گلو تو یہی کرے گا
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 20 / جون / 2014
- 6979
گلو نے وہ کیا جس کے لئے وہ پیدا ہؤا ہے۔ وہ تو وہی کرے گا جس کا اسے حکم دیا جائے گا۔ اس نے تو کوئی دوسرا کام سیکھا ہی نہیں ہے۔
تف ہے ان لوگوں پر جو اس گلو کو مارتے ہیں جس نے پولیس کی نگرانی میں گاڑیاں توڑیں اور بڑھکیں ماریں۔ مگر اس گلو سے نجات حاصل نہیں کرتے جو ان کے اپنے وجود میں پلتا بڑھتا ہے اور موقع بے موقع انہیں قانون کو ہاتھ میں لینے اور انصاف کے نام پر بے انصافی کرنے پر اکساتا رہتا ہے۔
یہ گلو کون ہے
یہ ایک شخص ہے یا اداکار۔ سیاسی کارکن ہے یا علاقہ بدمعاش۔ یہ شوقیہ فنکار ہے یا سازش کی پیداوار۔ آج پاکستان کے سب دانشور اور مبصر اس بات کا سراغ لگانے میں جتے ہیں۔ ہر کوئی تصویر کا نیا پہلو سامنے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس ایک گلو کی نئی نئی شکلیں سامنے لائی جا رہی ہیں۔ اس کے کردار کے کئی پہلو اور اس کے عزائم کے باےر میں بے شمار اندازے قائم ہورہے ہیں۔
سب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کہاں پیدا ہؤا۔ کس محلے میں بڑا ہؤا۔ کون سے لوگوں سے میل جول رکھتا تھا۔ کس پارٹی کا کارکن تھا اور وہاں کیوں آیا تھا۔
پولیس کہتی ہے کہ یہی فسادی ہے۔ دیکھ لو اسی نے شرارت شروع کی۔ معاملہ بڑھ گیا۔ پولیس کو جان کے لالے پڑگئے اور غیر ارادی طور پر گولی چل گئی۔ آٹھ۔ دس ۔۔۔ نجانے کتنے لوگ جان سے گئے۔ اس میں نہ ہمارا قصور نہ گولی کا دوش۔ یہ سب کیا دھرا اس گلو کا ہے۔
کیمرہ کہتا ہے کہ گلو تو پولیس افسروں سے بغل گیر ہے۔ وہ تو پولیس دستوں کی قیادت (یا حفاظت) کرتے ہوئے مصروف عمل تھا۔ وہ شاید ایسی پولیس فورس کا پروردہ تھا۔ اسی کا کارندہ۔ برے بھلے وقت میں کام دکھانے والا، الزام لگانے والا ، الزام اپنے سر لینے والا اور بالآخر ہتھکڑیاں پہن کر پولیس ہی کی نگرانی میں کالے کوٹ والوں سے زد و کوب ہونے والا اور جب سیاہ دل “ گلوﺅں “ کو احساس ہو کہ یہ گلو اب ناکارہ ہو گیا تو کسی بے بس خارش زدہ کتے کی طرح، کسی گندی گلی میں کسی انجان گولی کی زد میں آ کر جان دینے والا۔
تو ہم اس گلو کو گالی کیوں دیتے ہیں۔
ہم اس کا کھوج کیوں لگا رہے ہیں
ہم اس کا گھر ، محلہ ، خاندان ، پارٹی یا دوستوں کے بارے میں جاننے میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں۔
گلو تو سایہ ہے۔ ایک ہیولا۔ ایک غیر مرئی قوت
اس گلو کو کھوجنا تو یوں ہی ہے جیسے سائے کو تلاش کیا جائے۔ اس کا سراغ لگایا جائے۔
یہ تو پرچھائیں ہے۔ بے حس عکس ۔۔۔ جس کا نہ دماغ اپنا ہے اور نہ لاٹھی۔
وہ نہ اپنی مرضی سے دھمکاتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے گرتا پڑتا جیل میں بند ہوتا ہے۔ وہ تو مجبور بندہ محض ہے۔
تو گلو کون ہے۔
یہ جاننا ضروری تو ہے کہ یہ شخص کہاں سے آیا۔ اس نے جو کیا اس کا مقصد کیا تھا۔ آخر اس نے یہ کیوں کیا۔ اس کو اس کا فائدہ کیا ہے۔ یہ ضرور کسی کا تنخواہ دار ہو گا۔ یہ کسی کے اشارے پر آیا ہو گا۔ اسے بغیر مقصد کے یہ غنڈہ گردی کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔
ضرورت اسے نہیں ہے۔ ضرورت نے گلو کو جنم دیا ہے۔
ہوس اور اقتدار کی ضرورت نے ۔ طاقت اور حاوی ہونے کے لالچ نے۔
یہ اس کریہہ ذہن کی پیداوار ہے جو اپنا حق فائق اور دوسروں کی ضرورت کو غیر ضروری سمجھتا ہے۔ جو اپنی آواز بلند کرتا ہے مگر دوسروں سے قوت گویائی چھیننا چاہتا ہے۔ جو سب سے محبت کا ڈھونگ کرتا ہے لیکن پیار وہ صرف خود سے کرتا ہے۔
گلو اسی خود پرستی کی پیداوار ہے۔
گلو کسی محلے میں نہیں شیطانی دماغوں میں پیدا ہوتا ہے۔
جب بے پناہ خواہشیں دماغ کو مفلوج اور دل کو نت نئی ضرورتوں کی آماجگاہ بناتی ہیں تو انہیں اپنے وجود کے اظہار کے لئے گلو کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ایسی ایجاد کی، جو ان کے اشاروں پر روبوٹ کی طرح عمل کرے اور وقت آنے پر اس روبوٹ کے کل پرزے توڑ کر اسے کسی کباڑی کے پاس پھینک دیا جائے۔
یہ ذہن کسی جدید سائنسی ورکشاپ کی طرح ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ سائنسدان انسانیت کی بھلائی کے لئے نت نئی ایجادات سامنے لاتے ہیں اور بیمار ذہن اپنی ہوس و ضرورت کو پورا کرنے کے لئے گلو اور اس کے ہم جنس پیدا کرتے اور انہیں استعمال کرتے ہیں۔
تو گلو کو کیسے تلاش کریں۔
اس کا ملنا ضروری ہے۔
یہ جاننا اہم ہے کہ ان لوگوں کو ڈھونڈا جائے جو اس قسم کے کرداروں کو جنم دیتے ہیں اور پھر معاشرے میں تباہی پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔
گلو نام بدل بھی تو سکتا ہے۔
اگر کل کلاں یہ کسی نئے ہیئر اسٹائل اور نئی مونچھوں کے ساتھ کسی تازہ نام سے سامنے آ گیا تو اسے کیسے پہچانا جائے گا۔
چلو اس ذہن کو تلاش کریں جو ایسے مجرموں کو جنم دیتا ہے۔ اس سے کہیں کہ وہ یہ گھناﺅنا کام چھوڑ دے۔ وہ گلو بنانا بند کر دے۔
نہیں گلو کو سمجھاتے ہیں کہ وہ شیطانی لوگوں کے بہکاوے میں آنا بند کر دے۔ شرافت کی زندگی بسر کرے۔
پر گلو بدل نہیں سکتا۔ وہ مر بھی نہیں سکتا۔
وہ تو ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔
گلو سے پوچھو کہ تم یہ کیا کرتے ہو
وہ کہے گا: گلو تو یہی کرے گا
پوچھو ! آخر کیوں؟
تو جواب آئے گا: گلو حکم کا بندہ ہے۔ گلو تو وہی کرے گا جس کا حکم ہو گا۔ گلو تو یہی کرے گا۔
مگر گلو سے نجات پانا ضروری ہے۔
چلو مان لیا اس ذہنیت سے چھٹکارا ضروری ہے۔
چلو اس مزاج اور اس رویہ کو تلاش کرتے ہیں۔
اسے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گلو کی تلاش میں سارے جہاں کو کھوج لیا گیا۔
وہ ہر جگہ تھا۔ پر وہ کہیں نہیں تھا۔
گلو نے آب حیات پی رکھا ہے۔
وہ کلر بلائنڈ ہے اور تخصیص نہیں کرتا۔
وہ زندہ رہتا ہے اور حکم بجا لاتا ہے۔
اسے ڈھونڈنا ہے تو تنہائی میں اپنے دل میں چھپی خواہشوں میں اس کا سراغ لگاﺅ۔
ورنہ آج ایک گلو پکڑا ہے
یہاں تو ہر گھر کا اپنا ایک گلو ہے۔ ہر مرکز ، ہر جماعت .... ان جیسے ہیولوں سے بھری پڑی ہے۔
یہ بے جان ہیں مگر حرکت میں ہیں
یہ جان لیتے ہیں مگر جان نہیں پاتے کہ وہ کیا اور کیوں کرتے ہیں۔
دوسرے کے گلو کو ہدف نہ بناﺅ
اپنے گلو کا گلا دباؤ
شاید گلو کا سراغ مل جائے
ورنہ گلو تو یہی کرے گا۔
(تحریر: سید مجاہد علی)