آپشنز
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 26 / جولائی / 2014
- 7009
کہا: انتخاب کرو
تم فلسطین کے حامی ہو
اسرائیل کے حامی ہو
یا امن کے
کہا: انصاف چاہتا ہوں
کہا: جواب غلط ہؤا۔ ایک اور موقع دیا جاتا ہے۔ جواب دئیے گئے آپشنز میں سے ہونا چاہئے۔
کہا: امن ہو پر سب کو حق ملے ، ظلم ختم ہو ، انسانیت کا بول بالا ہو اور ظلم کو اس کے کئے کی سزا ملے
کہا: جواب پھر غلط ہؤا۔ غور سے سن لو جواب آپشنز میں سے ہی ہو سکتا ہے اور ایک سوال کا جواب بھی ایک ہوتا ہے۔ تم کو یہ اجازت نہیں ہے کہ مقرر کی طرح تقریر شروع کر دو یا کسی واعظ کی طرح پند و نصائح کی پٹاری کھول لو۔ جواب دو ۔ یہ تمہارا آخری موقع ہے۔
جواب دینے کا وقفہ طویل ہو گیا۔ سر کو پکڑے سوچنے لگا کون سا جواب دوں جو تیر کی طرح اس خانے میں فٹ ہو جہاں سے آواز آئے : جواب درست ہؤا۔
دو ہاتھوں میں تین گیندوں کا کھیل کھیلتے وہ شخص سوچنے لگا کہ اگر گیند تین ہوتی ہیں تو ہاتھ بھی دو ہوتے ہیں۔ اس کرتب میں صرف ایک ہی گیند کو ہوا میں معلق رکھا جاتا ہے۔ بدترین صورت میں بھی دو گیندیں تو ہاتھ میں ہی رہتی ہیں۔ گرنے کا اندیشہ صرف تیسری گیند کے بارے میں ہوتا ہے۔
فلسطین یا فلسطینی
اسرائیل یا پھر امن
میرا خیال ہے امن ہی جواب ہونا چاہئے۔ اس میں تو سب کا فائدہ ہے۔ استحصال کرنے والا اور قانون توڑنے والا بھی چیرہ دستیوں سے باز رہے گا اور ظلم کا نشانہ بننے والا بھی سکھ کا سانس لے سکے گا۔ امن تو سب کو چاہئے۔ امن کے سب خواہاں ہیں۔ سب ہی امن کی بات کرتے ہیں۔
کیا امن درست جواب ہے؟
وہ شخص ایک بار پھر الجھ گیا۔
اس نے سوچا امن کے نام پر ہتھیار بنائے اور فروخت کئے جاتے ہیں۔ امن کے نام پر ملک تباہ ہوتے ہیں اور لوگ مارے جاتے ہیں۔ امن کے نام پر نفرت کو فروغ ملتا ہے اور انسانیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ آپشن جُل دینے کے لئے رکھ دیا گیا ہو۔ ہر شخص بادی النظر میں اس دھوکے میں آ جائے گا اور امن کو جواب سمجھ کر اپنا آپشن ضائع کر بیٹھے گا۔
مگر میرے پاس تو کوئی آپشن بچا نہیں ہے۔ دو تو میں نے اپنی کم عقلی کے سبب ضائع کر دئیے۔ اب تو جواب دینے کے لئے صرف ایک موقع ہے۔ یہ غط ہؤا تو مجھے نکال باہر کیا جائے گا۔
لیکن کیا امن ایک ایسا آپشن نہیں ہے کہ اس کو جواب کے طور پر مسترد کرنا آسان ہو۔ ممتحن یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ امن قابل قبول جواب نہیں ہے۔ امن تو ایک آفاقی خواہش ہے۔ ہر جدوجہد کا حاصل ہے۔ ہر جنگ کا نتیجہ ہے۔ ہر ناانصافی کا جواب ہے۔
لیکن جواب غلط ہؤا تو کیا ہو گا۔ یہ پوچھنے والے اتنے احمق تو نہیں ہو سکتے کہ ایک ایسا آپشن دے دیں جو ایک فطری اور آسان جواب ہو۔ پھر امتحان کا کیا فائدہ۔ پھر یہ امتحان دینے والے کی عقل کی بجائے سوال پوچھنے والے کی کوڑھ مغزی کا مظاہرہ ہو گا۔
کاش میں نے اپنے جذباتی پن میں دو آپشن ضائع نہ کئے ہوتے تو آج یہ تینوں آپشن باری باری استعمال کرتا اور صحیح جواب تک بھی پہنچ جاتا اور دوسرے دونوں آپشنز کی اصلیت بھی جان لیتا۔ مگر دو مواقع تو ضائع ہوئے۔
کیوں نہ میں فلسطین کو چن لوں۔ یہ لوگ گزشتہ 60 برس سے ظلم کا شکار ہیں۔ ان کی نسلیں در نسلیں پناہ گزین کیمپوں میں پیدا ہوئی ہیں۔ تمام طاقتوں اور عالمی اداروں کے وعدوں کے باوجود ان لوگوں کو ان کا حق نہیں مل رہا۔
اور حق بھی کیسا۔ ایک نو آبادیاتی طاقت نے پہلے ان کی سرزمین کو دوسرے لوگوں کے حوالے کیا۔ پھر اقوام متحدہ کی ماں اقوام عالم (لیگ آف نیشز LEAGUE OF NATIONS) سے زور زبردستی یہ فیصلہ کروایا کہ اسرائیل کے قیام کو قبول کیا جائے۔ اس فیصلہ کے بعد جبر سے قائم کی گئی اس مملکت کو مالی ، دفاعی اور سفارتی لحاظ سے طاقتور بناتے ہوئے ان لوگوں کا آقا و مولا بنا دیا گیا جو تین ہزار برس سے اس علاقے میں رہتے تھے۔ ان کی املاک چھین لی گئیں اور انہیں دربدر کر دیا گیا۔
اس کی دلیل سادہ تھی کہ قوم اسرائیل تین ہزار سال قبل اس علاقے سے نکالی گئی تھی۔ اس لئے اس سرزمین پر ان کا حق ہے۔ کیا یہ دلیل ایک عالمگیر اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ایسا ہو تو کس کس کو کون کون سے ملک سے نکلنا پڑے گا .... امریکیوں کو .... آسٹریلویوں کو ........
کہا: تمہارا وقت ختم ہونے کو ہے۔ تم نے اب تک سوال کا جواب نہیں دیا۔ بس اب چند منٹ ہی باقی ہیں۔ جواب دو۔
سوچا: تو کیا اسرائیل درست جواب ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کی فوج پندرہ لاکھ لوگوں کی ایک مختصر آبادی پر زمین ، فضا اور سمندر سے حملہ آور ہے۔ بچے اور عورتیں مارے جا رہے ہیں۔ اسکول اور اسپتال توپوں کے نشانے پر ہیں۔ گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ انسان کا خون سڑکوں پر ارزاں ہے۔ یہ آپشن صریحاً دھوکہ دینے کے لئے شامل کیا گیا ہو گا۔
کوئی ذی شعور کیا ایک ایسے مرحلے میں جبکہ 19 روز میں ایک ہزار بے گناہوں کو جان سے مار دیا گیا ہو ۔ جس طاقت نے لوگوں کا پانی اور علاج بند کر دیا ہو اور اسے اپنے دفاع کا نام دے رہا ہو۔ پوری دنیا کے لوگ جنگ بند کرنے کی بات کرتے ہوں تو یہ ملک جنگ کو طول دینے کی بات کرتا ہے۔ جب سب امن کی بات کرتے ہیں تو یہ سکیورٹی کی دلیل لاتا ہے۔
مگر دوسروں کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے۔
ایک وکیل نے کہا کہ اسرائیل ایک قابض ملک ہے۔ کوئی قابض فوج اپنے زیر نگیں عوام پر فوج کشی نہیں کر سکتی۔ یہ جنگی جرم ہے۔
کون ثابت کرے گا کہ یہ جرم ہے۔
یہاں عدالت ، وکیل اور دلیل سب ہمارے قبضے میں ہے۔
تو جواب کیا ہؤا .... اسرائیل؟
نہ میں یہ تہمت اپنے سر نہیں لے سکتا۔ میرا خیال ہے امن ہی بہتر جواب ہے۔ فلسطین کہنے کو شاید میرا جواب سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا جائے گا۔
امن تو اقوام متحدہ کے چارٹر کا حصہ ہے۔ بان کی مون سے لے کر باراک اوباما تک امن کی بات کرتے ہیں۔
دانشوروں نے اس موضوع پر کتنے دلائل دئیے ہیں۔ یہی ایک ایسی بات ہے جس پر سب متفق ہیں۔ یہی جواب درست ہو گا۔ دوسرے دونوں جواب/ آپشنز تو اپنی اپنی جگہ پر سیاسی ہیں۔
ہاں امن ہی درست جواب ہے۔ اسی طرح سکون بحال ہو گا۔ یہی راستہ ہے کہ سب کو ان کا حق ملے اور سب اپنی اپنی جگہ حفاظت اور اطمینان سے زندگی بسر کریں۔
اچھے ہمسایوں اور اچھے انسانوں کی طرح
کہا: وقت ختم ہؤا۔ جواب دیا جائے
کہا: امن
کہا: جواب غلط ہے
درست جواب ہے ............ اسرائیل۔
(تحریر: سید مجاہد علی)