مردہ نگری

وہ ایک عجیب نگری تھی

وہاں زندہ چپ تھے اور مردے بولتے تھے۔ چیختے چلاتے اور شور مچاتے تھے۔ شرم دلاتے اور ہاہا کار مچاتے تھے۔

پر اس بستی کے سارے زندہ لوگ مردہ دل اور کند ذہن تھے۔

نہ انہیں چیخیں سنائی دیتیں۔ نہ یہ عیجب لگتا کہ مردے ہیں کہ ہاتھ اٹھائے ، لہو سے لبریز جسم دکھاتے دہائی دیتے پھرتے ہیں۔ تو کیا یہ بہرے بھی تھے۔

یہ کیوں کر ہو کہ پوری بستی میں ایک بھی شناور نہ ہو۔ کسی ایک کی سماعت بھی کام نہ کرتی ہو۔ کوئی زبان ایک حرف ادا نہ کر سکتی ہو

مگر اسی لئے تو یہ بستی اب مردہ نگری کہلاتی تھی

اس کونے میں کھڑا ایک شخص اپنے کالے خون آلود کوٹ کو تھامے ، شق سینہ لئے پکار رہا ہے:

او ظالمو ! مجھے جواب تو دو

یہ تو بتاﺅ میرا قصور کیا تھا

میں نے تو ہر دکھی کے آنسو پونچھنے کی کوشش کی

میں نے تو اپنی بیوی اور ماں کا انتباہ بھی نظر انداز کیا اور ہر مظلوم کے لئے آواز بلند کرنے میں سب سے آگے رہا۔

میں تو انصاف کے لئے کھڑا تھا۔ سب کو ان کا حق دینے اور دلوانے کی بات کرتا تھا۔ میں اس معاشرے کے بدنما چہرے کے گھناﺅنے داغ مٹانے کے لئے ہاتھ پاﺅں مارتا تھا۔

میں نے کیا قصور کیا کہ تم نے میرا سینہ آتشیں بارود سے شق کر دیا۔ میں تو ایک شخص کا مقدمہ لڑنا چاہتا تھا۔ اس لئے نہیں کہ اس میں بہت زیادہ فیس مل رہی تھی بلکہ اس کے لئے اس مردہ شہر کا کوئی وکیل اس شخص کے دفاع کے لئے سامنے آنے کو تیار نہیں تھا۔

میں نے تو خاموشی کو توڑنے ، ناانصافی کو ختم کرنے ، انسانیت کا نام بلند کرنے اور مظلوم کا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ تم نے مجھے کیا انعام دیا ہے۔

اب میری ماں روتی ہے

بیوی سسکتی ہے

جاﺅ ان کو بتاﺅ کہ تم اس بستی کے ہر اس شخص کو مار دو گے جو بولنے کی کوشش کرے گا۔ جو سیاہ رات میں دیا جلائے گا۔

اور میرا کیا قصور تھا۔ سفید خوں ریز لباس میں ایک جواں سال ڈاکٹر دوسرے کونے سے پکارا۔

میں تو بیمار انسانوں کا علاج کرتا تھا۔ میں تو دکھی انسانیت کے لئے راحت کا پیغام لایا تھا۔

میرا گھر تو امریکہ میں تھا۔

پرسکون بنگلہ .... شاندار باعزت کام۔ احسان مند مریض اور شکر گزار معاشرہ

وہ سارے کئی کئی ماہ انتظار کر کے مجھ سے ملتے تھے کیونکہ میری مہارت کی وجہ سے دور دور میری شہرت تھی اور میرے پاس وقت قلیل تھا۔ مجھے برا لگتا مگر کیا کرتا۔ مریضوں کو انتظار کروانا مجھے گوارا نہ تھا مگر میں ایک تنہا شخص اس سے زیادہ کچھ نہ کر پاتا تھا۔

جو مریض مجھ سے ملتا ، وہ حیران ہوتا کہ میں کس نگری سے آیا ہوں اور پھر وہ میری تعریف اور میرے وطن کی توصیف کرتا وہاں سے روانہ ہوتا۔

مجھے بتاﺅ ظالمو تم نے مجھے میری ہی بیوی اور بچے کے سامنے گولیوں سے کیوں بھون دیا۔

میں تو امریکہ میں اپنا عیش و آرام چھوڑ کر اس نگری کے دکھی اور بے سہارا مریضوں کا علاج کرنے آیا تھا۔ مجھے تو دولت کی ہوس تھی نہ شہرت کا لالچ۔ وہ تو مجھے امریکہ میں کہیں زیادہ میسر تھا۔ میں تو سمجھا تھا کہ اس دھرتی ماں نے مجھے جنم دیا۔ اس کا مجھ پر حق ہے۔ تم نے اسی دھرتی کو میرے خون سے لال کر دیا۔

مجھ سے کس بات کا بدلہ لیا ہے۔

تم اب بولتے کیوں نہیں ہو

نہ پہلے مجھے بتاﺅ ، دور سے ایک خوں آلود چہرے اور پھٹے سر والی ایک عورت کی سسکیوں بھری آواز سنائی دی۔

میں نے آخر کسی کا کیا بگاڑا تھا۔

میں نے تو صرف محبت کی تھی۔ اس حق کے تحت اپنی پسند سے شادی کی تھی جو میرے عقیدے اور اس ملک کے قانون نے مجھے دیا تھا۔

تم ناراض تھے۔ میں نے منانے کی کوشش کی

بابا تم کو بھی میں نے کتنی بار منت سماجت سے باور کروانے کی کوشش کی کہ میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔
اے میرے بھائی تم کو بھی لاج نہ آئی۔ اپنی نہتی مظلوم بہن پر اینٹوں سے وار کرتے ہوئے تم نے نہ سوچا کہ جب بھی تم پر کوئی مشکل وقت ہوتا تو میں کیسے تمہاری حفاظت کے لئے دیوار بن جاتی تھی۔

اور تم سب جو ٹک ٹک یہ تماشا دیکھتے تھے۔ کوئی وردی پہنے تھا، کوئی کالا کاٹ۔ کسی نے چشمہ لگایا تھا اور کسی کے ہاتھ میں قیمتی موبائل تھا۔ مگر تم میں سے کسی کے منہ سے اف نہ نکلی۔ کسی نے اس ہاتھ کو روکنے کی کوشش نہ کی جو ایک کمزور بے بس عورت کا سر اینٹوں کے وار سے پھوڑ رہا تھا

جو ایک بے قصور کو مار رہا تھا۔

جواب تو دو اے مردہ دل والو۔

یہ کیا جواب دیں گے بی بی۔ ایک معمر شخص پھٹے سینے ، سفید سپاٹ چہرے کے ساتھ گویا ہؤا:

میں تو ان کی حفاظت میں تھا

مجھے تو یہ اس الزام میں پکڑ کے لے گئے تھے جو میں نے کیا ہی نہیں تھا۔ میں نے تو صرف اس دکاندار سے جو برسوں سے میرا ہمسایہ اور دوست تھا.... صرف یہ کہا تھا کہ بھائی یہ پوسٹر اتار دو۔ اس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ قانون کے محافظ مجھے پکڑ کر لے آئے۔ یہاں حوالات میں دھر دیا۔

پھر وہ نوخیز لڑکا جس کی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں۔ میں نے تو اسے کبھی نہ دیکھا تھا۔ وہ کون تھا۔

تم کون ہو ؟ میں نے پوچھا

تڑتڑ .... یہ فائر یہ دھؤاں اور میری زندگی مجھ سے چھین لی گئی۔

آخر کیوں .... میں نے تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔

اور میں تو زیارتوں سے واپس آیا تھا۔ میری ماں بھی اور بھائی بھی کتنے خوش تھے۔ وادی کا منظر حسین تھا۔ پھر ہماری بس کو روک لیا گیا۔

میرا نام .... شناختی کارڈ اور گولی اور میں بے وجہ موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا۔

میری ماں بھی مار دی

میرے بھائی کو بھی سنگسار کر دیا

تم کون ہو .... تم ہمیں کیوں مارتے ہو

یہ سارے مردے بولتے تھے۔ سب کے پاس ایک ایک دردناک کہانی تھی۔ مگر یہ زندہ لوگ خاموش تھے۔

یہ چلتی پھرتی ، کھاتی پیتی ، سانس لیتی لاشیں تھیں۔

یہ بستی بہت ہی عجیب بستی تھی

یہاں سارے زندہ مردہ تھے

وہ سب کچھ کرتے تھے مگر بولتے نہیں تھے۔

وہ بولتے کیوں نہیں تھے۔ اور یہ مردہ لاشیں کیوں شور مچاتی ہیں۔

آپ کیسے بول لیتے ہو

یہ لوگ کیوں نہیں بولتے

یہ دھرتی بانجھ ہو گئی ہے

اس کا خون سفید ہے

ان کی زبانیں گنگ ، دل کالے اور ذہن مردہ ہیں۔

یہ مارنے کے لئے جیتے ہیں

یہ جینے کے لئے جہد نہیں کرتے

یہ گونگے نہیں ڈھونگی ہیں

یہ انسان نہیں ہیولا ہیں

سایہ ہیں

ایک برے خواب کی بھیانک تعبیر ہیں

انہوں نے اس دھرتی کو بنجر اور بانجھ بنا دیا ہے

یہ بستی اب مردہ نگری ہے۔

یہاں کوئی جواب نہیں دیتا

یہاں ہر کسی کے ہاتھ میں پتھر ہے

یہ نہ سوال کرتے ہیں نہ جواب دیتے ہیں

یہ سوچتے نہیں اور دیکھ بھی نہیں سکتے

یہ نہ بہرے نہ گونگے نہ اندھے ہیں

یہ نہ مردہ نہ زندہ ہیں


مگر یہ اس نگری کے باسی ہیں

یہ نگری اب صرف مُردوں کو جنم دیتی اور لاشیں کاشت کرتی ہے

یہ لاشیں بولیں گی۔ روئیں گی۔ چیخیں گی اور دہائی دیں گی۔

پھر تھک جائیں گی اور چپ ہو جائیں گی۔

تب کئی لاشیں اپنی بپتا سنانے ان کی جگہ لے لیں گی۔

 

تحریر: سید مجاہد علی