طوطی بولا تو ....
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 03 / مئ / 2014
- 5840
سارے شہر کے عقلمند جمع تھے۔ ہو کا عالم تھا۔ آج ایک عالم بے مثال اور عام لوگوں کے دلوں کی آواز ایک محترم شخصیت خطاب کے لئے دور دراز سے تشریف لانے والی تھی۔
یوں تو سب ہی بات کرنے کو ہمک رہے تھے مگر وہ یہ سننا بھی چاہتے تھے کہ جس شخص کو ٹیلی ویژن اسکرین پر پھنکارتا سنتے ہیں، وہ دیکھنے میں کتنا خونخوا لگتا ہے۔
اس کی باتیں شمشیرِ برہنہ کی طرح تھیں کہ جہاں گر جائے ، کاٹ کر رکھ دے۔
وہ بد ذات قوتوں کے لئے ایک خوفناک چیلنج تھا۔
اس نے اپنی تحریروں اور اپنے تبصروں سے ایک عالم کو متحیر کیا ہؤا تھا۔ اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ بپا تھا اور وہ بلند آہنگ ، نڈر اور بے خوف تھا۔
وہ سارے منتظر تھے۔
ان میں وہ بھی تھے جنہیں خود اپنی قادر الکلامی پر ناز تھا اور وہ بھی جنہیں معاملات طے کرنے کا موقع نہیں ملا۔ ملتا تو وہ ان بگڑے مسائل کو یوں چٹکی بجاتے حل کر سکتے تھے۔
ان میں سے ہر شخص کے پاس ایک زنبیل تھی اور اس میں چند تیر بہدف نسخے تھے۔ ان نسخوں کو وہ سینکڑوں بار کامیابی سے آزما چکے تھے اور ان کی خوبی اور اثر انگیزی پر داد وصول کر چکے تھے۔
ان میں سے کچھ برملا اپنی صلاحیتوں کا اعلان کرتے اور کچھ شرمیلے اپنے چہرے پر کچھ ایسی سنجیدگی مسلط کر لیتے تھے جو بزعم خویش دیکھنے والوں کو یہ دعوت دیتی تھی کہ عقل و دانش تو چہرے پر ہی ثبت ہوتی ہے۔ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ خود عقلمند ہیں۔ سمجھ لیجئے۔
پھر ایسے ہر عقلمند کو اس مسلط شدہ سنجیدگی میں ایک مسخرا دکھائی دیتا تھا اور اس کے دل سے ایک پکار اٹھتی تھی کہ لو بھئی اب یہ جوکر بھی دانشور بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اب ان سے کون کہے کہ میاں اوقات میں رہو۔ اپنے کام سے کام رکھو۔ پڑھے لکھوں کی محفل میں بیٹھنے کا موقع مل گیا ہے تو یہ نہ سمجھ لو کہ تم بھی عقل کا پہاڑ بن گئے ہو۔
ایک دوسرا دانشور سوچتا کہ یہ سب لوگ اتنی بناوٹ کیوں کرتے ہیں۔ اب مجھے ہی دیکھ لو۔ جو کہنا ہو وہ صاف کہہ دیتا ہوں۔ میں نے کبھی کوئی بات دل میں نہیں رکھی۔ اب ایسا تھوڑی ہے کہ چہرے پر خول چڑھا کر مضحکہ خیزی کا مظاہرہ کیا جائے۔
وہ سب نہ صرف یہ کہ اپنی زنبیلیں خالی کرنے کے لئے ایسے اجتماعات کا انتظار کرتے تھے بلکہ ایسے مواقع پر نئے فقروں ، معلومات اور تبصروں کو کاٹ چھانٹ کر اپنی زنبیل کا پیٹ بھی بھرتے رہتے تھے۔ پھر انہیں اپنے مخصوص طرز اظہار سے مزین کر کے کسی دوسرے موقع پر لوگوں کی تفریح طبع کے لئے پیش کر دیتے تھے۔
آج ہال میں خاموشی تھی۔ ہر شخص اس الجھن میں تھا کہ موقع ملنے پر اپنے بے پناہ علم اور بے قابو قوت مشاہدہ میں اسیر ، کون سی ایسی پستک کھولی جائے کہ وہ بھی حیران ہو جائے جو آج ہزاروں میل کا سفر کر کے اپنی سحر کلامی سے اس شہر کو فتح کرنے کے لئے آ رہا تھا۔
لیجئے صاحب چلے آتے ہیں دنیا کے سفر پر اپنی عقل کی دھونس جمانے۔ سچ تو یہ ہے کہ بس موقع ملنے کی بات ہے۔ ان لوگوں کے پاس ورنہ ایسا کون سا کمال ہے جو ہم میں نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا۔ سرد و گرم دیکھا۔ محنت بھی کی مگر لوگوں کو سمجھا اور سیکھا بھی ہے۔ ہم ایک جدید نظام کو سمجھنے اور اس کی خوبیوں اور کمزوریوں کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب یہ ہمیں کیا سکھائیں گے۔ انہیں تو خود ہم سے سیکھنا چاہئے۔ پر آج علم کی تلاش اور چاہ کہاں باقی رہی۔ اب تو بس کمرشل مفادات ہیں۔ جو تاجرانہ ذہنیت رکھتے ہیں دیکھ لیجئے وہ کہاں پہنچ گئے .... ۔
اتنے میں شور ہؤا۔ لیجئے وہ آ رہے ہیں۔ بس صدر دروازے تک پہنچ چکے ہیں۔ اب انتظامیہ کے لوگ ان کا استقبال کر کے انہیں لا رہے ہیں۔
تو دیکھ لو بالآخر ایک خاموش دانا نے اپنے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص کے کان میں سرگوشی کی۔ جو صاحب وقت کی پابندی نہیں کر سکتے۔ اب وہ ہمیں آ کر معاملات کی گتھی سلجھانے پر لیکچر دیں گے۔ میاں پہلے حیاتِ نو کی الف ب تو پڑھ لو۔
اس اچانک حملہ سے متاثر ہونے والا شخص بوکھلا گیا۔ اس نے قہر آلود نگاہوں سے سرگوشی کرنے والے کو دیکھا۔ اس کے بیش قیمت خیالات کا سلسلہ اچانک منقطع ہو گیا تھا۔ وہ اپنے ذہن میں اس تبصرے کو ترتیب دے رہا تھا جو تقریر کے بعد آج اسے کرنا تھی۔ اسے معلوم تھا کہ مہمان کو خاص طور سے اس کے خیالات کی ضرورت ہو گی تا کہ وہ واپس اپنے وطن جا کر عقل و دانش کے ان موتیوں کو اپنے کام میں لا سکے۔ اپنی تحریروں کو بہتر بنا سکے اور علم کے اس نور کو زیادہ لوگوں تک پہنچا سکے۔
جھنجھلاہٹ میں اس نے اپنے ہمسائے کو پہلے گھورا اور پھر بولا : ” اگر تمہارا وقت اتنا ہی قیمتی ہے تو یہاں جھک مارنے کیوں آئے ہو۔ یا مجھ سے یہ کیوں کہہ رہے ہو۔ اب وہ سب آ جائیں گے۔ خود انہی سے پوچھ لینا “۔ اس کے ساتھ ہی حقارت سے اس نے منہہ دوسری طرف پھیر لیا۔
کمرے کی خاموش سرسراہٹ ، مکھیوں کی بھنبھناہٹ میں تبدیل ہو چکی تھی۔ تب وہ آ کر اسٹیج پر براجمان ہو چکا تھا۔
استقبالیہ جملوں ، تعارفی تقریروں اور افتتاحی رسومات کے بعد بالآخر مہمانِ معزز کو دعوت کلام دی گئی۔
اس نے مائیک ہاتھ میں پکڑا ، دوسرا ہاتھ ہوا میں بلند کیا تا کہ کلائی میں اٹکی ہیروں جڑی سونے کی چین سب کو صاف طور سے نظر آ سکے اور بے بہا میزبانی پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کے سفری اخراجات اور پرتعیش رہائش کے مصارف برداشت کئے تھے۔ پھر مختصر نوٹس پر اس مجلس میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ کچھ یوں ادا کیا جیسے کہہ رہا ہو: کہ اگر نہ بھی آتے تو میرا کیا بگڑ جاتا۔ تم جیسے احمق ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مجھے روزانہ میسر ہیں۔
رسمی کلمات کے بعد جب مغلظ فصاحت کا دریا رواں ہؤا تو تہذیب ، شائستگی اور دلیل اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔ بس طوطی بولتا تھا اور باقی سنتے تھے۔ کچھ زیر لب ممیاتے تھے مگر جوش خطابت کا طوطیا طوفان اس قدر منہ زور تھا کہ پاﺅں زمین پر گاڑے رکھنے سے بھی توازن برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔
اس نے ڈائس نما نازک سی میز پر زور سے مکا مارتے ہوئے واضح کیا کہ یہ حرام کے جنے حرام بونے، کاٹنے اور حرام بولنے والے حرام ہی کی ترویج کر سکتے ہیں۔
وحشت سے اس کی آنکھیں پھٹی ، بال کھڑے اور حلق خشک تھا۔ یوں لگتا تھا کہ پھٹا بانس بولتا ہے کہ حجت و دلیل کے ساتھ صوت و آہنگ بھی منہہ چھپائے پناہ مانگتے پھرتے ہیں۔
وہ سارے زنبیل بردار نئی اصلاحات اور تشریحات کو اپنی پٹاریوں میں بند کر رہے تھے۔ ان کے چہرے خوشی سے گلنار تھے۔ بھئی آج کا دن تو بے مقصد نہیں گیا۔
واہ کیا بات ہے کیسی صاف اور کھری باتیں کس دلیری سے کی ہیں۔
ایسے لوگوں کو حکومت کیوں نہیں ملتی
کیسے ملے یہ لوگوں کے مسئلے جو حل کر دیں گے
خدا لگتی تو یہ ہے کہ اب ایسے ہی احتجاج کی ضرورت ہے۔
لوگوں کے دل و دماغ میں ابھرنے والے خیالات کو مائیک تھامے وہ طوطیاتا طوطی خوب سمجھتا تھا۔ اس نے اپنی خون کی مانند سرخ چونچ پر اپنے پھڑپھڑاتے پروں سے کھجلی کی اور بات سمیٹتے ہوئے فرمایا:
آپ کیا سمجھتے ہو کہ آپ نے اپنے ملک اور قوم کے لئے کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ آپ سب پیٹ کے پجاری ہو۔ ہوس تمہارا شعار ہے۔ نعرے تم قوم پرستی کے مارتے ہو۔ تم جاﺅ سب بھاڑ میں۔ تمہارا کچھ ہونے والا نہیں ہے۔
وہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے تھے۔
احمقوں کی طرح کبھی ہاں میں اور کبھی نہ میں گردنیں ہلاتے تھے۔
کم کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی سرِمحفل ننگا ہو جائے اور سب کو ننگا ننگا کہہ کر اپنی برہنگی کی پردہ پوشی کرے۔
(تحریر: سید مجاہد علی)