بھائی ڈٹ گئے
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 07 / جون / 2014
- 6084
ارے صاحب جو چاہے کہو۔ مخالفین جیسے چاہیں طنز کے نشتر چلائیں۔ الطاف حسین کے بارے میں تو یہ کہنا پڑے گا:
تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
اب بس شاعر مرحوم کے کلام میں تحریف کا خوف ہے ورنہ یہ شعر عین الطاف بھائی کی خوبیوں ، صلاحیتوں اور بلند حوصلگی کو پیش نظر رکھ کر لکھا گیا ہو گا۔ بس فساد خلق کے خوف سے شاعر نے بھائی کی جگہ عقاب لکھ دیا تا کہ سمجھنے والے سمجھ جائیں اور مخالفین کے جگر بھی ٹھنڈے رہیں۔
مگر اقبال مرے تھے ، اس وقت تک تو الطاف حسین عرف بھائی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اب آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ شعر الطاف بھائی کے لئے کہا تھا۔
ہاں صاحب حد ہے۔ بس مخالفت میں یہی برا ہے کہ بات پلے بھی پڑتی ہو تو بھی اسے تسلیم نہیں کرنا۔ بس اس میں نئے سے نیا نکتہ نکال کر عیب جوئی کرنے لگتے ہیں۔
نکتہ سمجھنے کی بجائے حجت کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ میاں اگر عقل نہ ہو تو خاموشی بہتر ہے۔ آپ جس شعر کو حضرت اقبال سے موسوم کر رہے ہیں ، وہ ان کی کسی کتاب میں نہیں ہے۔ یہ شعر تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن سید صادق حسین شاہ کا ہے۔
آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ یہ شعر سید صادق شاہ کے مجموعہ کلام برگِ سبز میں شامل ہے اور ان کا انتقال 4 مئی 1989ء کو ہؤا تھا۔
لیجئے صاحب آپ تو ادب کی کلاس لینے لگے۔ میرا کہنا تو صرف یہ تھا کہ جب شاعر کا انتقال ہوئے اتنا عرصہ ہو گیا تو وہ اپنے کسی شعر کے لئے الطاف حسین کی خوبیوں سے کیوں کر انسپائر Inspire ہو سکتا ہے۔
اب یہی آپ مخالفین کا مسئلہ ہے۔ صادق مرحوم نے مرنے سے پہلے الطاف بھائی کی خوبیوں کو بھانپ لیا تھا۔ یہ شعر شاعر اور الطاف حسین کی بڑائی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شاعر نے الہڑ الطاف میں ہی وہ خوبیاں دیکھ لی تھیں جو انہیں عالمی سطح کا مقبول لیڈر بنانے والی تھیں۔
اوہ یار اب جانے بھی دو۔ اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے تو اپنے ملک سے بھاگے ہوئے ایک ٹیلی فونک لیڈر نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہے جو آپ ان کی تعریف میں رطب اللسان ہو رہے ہو۔
ارے ارے کیا نہیں کیا الطاف بھائی نے۔ انہوں نے ہر جور و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے برطانوی سرکار کو للکارا اور کہا کہ لاﺅ جو ثبوت ہے سامنے لاﺅ۔ نو گھنٹے تک تمہاری طرح کج بحثی کے بعد بالآخر برٹش پولیس کو ان کی بات ماننا پڑی اور ضمانت پر رہا کرتے ہی بن پڑی۔ ہمارے الطاف بھائی فاتح اور سربلند ہیں۔
مگر وہ ڈٹے کہاں تھے۔ پولیس کے ہٹے کٹے جوان ان کو دبوچ کر تھانے لے گئے تو بیماری کا واویلا اٹھا دیا گیا۔ لندن سے لے کر کراچی تک ایک ہی صدا آ رہی تھی کہ الطاف بھائی کو خطرناک بیماریاں ہیں۔ وہ تو اسپتال داخل ہونے والے تھے۔ بس یہ ہؤا کہ وہ تھانے سے اسپتال جا کر بستر پر لیٹ گئے اور تین روز تک وہاں محو استراحت رہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہو کہ الطاف بھائی لیٹ گئے۔
وہ تو ڈاکٹروں نے تنگ آ کر ہاتھ باندھ کو پولیس سے کہا : حضور لے جائیے انہیں۔ ہمیں کوئی کام بھی کرنا ہے۔ یہ اسپتال ہے کوئی سیاستدانوں کا عشرت کدہ نہیں ہے۔ یہ برطانیہ کا اسپتال ہے۔ یہاں مریض بھی آتے ہیں۔
اسپتال والوں نے ضروری اور غیر ضروری سارے ٹیسٹ لینے کے بعد بتایا کہ یہ شخص ہٹا کٹا ہے۔ جاﺅ جس طرح چاہو اس سے تفتیش کرو۔ بس ہمارا بیڈ خالی کرو۔
نعوذ باللہ تمہارے جیسے کم عقل مخالفین سے اب کون الجھے۔ تم تو یوں کہہ رہے ہو جیسے اسپتال کے ڈاکٹروں نے براہ راست فون کر کے تمہیں اس بات کی اطلاع دی ہے۔ مگر تم کہاں مانو گے۔ لیکن یہ تو سچ ہے نا کہ الطاف بھائی نے 9 گنھٹے تک پولیس کے سوالوں کا منہ توڑ جواب دیا اور بالآخر اسکاٹ لینڈ یارڈ والوں کو بھی اندازہ ہو گیا کہ اس آدمی سے بحث کرنا ممکن نہیں۔ بس اس سے محبت کی جا سکتی ہے۔ جیسے پاکستان کے گلی کوچوں میں دھرنا دینے والے ہزاروں لاکھوں محبانِ بھائی نے اس عظیم لیڈر کے لئے اپنی چاہت کا اظہار کیا تھا۔
ہاہاہا .... اچھا اب تم منت سماجت کو دلیل اور حجت کہتے ہو۔ جیسے تفتیش کو انٹرویو کا نام دے رکھا ہے۔ تو کوئی تمہیں کیسے عقل سکھا سکتا ہے۔ الطاف حسین اور ان کے وکیلوں نے وعدہ کیا کہ وہ پولیس کے ہر سوال کا جواب دیں گے۔ جب پولیس طلب کرے گی وہ حاضر ہو جائیں گے۔ بس بیچارے پریشان اور بیمار ہیں۔ اس لئے براہ کرم ان کو گھر جانے کی اجازت دی جائے۔
لو یہ بھی تم دور کی کوڑی لا رہے ہو۔ انہیں باعزت رہا کیا گیا۔ ان پر کوئی چارج فریم نہیں ہؤا۔ وہ تو الطاف بھائی قانون کا احترام کرتے ہیں ، اس لئے انہوں نے کہا کہ میاں بات کرنے کا کیا ہے ، جب کہو گے ہم حاضر ہو جائیں گے۔
بس اتنی ہی بات تھی۔ پولیس کی تسلی بلکہ یوں کہئے کہ نظام کے تقاضے پورے کرنے کے لئے الطاف بھائی نے ایک شخصی ضامن فراہم کر دیا۔ یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ:
الطاف بھائی کے جاں نثار
بے شمار بے شمار
اس ذرا سی بات کا کیا بتنگڑ بناتے ہیں مخالفین۔ اب 2014ء میں کہہ رہے ہیں کہ منی لانڈرنگ کی ہے۔ یہ عالیشان گھر ، سیکرٹریٹ ، ٹھاٹ باٹ .... یہ سب کہاں سے آیا۔
میاں الطاف بھائی تو 1992ء سے لندن میں شان سے رہ رہے ہیں۔ تبھی سے ان کے یہی اللے تللے ہیں۔ کبھی تم نے سنا یا دیکھا کہ انہوں نے کوئی کام کیا ہو۔ کسی ریستوران میں برتن مانجھے ہوں یا کسی دکان میں سیلزمینی کی ہو۔ ان کے چاہنے والے ان کے لئے لاکھوں کیا کروڑوں پونڈ فراہم کر سکتے ہیں۔ کیا لندن کی پولیس اندھی تھی۔ اس کو تب یہ نظر نہیں آیا کہ الطاف حسین کے گھر کا خرچ کیسے چلتا ہے۔
یہ سب سازش کا نتیجہ ہے۔ حق پرستوں کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔ الطاف بھائی نے بھی دوٹوک کہہ دیا کہ ہمیں کیا ڈراتے ہو، یہ ولایتی تھانوں اور جیلوں سے ۔۔۔ ہم تو دیسی پولیس کی حوالات بھی بھگت چکے ہیں۔ یہ جیل تو ہمارے لئے ریفریشر کورس ہے۔
بلکہ انہوں نے تو اسکاٹ لینڈ یارڈ کا شکریہ ادا کیا کہ اس بہانے انہیں یاد دلا دیا کہ جیل جانا اور وہاں جانے کو کیش کروانا سیاست کا بنیادی اصول ہے۔ افسوس لندن کی ناکارہ پولیس کو پہلے یہ خیال نہ آیا۔
تاہم دیر آید درست آید۔ ہم نے اب اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو بالآخر باور کروا دیا ہے کہ الطاف بھائی آوے ای آوے۔
تحریر: سید مجاہد علی