اینٹ کا انٹرویو

جب پہلی بار مجھ سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو میں اسے مذاق سمجھا اور بات کو ٹال دیا۔ دوسری بار پوچھنے پر میں نے سوال کو نظر انداز کیا لیکن جب اصرار کے ساتھ مجھ سے یہی بات پوچھی گئی تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا:

” کیا آپ مجھے احمق سمجھتے ہیں۔ جو مٹی سے بنی ، بھٹی میں تپی ایک بے جان اینٹ سے بات کرنے اور انٹرویو کرنے کی بات کر رہے ہیں“۔

نہ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ یوں بھی ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ یہ ساتھ ہی عدالت کے احاطے میں ایک بوسیدہ دیوار کے ساتھ ہی اس کا بسیرا ہے۔ جا کر خود ہی پوچھ لیں کہ اسے قوت گویائی کیوں کر ملی۔ میرا سر بھنا گیا لیکن میں اس چخ چخ سے تنگ آ چکا تھا۔ غصے میں اٹھا اور اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے بولا: لاﺅ دکھاﺅ کہاں ہے وہ بولتی اینٹ۔

ہم دونوں دفتر سے نکلے اور پیدل ہی چلتے ہوئے عدالت کا وسیع احاطہ عبور کر کے اس گیٹ کے قریب پہنچ گئے جہاں چند ہی روز پہلے ایک نہایت بھیانک حادثہ ہؤا تھا۔ اس سانحہ کی گونج پاکستان سے باہر دنیا بھر میں سنی گئی تھی۔ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ کوئی باپ اور بھائی کیوں کر اتنے شقی القلب ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک اینٹ کے وار کر کے اپنی جواں سال بیاہتا بیٹی کو ہلاک کر دیا۔ اس لڑکی کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے ایک ایسے مرد سے شادی کر لی تھی جو اس کے اہل خاندان کو پسند نہیں تھا۔

جوں جوں میرے قدم اس جائے حادثہ کی طرف بڑھ رہے تھے مجھ پر لرزہ طاری تھا۔ میرا ساتھی پراعتماد تھا اور میں گھبرا رہا تھا۔ اس یقین کے باوجود کہ ایک اینٹ کیوں کر بول سکتی ہے، میں اب پریشان تھا کہ اگر واقعی وہاں بولنے والی اینٹ سے سامنا ہؤا تو میں کیا کروں گا۔ میرا جواب کیا ہو گا اور میں اس بے جان پتھر کے ٹکڑے سے کیا پوچھوں گا۔

اوہ ، میں نے سر کو جھٹکا اور خود کو سمجھایا کہ یہ گھبراہٹ بھی کیا چیز ہوتی ہے۔ انسان کچھ بھی اول فول سوچنے لگتا ہے۔ میں تو بس اپنے ساتھی کو شرمندہ کرنے کے لئے یہاں تک چلا آیا ہوں۔ کبھی کوئی اینٹ بھی کیا انسانوں سے بات کر سکتی ہے۔

جی کیوں نہیں کر سکتی۔ ایک کراری مگر نسوانی آواز نے گویا میرے دل کی بات پڑھ لی تھی ، اور اب مجھ سے سوال کر رہی تھی۔

میں پسینے سے شرابور تھا۔ لاہور میں جون کا گرم ترین دن تھا مگر مجھے لگا کہ کسی نے میری ریڑھ کی ہڈی میں برف رکھ دی ہے۔ بدحواسی میں، میں نے اپنے ساتھی کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی مگر وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ کہاں گیا جو مجھے یہاں لایا تھا۔ یہ سوچ کر ہی میرے ہوش فنا ہو گئے کہ میں تنہا یہاں کسی بھوت پریت کے سامنے پھینک دیا گیا ہوں۔ میرا حلق خشک تھا اور کوشش کے باوجود میں آواز نکالنے سے محروم ہو چکا تھا۔ لگتا تھا کہ اب کبھی بول نہ پاﺅں گا۔

” آپ تشریف رکھئے “ اب اس آواز میں ملاحت تھی۔ اس نے شاید دیکھ لیا تھا کہ گھبراہٹ میں مجھ پر سکتہ طاری ہے۔ معاف کیجئے میرے پاس کوئی پرتعیش ڈرائنگ روم اور ائر کنڈیشنر تو ہیں نہیں ۔ مگر آپ یہاں اس اینٹوں سے بنے چبوترے پر بیٹھ جائیے۔ یہاں درختوں کو چھو کر آنے والی ٹھنڈی ہوا آپ کو آرام دے گی۔ میں آپ کو یہ تکلیف دینے پر معافی کی خواستگار ہوں۔ مگر مجھے اپنی بات انسانوں تک پہنچانے کے لئے کوئی دوسرا راستہ نظر نہیں آتا تھا۔

میں اینٹ ہوں انسان نہیں، اس لئے نہ ہنگامہ آرائی کر سکتی ہوں اور نہ ہی میرا ضمیر اجازت دیتا ہے کہ شہریوں میں بلا وجہ ہراس پھیلانے اور پریشانی پیدا کرنے کا سبب بنوں۔ ورنہ مال روڈ پر کسی سیاست دان کی طرح تقریر کرتی اور ان مظالم کا ذکر کرتی جو آپ کی ساری نسل نے مجھ پر اور میری بہنوں پر روا رکھے ہیں۔

میں نے گہری سانس لی ، خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔ ماتھے سے پسینہ پونچھا اور ہوا کے رخ پر منہ کر کے اوسان بحال کرتے ہوئے بالآخر بولا:

مگر آپ کون ہیں۔ کیا میں آپ کو دیکھ سکتا ہوں

ہاں کیوں نہیں۔ میں تو بے جان مٹھی بھر مٹی ہوں۔ بالکل اسی طرح جس طرح انسان ذرا سی مٹی سے بنایا گیا پھر اس میں جان ڈال دی گئی۔ پھر اسے عرش سے زمین پر بھیج کر یہ وسیع دنیا اور اس کے سارے  وسائل، حیوانات و نباتات اس کے حوالے کر دئیے گئے۔ اللہ نے اسے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا اور اس پر اعتبار کیا۔ اس سے کہا کہ میری کائنات کا ایک ٹکڑا پورے اختیار کے ساتھ تمہارے حوالے ہے۔ دیکھتا ہوں کہ تم اپنی صلاحیتوں سے اسے کیسی جنت میں تبدیل کرتے ہو۔

پر حضرت انسان کے اندر تو شیطان نے پہلے سے بسیرا کر رکھا تھا۔ اپنے رب کی رحمتوں اور نعمتوں کو ٹھکرانے والا انسان اس شیطان کے راستے پر چلتا ہؤا اس سرزمین کو جہنم میں تبدیل کرنے لگا۔ اسے جو وسائل مل بانٹ کر استعمال کرنے اور سب کے لئے سہولت فراہم کرنے کے لئے دئیے گئے تھے ، ان پر ہر فرد نے تسلط جمانے اور حق مانگنے والے کمزور کا گلا دبانے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

” تو آپ صرف اینٹ نہیں ہیں۔ آپ تو ایک معقول دانشور لگتی ہیں۔ طبقاتی تقسیم اور حیات انسانی کے فلسفہ سے خوب شناسا ہیں“۔ میں نے ہمت جمع کر کے جواب دینے کی کوشش کی اور ایک بار پھر اصرار کے ساتھ پوچھا کہ آپ ہیں کہاں؟۔ یہ تو ناانصافی ہے کہ میں آپ کے ارشادات سنوں مگر آپ کو دیکھ نہ سکوں۔

میں نے بتایا ناں کہ آپ اپنے سامنے یہ زمین پر نگاہ کیجئے تو میں آپ کو نظر آ جاﺅں گی۔ میں اینٹ ہوں ، انسان نہیں اس لئے اپنی بساط سے باہر نہیں نکل سکتی۔

اب میرے حواس کافی حد تک بحال ہو رہے تھے۔ ان دیکھی آواز سے مکالمہ کرتے ہوئے اب میں زیادہ پراعتماد ہو رہا تھا۔ اس لئے آواز کا سراغ لگاتے ہوئے میں نے اپنے پاﺅں کے قریب زمین پر نظر ڈالی۔ وہاں چند ڈھیلے ، کچھ ٹوٹی ہوئی اینٹیں اور ایک سیاہی مائل اینٹ پر نظر پڑی۔

قبل اس کے کہ میں دوبارہ پوچھتا کہ مجھ سے مخاطب اینٹ کون سی ہے، میں نے اس اینٹ کو غور سے دیکھا۔ اس کا ایک کونہ امتداد زمانہ سے جھڑ چکا تھا۔ اس کا رنگ، اینٹ کی سرخی میں ابھری ہوئی سیاہی اور دھول کی وجہ سے ملگجا سا ہو رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ بھٹی میں آنچ دیتے وقت اسے زیادہ حدت مل گئی تھی۔

اچانک میری نظر اس اینٹ کے بڑے بڑے دھبوں پر پڑی۔ غور سے دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہ خون کے دھبے تھے۔ جو اب اس اینٹ میں جذب ہو گئے تھے مگر ان میں ایک انسانی زندگی کی مہک اب بھی نمایاں تھی۔

” کیا یہی وہ اینٹ ہے “ ۔ میں نے سوچا۔

ہاں میں ہی وہ بدنصیب اینٹ ہوں۔ مجھ بے جان کو تمہارے بے حس دوستوں نے ہتھیار بنا کر تمہاری ہی ایک بہن پر وار کر کے اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔

میری گردن لٹک گئی ، آنکھیں حیرت سے پھیلی تھیں اور میں ایک بے جان کی طرح اس اینٹ کو تکتا تھا۔

میں نے محسوس کر لیا تھا کہ یہی اینٹ مجھ سے مخاطب ہے اور بات کر رہی ہے۔

” بالآخر آپ نے مجھے پہچان لیا “ اس کی آواز میں طنز تھا مگر طنز کا نشتر میری بے جان روح پر بے اثر تھا۔ میں ہونق اس کا منہ تکتا تھا۔

حضرت انسان میں نے آپ کو یہی کہنے کے لئے بلایا ہے کہ آخر اپنے فساد میں آپ نے مجھ بے جان کو کیوں فریق بنا لیا۔ میں تو راوی کے گہرے دامن میں نرم مٹی کا حصہ تھی۔ وہی میرا گھر ، میرا خاندان اور میری دنیا تھا۔ پھر تم نے مجھے وہاں سے اکھاڑ کر اپنے مصرف میں لانے کا تہیہ کیا۔ میں نے اسے خدا کا فیصلہ سمجھ کر قبول کیا۔  پانی میں گوندھ کر مجھے چار ڈانوں والے ڈبوں میں بند کر کے اینٹ کی شکل دے دی گئی۔

میں نے کہا یہ انسان کا اختیار ہے۔ یہ حق اللہ نے اسے دیا ہے۔ حالانکہ میں نے دیکھا کہ ظالم بھٹہ مالکان نے کس طرح کام کرنے والے مزدور بچوں اور عورتوں پر مجھ سے بھی زیادہ ستم ڈھائے تھے۔

پھر مجھے آگ میں جھونک دیا گیا۔ کئی دن تک اس حدت کو برداشت کرنے کے بعد میں نے موجودہ ہیئت اختیار کی۔ تب میں اس گری ہوئی دیوار میں چنی گئی۔ دہائیاں بیتیں اور انسان کے اخلاق اور کردار کی طرح یہ دیوار بھی ڈھے گئی۔

میں یہاں مٹی میں گری مگن تھی۔ میں نے اپنی نئی دنیا بسا لی تھی۔ میں دن رات آنے جانے والوں کو دیکھتی اور تم لوگوں کی حرکتیں دیکھ کر بھی خاموش رہتی۔

اس دن وہ لوگ یہاں ان درختوں کے پیچھے چھپے تھے۔ میں حیران تھی کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ اچانک ایک ظالم نے مجھے اور کئی دوسروں نے چلاتی ، چیخیں مارتی اس لڑکی کو دبوچ لیا۔

وہ کہتے تھے :  ” تم نے ہماری غیرت کو نیلام کر دیا ہے۔ تم بے غیرت ہو۔ خاندان کے نام پر کلنک ہو۔ ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے“۔

میں بے بس اس شخص کے ہاتھ سے پھسلنا چاہ رہی تھی لیکن آہ .... میں انسان نہیں اس لئے وہ کربناک منظر بیان نہیں کر سکتی۔ مگر میں پوچھنا چاہتی ہوں۔

مجھے بتاﺅ کہ یہ غیرت کیا ہوتی ہے۔ اگر مجھ جیسے بے جان کو آلہ کار بنا کر اپنی بیٹی کی جان لینا عزت اور وقار ہے تو بربریت کیا ہوتی ہے۔ پھر انسان اور جانور میں کیا فرق ہے۔

اور یہ بھی بتاﺅ کہ اپنی اس ہوس کاری میں تم لوگ مجھ جیسی بے جان اشیاء کو کیوں گھسیٹ کر بیچ میں لاتے ہو۔ کیا تم سمجھتے کہ ہم بے جان ہیں تو ہم میں احساس کی قوت بھی نہیں ہے۔

اگر انسان زندہ ہوتے ہوئے انسانی جذبوں سے محروم ہو سکتا ہے تو اسے جان لینا چاہئے کہ اس کائنات کے سب جاندار محسوس کر سکتے ہیں مگر وہ قدرت اور فطرت کے تابع ہیں۔

ہمیں اللہ نے اس سے زیادہ اختیار نہیں دیا۔ حضرت انسان کو یہ اختیار دیا تو وہ اس نے اسے استعمال کرتے ہوئے شیطان سے دوستی کر لی۔ وہ انسان سے درندہ بن گیا۔

مگر مجھے یہ جواب دو کہ تم نے اس قضیہ میں مجھے کیوں گھسیٹا۔ ایک بے گناہ کا خون میرے جسم میں کیوں پیوست کر دیا بولو .... اب جواب کیوں نہیں دیتے ............

(تحریر: سید مجاہد علی)