برقع پوشوں کی جنت

جوں جوں عمر ڈھلتی جا رہی تھی، ان کی فکر مندی اور پریشانی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ مرنے سے پہلے کچھ ایسا کر جائیں جس سے ان کے بعد آنے والی نسلیں سبق سیکھیں اور خوشی و اطمینان کے راستے پر گامزن رہ سکیں۔ مگر انہیں سوجھتی نہ تھی کہ کیا کر گزریں۔

وہ دور کئی سمندر پار ایک جزیرہ نما مملکت کے سربراہ تھے۔ ان کے زیر نگیں علاقہ قدرتی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ اس قدر تیل ، ہیرے جواہرات اور سونا اس ملک کے سمندر اور پہاڑیاں اگلتیں کہ انسان سمیٹنا بھی چاہے تو ممکن نہ ہو۔

دبستان جنتہ کے اس حکمران کے پاس اس قدر دولت تھی کہ وہ سونے کی رکابی میں سونے کے چمچے سے کھاتے اور پھر انہیں خیرات کر دیتے۔ انہوں نے زندگی بھر سونے کی ایک ہی رکابی میں دو بار کھانا نہ کھایا تھا۔ شروع میں اس بیش قیمت ” خیرات “ لینے والوں کی کمی نہ تھی۔ لیکن ان کی حکمت عملی اور دولت کی فراوانی نے وسائل کو عام کر دیا تھا اور اب تو آواز دینے پر بھی خیرات اور انعام لینے والا نہ ملتا۔

ریاست کے باشندے بادشاہ کا تحفہ جان کر کچھ ضرور قبول کر لیتے مگر وہ ہمہ وقت احسان مند اور خوش باش تھے اور یہ کہتے نہ تھکتے تھے کہ عالم پناہ: اللہ کی رحمت اور آپ کی سخاوت سے اب اس قدر کشادگی ہے کہ مزید کی گنجائش نہیں۔

حیرت ہے کہ اس گوشہء جنت کا حکمران .... جس کی رعایا شاداں اور مطمئن اور جس میں آباد لوگ خوشحال اور متمول تھے.... یوں مغموم رہتے تھے۔

وہ ایک انصاف پسند بادشاہ تھا۔ وہ سب کے لئے مساوات کا خواہشمند تھا لیکن اسے لگتا تھا کہ وہ اپنی طاقت ، دولت اور اختیار کے باوجود اپنی سب رعایا کو مکمل انصاف اور مساوات فراہم نہیں کر سکا تھا۔

وزیر ، مشیر اور احباب انہیں تسلی دلواتے رہتے کہ آپ نے تو اتنا کیا کہ لوگ اس کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ لیکن یہ باتیں ان کی تشفی کا سبب نہ بنتیں۔

انہیں معلوم نہیں تھا کہ کمی کیا ہے ۔ مگر محسوس ہوتا تھا کہ کچھ کمی ضرور ہے۔

حالانکہ بطور سربراہ مملکت اس نے نہ صرف یہ کہ سب لوگوں کو خوشحال اور خود مختار کر دیا تھا بلکہ سرکاری خرچ پر ان کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا تا کہ وہ دنیا و آخرت کے رموز و اسرار سے بہرہ ور ہو سکیں۔ خاص طور سے دینی تعلیم و تربیت پر توجہ دی گئی تھی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ ان کی رعایا کا ہر فرد پابند صوم و صلوة تھا اور دین کا ہر تقاضہ پورا کرنے میں خوشی محسوس کرتا تھا۔ مرد داڑھیاں رکھتے ، عبائیں گھٹنوں سے اونچی رکھتے اور عورتیں اپنا ستر مکمل طور سے پوشیدہ رکھتیں۔

پھر ایسا کیا تھا جو ہر لمحہ اور ہر وقت اسے یوں بے چین رکھتا کہ وہ مرنے سے ڈرتا اور جینے سے گھبراتا تھا۔
عجیب جان کنی کی کیفیت تھی۔

اس روز عجب سانحہ ہؤا

کئی برس بعد اخباروں کا مطالعہ کرتے ہوئے اچانک ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔

اس نے ایک خبر کو بار بار پڑھا۔ اس سے منسلک تصویروں کا خوب مطالعہ کیا۔ پھر اس کا تراشہ لے کر مصاحبین اور مشیروں کا اجلاس طلب کیا۔

سب کو وہ خبر اور تصویریں داد طلب نگاہوں سے دکھاتے ہوئے اس نے کہا کہ یہ میری بے چینی کی وجہ بھی ہے اور راستہ بھی۔

مصاحبین کچھ سمجھے اور کچھ نہ سمجھے مگر سب نے اقرار کیا کہ عالم پناہ درست فرماتے ہیں۔

تو آپ مطمئن اور متفق ہیں نا۔

سب نے ہاں میں ہاں ملائی تو بادشاہ سلامت نے قصد سفرکا کیا۔ فرمایا کہ اس نیک کام کے لئے ہم خود جائیں گے اور اسے پورا کر کے ہی دم لیں گے تا کہ مرنے کے بعد پروردگار کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔

دنوں میں تیاریاں مکمل ہو گئیں۔ معلومات حاصل کر لی گئیں اور بتایا گیا کہ یہ خبر اور تصویریں ایشیا کے جنوب میں واقع ایک مملکت پاکستان سے متعلق ہیں۔ بفضل تعالیٰ وہ ملک بھی مسلمانوں کی آبادی ہے اور وہاں کے لوگ بھی اسلام کو اپنانے اور نافذ کرنے کے لئے جان تک کی بازی لگانے سے گریز نہیں کرتے۔

سفارتی ذرائع سے معاملات طے ہوئے۔

ایک امیر ملک کے بے پناہ دولت مند اور بااختیار شہنشاہ کی خواہش کا پتہ چلتے ہی غریب مگر کشادہ دل میزبان پاکستان کی حکومت نے آﺅ بھگت کا پورا انتظام کر لیا تھا۔ سفارت کاروں نے چاہا کہ شاہ دبستان جنتہ اور پاکستان کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات کا ایجنڈا طے کر لیا جائے مگر اس نے انکار کر دیا۔

میں یہ بات براہ راست وزیراعظم نواز شریف کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

زبردست کے آگے کس کی چلتی ہے۔ خاص طور سے اگر میزبانی کا شرف پاکستان جیسے ملک کو مل رہا ہو جس کے خزانہ خالی ، عوام بھوکے اور حکمران حریص ہوں تو دولت سے منسلک ہر شرط شیر مادر سمجھ کر قبول کر لی جاتی ہے۔

یہ شاہی کارواں اسلام آباد میں اترا اور شہنشاہ معظم، وزیراعظم کی معیت میں سیدھے ان کے گھر پہنچے۔ تخلیہ کا تقاضہ کیا اور نہایت لجاحت سے حرف مدعا زبان پر لائے۔

” مجھے اس راز کا سراغ لگانا ہے۔ یہی میری نجات کا راستہ ہے۔“ اس نے نہایت منت سے میاں نواز شریف سے کہا۔ شاہ کے بیشتر وزیروں کی طرح نواز شریف بھی بات کو سمجھ نہ سکے مگر گھاگ تاجر تھے اور تاڑ گئے کہ یہ کام ہو گیا تو خزانوں کے منہ پاکستان بلکہ ان کی طرف کھول دئیے جائیں گے۔

مہمان معظم کو احترام سے شاندار مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا اور ان کی خواہش پوری کرنے کے لئے انتظامات کا آغاز ہو گیا۔

فوج کے سربراہ کے توسط سے ریجنل کمانڈر کو بتایا گیا کہ پاکستان آنے والے عظیم المرتبت مہمان کی کیا خواہش ہے۔ سب زیر لب مسکراتے مگر خاموش رہتے۔

انتظامات ہو گئے اور یہ بے چین بادشاہ ایک شاندار کمرہ ملاقات میں ان چھ برقع پوش مردوں کے سامنے بیٹھا تھا۔ وہ ان سے پوچھ رہا تھا کہ تمہیں یہ اچھوتا خیال کیسے آیا۔ میں اسی خیال کی تلاش میں یہاں تک آیا ہوں اور اس کی فکری اور علمی وجوہ جاننا چاہتا ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ یہی راستہ نجات کا راستہ ہے۔

ان سب جاہل برقع پوشوں نے بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھا اور گویا ہوئے: حضور ہم تو زیادہ نہیں جانتے۔ اس ایجاد کے بانی تو حضرت برقع مدظلہ ہیں۔ وہ عالم ہیں اور عامل بھی۔ وہ آپ کو ساری تفصیل بتائیں گے۔

بے چین بادشاہ اور ملا برقع پوش کے درمیان متعدد ملاقاتوں کے بعد آخر مہمان کی تسلی ہو گئی اور وہ وزیراعظم ، فوج کے سربراہ اور دیگر پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کرتے خوشی سے دیوانے اپنے وطن روانہ ہوئے۔

محل میں داخل ہوتے ہی انہوں نے شاہی حکم جاری کیا:

” آج سے اس مملکت کے سارے مرد سر سے پاﺅں تک چھپانے والا برقع پہنیں گے۔ جو مرد اس مقدس لباس کے بغیر نظر آیا اس کی گردن مار لی جائے گی۔ اب عورتوں کو برقع پہننے یا چھپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بے حیائی کی روک تھام کے لئے بے حیاﺅں کو محدود کرنا ضروری ہے۔“

اس حیران کن حکم پر سب حیران رہ گئے ، مگر بادشاہ کے آگے کس کی مجال تھی کہ اُف بھی کرتا۔

پاکستان کے شریف اینڈ سنز کو مختلف ڈیزائن اور سائز کے برقعے بنانے اور اس مملکت میں ایکسپورٹ کرنے کی اجارہ داری عطا ہوئی۔

کہتے ہیں وہ بادشاہ جب تک زندہ رہا برقع پوش مردوں کی اس مملکت میں خوشی کے شادیانے بجتے تھے اور رعایا شاہِ بے مثال کی سخاوت اور دریا دلی کے ساتھ ان کی ذہانت اور ذکاوت کے بھی گن گاتی تھی۔

ان کے مرتے ہی مردوں نے برقعے اتار پھینکے اور دبستان جنتہ، جہنم کا نمونہ بن گیا۔

(تحریر: سید مجاہد علی)