سارے بچوں کو تیس تیس چالیس چالیس کی ٹولیوں میں بانٹ کر ایک الگ الگ مدرس کے حوالے کر دیا گیا۔ انہیں قرآن کی تعلیم دی جاتی اور بتایا جاتا کہ اللہ کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دین پر چلنا اور اس کے لئے ہر وقت قربان ہونے کے لئے تیار رہنا۔

ہفتہ عشرہ میں ایک دن بڑے مولوی صاحب اپنے حجرے میں دس بارہ نوجوانوں کو بلا کر ان سے باتیں کرتے۔ اب رحمت اللہ کی مسیں بھیگنے لگی تھیں اور اسے یہ یقین ہو گیا تھا کہ یہ زندگی فانی ہے اور اسے اللہ کی راہ میں قربان کرنا ہی سب سے بڑا مقصد ہے۔

ایک دن بڑے مولوی صاحب کے حجرے میں جانے والوں میں اسے بھی شامل کر لیا گیا۔ اس نے اپنے استاد سے پوچھا۔ یہ مولانا صاحب کون ہیں؟

” یہ تمہارے باپ ہیں۔ یہ سب کے باپ ہیں“۔

تو وہ کون تھا ؟ اس نے ایک لمحے کو سوچا۔ پھر اس نے یاد کیا کہ مولانا صاحب میرے باپ ہیں۔

حجرے میں مولانا صاحب نے قہوے اور مٹھائی سے نوجوانوں کی تواضع کی۔ زندگی فانی ہونے کے بارے میں باتیں ہوئیں اور اللہ کی حقانیت کا سبق دہرایا گیا۔

مولانا نے فرمایا : بچو! میں تمہیں ایک عظیم مقصد کے لئے روانہ کر رہا ہوں۔ مگر اس میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ تم سب میرے بچے ہو۔ میں تمہارا باپ ہوں۔ تم حیران ہو گے کہ تم میں سے کسی کا باپ مارا گیا اور کوئی لاپتہ ہو گیا۔ تو میں تم سب کا باپ کیسے ہو گیا۔ یہی اللہ کا کرم ہے۔ وہ جب ایک نعمت سے محروم کرتا ہے تو اسے نئے انعامات سے نوازتا ہے۔ تم سے تمہارے خاندان چھین لئے گئے۔ لیکن اللہ کی رحمت سے تمہیں ایک عظیم موقع ملا ہے۔ میں تم سے ایسے ہی محبت کرتا ہوں جیسے تم میرے بچے ہو۔ اس درس گاہ میں تم کو بچوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ تمہیں اللہ کا سبق یاد کروایا گیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم بھی اپنا فرض ادا کرو اور قربانی کے لئے تیار ہو جاﺅ۔ اسی کو جہاد کہتے ہیں۔ اور جہاد ہی ہر مسلمان کا شعار ہونا چاہئے۔ جو جہاد کو نہیں مانتا وہ کفر کماتا ہے اور اللہ کے غضب کو آواز دیتا ہے۔ لیکن تم آزاد ہو۔ اگر تم اس عظیم سفر پر نہیں جانا چاہتے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ مدرسہ تمہارا گھر اور خاندان ہے۔ تم یہاں رہو اور مزید تعلیم حاصل کرو۔

رحمت اللہ سمیت دو دوسرے لڑکوں نے نئے سفر کا قصد کیا۔ بڑے مولوی صاحب نے جسے اب وہ تینوں عقیدت سے والد محترم کہتے تھے، اپنے حجرے میں ان سے خصوصی نشستیں کیں۔ انہیں یاد دلایا گیا کہ وہ ایک عظیم نیک مقصد کے لئے روانہ ہو رہے ہیں۔ اس میں ان کا اگلا قدم جنت میں ہو گا۔ لیکن اگر انہوں نے اس راستے سے فرار کی کوشش کی تو جہنم کے سوا ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا۔

رحمت اللہ کو یاد آیا کہ اس کے پہلے باپ نے انتقام کا ذکر کیا تھا۔ اس کو ایک دشمن کے بارے میں بھی بتایا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ جو ادھوری تصویر اس کے معصوم ذہن میں کلبلاتی ہے .... وہ شاید اس سفر میں دشمن سے انتقام لینے اور راہ اللہ میں جہاد کرنے سے مکمل ہو جائے۔ شاید اس کی تکمیل ہو جائے۔ شاید اسے اپنے باپ کی شکل یاد آ جائے۔

والد محترم نے رحمت اللہ کا ہاتھ، شلوار قمیض پر چمڑے کی جیکٹ اور کندھے پر آٹو میٹک رائفل لٹکائے شخص کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا تھا۔ ” یہ میرا خاص بچہ ہے۔ یہ بہادر ہے اور اللہ کے راستے پر روانہ ہونے کے لئے تیار ہے“۔

کسی نامعلوم مقام پر قائم ایک کیمپ میں رحمت اللہ کو دیگر ساتھیوں کے ساتھ بندوق چلانے ، بم بنانے اور دھماکہ کرنے کی تربیت دی گئی۔ ایک دن والد محترم جنہیں اب رحمت اللہ اپنا باپ ہی سمجھتا تھا، کیمپ میں تشریف لائے۔ کیمپ کے لیڈر کے ساتھ مل کر انہوں نے تین لڑکوں کا انتخاب کیا۔ رحمت اللہ ان میں شامل تھا۔

انہیں بتایا گیا کہ اب جہاد کا وقت آ گیا ہے۔ خاص طرح کی جیکٹس انہیں پہنائی گئیں اور بتایا گیا کہ اشارہ ملتے ہی بس ایک بٹن دبانا ہے۔ پھر جنت کی حسین وادیوں میں تمہارا استقبال ہو گا اور دشمن نیست و نابود ہو جائے گا۔

اس دن شہر میں قیامت کا سماں تھا۔ ایک سو سے زائد لوگ تین خود کش حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ سینکڑوں زخمی تھے۔ سب حیران تھے۔ ٹیلی ویژن کیمروں اور صحافیوں کی ایک وسیع تعداد کے سامنے بڑے مولانا صاحب تمکنت سے فروکش تھے۔

ہاں یہ سب ہمارے بچے ہیں۔ یہ معصوم لوگ ہیں۔ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہماری حکومت بڑی طاقتوں کی آلہ کار بن چکی ہے۔ امن چاہتے ہو تو امریکہ کے ساتھ چھوڑ دو۔ ان بچوں کی بات سنو۔ یہ کون سی غلط بات کہتے ہیں۔ یہ بس مایوس ہو کر بہک گئے ہیں۔ ہم ان کو سمجھائیں گے۔ مگر پہلا قدم آپ کو اٹھانا ہو گا۔

یہ کون ہیں ؟ ایک نوآموز صحافی نے بزرگ کی حیران کن باتیں سن کر اپنے سینئر ساتھی سے پوچھا۔

” یہ ان سب کے باپ ہیں “

خود کش بم دھماکے میں رحمت اللہ کے پرخچے اڑ چکے تھے۔ مگر اس کے جسم کے ہر ٹکڑے سے آواز آ رہی تھی۔

میرا باپ کون ہے۔

(تحریر: سید مجاہد علی)