برقع پوش مردوں کے باب میں

میں نے چند روز قبل ایک تصوراتی مملکت کی تصویر کشی کی تھی کہ کیسے ایک مطلق العنان بادشاہ اپنی دولت اور طاقت کے بل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ اس کہانی میں جب موصوف کو اپنے مرنے کی فکر ستانے لگی تو وہ اسلام ، مسلمانوں اور رعایا کی خدمت گزاری کا قصد کرتا ہے۔

اس قسم کے قصد کے دو پہلو اہم ہوتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ مرنے کا خوف ہمیشہ گمرہوں کو خدا کے قریب لے آتا ہے۔ یا وہ اسی قرب کے لئے ہاتھ پاﺅں مارنے لگتے ہیں۔ اس کاوش میں راستہ کا تعین کرنے کے لئے ان کی اپنی سوچ اور طریقہ کار ہی سب سے بہتر ٹھہرتا ہے۔ وہ رائے ، مشورہ یا رہنمائی کے قائل نہیں ہوتے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ مطلق العنانیت عام طور سے عقل کے دروازے بند کر دیتی ہے۔ مصاحبین درحقیقت خوشامدین اور مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ ہوتا ہے، جنہیں ایسا شخص اپنے خیر خواہ ، ہمدرد اور بہترین مشیر قرار دیتا ہے۔

اب ایسا شخص اگر بے لباس ہو کر قرار دے کہ اس نے دنیا کی بہترین پوشاک زیب تن کی ہے تو مفاد اور عواقب سے عاری ایک معصوم کے علاوہ کون ہے جو کہے گا کہ ” عالم پناہ آپ تو ننگے ہیں“۔

مدعا یہ کہ یہ عالم پناہ بھی جب کہانی کے کلائمیکس میں پاکستانی وزیراعظم سے ملنے اور وہاں سے برقع پوش مردوں کی حقیقت جاننے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو اس سے، ان بہت سی سچائیوں سے پردہ اٹھانا مقصود تھا جنہیں ہم نے اپنے کردار ، عمل اور فریب کے سبب خود سے بہت دور کر لیا ہے۔ یہ سچ چونکہ ہمارے عیب ظاہر کرتے ہیں اور ہمارے غیر متوازن رویہ یا ظلم کی داستان بیان کرتے ہیں، اس لئے ہم انہیں نقاب پوش رکھ کر مطمئن اور خوش ہوتے ہیں کہ نہ ان سے ہمارا تعلق نہیں ہے۔

یہ میری کم ظرفی ہے کہ بعض کریہہ صورتیں دیکھنے کے باوجود میں یہ کہنے کا حوصلہ نہیں کرتا کہ آپ تو غبی ہو۔ اس خیالی مملکت کے بادشاہ نے کسی حد تک میری مشکل حل کر دی۔ جب وہ وزیراعظم پاکستان سے مل کر حرف مدعا زبان پر لاتا ہے تو دونوں ایک دوسرے کے بارے میں وہی قیاس کر رہے تھے جو ایسے مواقع پر فطری طور سے ممکن ہے۔ اگر اس ملاقات کے دوران بادشاہ سلامت اور وزیراعظم بہادر کے دل کو پڑھنے کا یارہ ہو تو جو باتیں سامنے آئیں گی وہ کچھ یوں ہوں گی:

بادشاہ : شکل سے یہ کودن اور بدکار لگتا ہے۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ کیسے کیسے لوگوں کو نوازتا ہے اور انہیں کیسے کیسے عہدے عطا کرتا ہے۔ اس بدبخت کو اندازہ نہیں کہ اللہ نے اس پر کیسا کرم کیا ہے۔ لیکن یہ منحوس اس کا ادراک نہیں رکھتا۔ صد افسوس اور ہزار لعنت ہو اس پر۔

مگر دیکھیں یہ بھی اللہ کی کرشمہ سازی ہے کہ مجھ سے عاجز کو، سرخروئی کا راستہ اس محروم اور سنگدل شخص کے توسط سے مل رہا ہے۔ میں کبھی اس کی شکل نہ دیکھتا مگر یہ تو اللہ کا بتایا ہؤا راستہ ہے۔ یہ شخص میری مملکت میں ہوتا تو میرے کسی مصاحب کا دربان بھی مقرر نہ ہو سکتا۔ دیکھئے اس کی شان کریمی کہ اس نے اسے مسلمانوں کی ایک بڑی مملکت کی ذمہ داری دے رکھی ہے۔ کیا اس کو احساس ہے کہ اس سے اس فرض کی جوابدہی ہو گی۔ اس سے ہر فعل کا حساب لیا جائے گا۔

وزیراعظم : کہنے کو تو یہ ہونق بادشاہ ہے مگر اس میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ اللہ بھی بڑا کریم ہے۔ جب دینے پر آتا ہے تو نہ کرتوت دیکھتا ہے نہ شکل۔ یہ شخص جو مردوں کے برقع پہننے کو نجات کا راستہ سمجھنے کی بات کر رہا ہے ، بالکل فاتر العقل ہے۔ اگر یہ واقعی ایک ملک کا سربراہ اور اتنا دولتمند نہ ہوتا تو اسے کون منہ لگاتا۔ بلکہ محلے کے لڑکے بالے پاگل پاگل کہہ کر اسے پتھر مارتے اور مضروب کرتے۔ کوئی رحم دل اسے پاگل خانے داخل کروا دیتا۔ جہاں یہ مطالبہ کرتا کہ اسے برقع دیا جائے تا کہ وہ جنت میں جا سکے۔

پر مجھے کیا۔ ایسے احمق ہوں تو ہمارا کام بھی چل سکتا ہے۔ اب امریکہ اور یورپی ملک تو کیا ، چین اور سعودی عرب جیسے ملک بھی امداد دیتے ہوئے حساب دینے اور ان کی فراہم کردہ رقم درست شعبے میں صرف کرنے کی بات کرتے ہیں۔ اب ایسے میں ہم جیسے خادمانِ عوام اپنے اخراجات کہاں سے پورے کریں۔ یہ بے مغز مجہول، اللہ نے اپنی کرم فرمائی سے میرے پاس بھجوایا ہے۔ اس پاگل کی بات کو بس ایسے سنتا ہوں جیسے وہ بہت حکیمانہ اور دانائی کی بات کر رہا ہے۔ یہ بے پناہ دولت کے پہاڑ پر بیٹھا ایک گدھا ہے۔ مگر میرا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں نا کہ وقت پڑنے پر گدھے کو بھی باپ بنا لیتے ہیں۔ میں اس کو شیشے میں اتارتا ہوں۔ بس پھر اس کے خزانوں سے جتنا چاہوں مال بٹور سکتا ہوں۔ اللہ کے فضل سے میرا خاندان اتنا بڑا ہے اور اس جیسے بے وقوف کو چکر دینے میں ہمارا ہر فرد اپنی مثال آپ ہے۔ اب یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا۔

معاف کیجئے گا .... یہ جملہ معترضہ ذرا طویل ہو گیا۔ مقصود اس بیان کا صرف یہ تھا کہ عاجز نے جب یہ کہانی بیان کی اور اس مملکتِ نامعلوم کے مردوں کو جب برقعے پہنائے گئے تو میرے ذہن میں صرف اتنی بات تھی کہ تصویر کو سیدھا تو سبھی دیکھتے ہیں ، ذرا اس کو الٹا کر کے دیکھا جائے۔

اب کسی تحریر کے ساتھ کوئی پرچہ ترکیب استعمال تو لف کیا نہیں جا سکتا۔ یہ کام تو قاری پر چھوڑنا پڑتا ہے۔ وہ جو چاہے اخذ کرے اور اس تفہیم کی روشنی میں لکھنے والے کے ساتھ جو سلوک مناسب سمجھے روا رکھے۔

بھلا ہو میرے ان احباب کا جو حسن ظن رکھتے ہیں اور میرے لکھے کے بارے میں یہ نہیں کہتے کہ اس میں تعصب ہے یا یہ کسی سازش کا نتیجہ ہے۔

ان لوگوں نے پڑھا تو خود بھی ہنسے اور اپنے دوستوں سے بھی کہا کہ یار اس کہانی کو پڑھو۔ دیکھو برقع پوشوں کی جنت کیسی ہو گی۔

پر کیا کیا جائے اس ستم ظریفی کا کہ حس مزاح ہمارے ہاں معدوم ہوئی۔ اب معاملات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ان کے وہ معافی دریافت کئے جاتے ہیں جو شاید اس خفیف سی کاوش میں سما بھی نہ سکیں۔ برقع پوشی کا معاملہ چونکہ کسی نہ کسی طرح دین کا معاملہ بھی ہے ۔ اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ تحریر ہذا کو بغور پڑھا جائے اور اس سازش کا سراغ لگایا جائے جس نے کبھی جنم ہی نہیں لیا تھا۔

ایک دیدہ ور نے تو مجھے متنبہ بھی کیا کہ ذرا غور کیا جائے تو یہ معاملہ توہین مذہب کے ضمن میں آتا ہے۔ ہمارے اصل وطن میں اس استعارے کے نام پر جو گل کھلائے جاتے ہیں اور جس طرح ہنستی بستی زندگیوں کو روند کر ویران کیا جاتا ہے .... ان کی ساری کیفیت مجھ پر عیاں ہوئی اور میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

عرض کرنے کی کوشش بھی کی کہ صاحب یہ تو ذرا ہنسی مذاق کے لئے ایک خاکہ کھینچنے کی ناکام کوشش تھی۔ اسے اتنا سنجیدہ کیوں لیتے ہیں۔

تب وہ سیخ پا ہوئے اور مجھے جہنم کے ایسے ایسے عذاب یاد دلائے جو کبھی کسی مولوی صاحب نے بھی آشکار نہیں کئے تھے۔ پر میرا دل جہنم کے خوف سے تو لرزہ براندام نہ ہؤا مگر اس دہشت سے بیٹھ سا گیا جو جنت کے داعی مذہب کے کسٹوڈین ہونے کے ناطے انسانوں پر مسلط کرتے ہیں۔ چشم تصور میں سنگسار جسم ، کٹے ہوئے بازو ، گرم سلاخوں سے بے نور کی گئی آنکھیں ، نوک خنجر سے چاک شکم اور گولیوں سے چھلنی بچے ، عورتیں اور مرد۔

مجھے جھرجھری سی آ گئی۔

وہ خشمگین نگاہوں سے مجھے یوں گھورتے ہوئے روانہ ہوئے گویا کہہ رہے ہوں : ” بچّو تجھے دیکھ لیں گے“۔

ممکن تھا کہ قہر اترنے سے قبل میں اس کے خوف سے ہی راہئ عدم ہو جاتا کہ گناہ گار نظر ایک خبر پر پڑی اور وہیں جم کر رہ گئی۔ خبر کچھ یوں تھی:

” موصل (عراق) میں امراء کے محلے میں ایک محل نما مکان پر مسلح جہادیوں کا قبضہ اور پہرہ تھا۔ شاندار فور ڈرائیو گاڑیوں میں خلافت اسلامیہ کے اعلیٰ عہدیدار وہاں آتے۔ اہم ملاقاتیں اور فیصلے ہوتے اور پھر اپنے اپنے خفیہ ٹھکانوں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ یہ نوزائیدہ اسلامی خلافت کا مرکز تھا اور دشمن سے محفوظ رکھنے کے لئے اس کا پہرہ بھی نہایت سخت تھا۔

ایک روز ایک سیاہ ایس یو وی SUV وہاں آ کر رکی۔ گاڑی کے شیشے سیاہ پردوں سے ڈھانپے گئے تھے۔ اس میں سے تین خواتین نکلیں۔ وہ تینوں برقع پوش تھیں ، سر سے لے کر پاﺅں کے ناخن تک پوشیدہ۔ کوئی ان کا بال تک نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس محل نما سیکرٹریٹ کے پروٹوکول کا سربراہ خود ان خواتین کے استقبال کے لئے موجود تھا۔ وہ تینوں کو اندر لے گیا۔ پہرے داروں نے نوٹ کیا کہ خواتین کئی گھنٹے تک مرکز میں موجود رہیں۔ پھر اسی طرح مستور وہ شاندار سواری میں بیٹھ کر روانہ ہو گئیں“۔

ان کے جانے کے بعد ایک پہرے دار نے دوسرے سے پوچھا:

” یہ کون خواتین تھیں۔ پہلے تو یہاں کوئی عورت نہیں آئی“۔

دوسرے نے اپنا منہ پہلے پہرے دار کے کان کے پاس لاتے ہوئے راز داری سے کہا:

” تم نہیں جانتے۔ یہ خلیفة المسلمین حضرت ابوبکر البغدادی تھے۔ جو اپنے قریب ترین مصاحبین کے ساتھ اہم اجلاس کے لئے تشریف لائے تھے“۔

ناآشنا پہرے دار حیرت سے بھونچکا رہ گیا۔

میں نے خبر پڑھی۔ سکون کا سانس لیا اور سوچا:

کہ شاید خلافت اسلامیہ اب مردوں کے لئے برقع پوشی لازم قرار دے گی۔

خلیفہ کی سنت کی پیروی نہ کرنا بھی تو فعلِ حرام ہو گا۔

(تحریر: سید مجاہد علی)