اگر یوں ہوتا
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 13 / اگست / 2014
- 6283
پاکستانی سیاست میں اگر کی بے حد اہمیت ہے۔
سیاست دان خوب تیاری کر کے ووٹ مانگنے عام لوگوں کے پاس جاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اگر ان کو ووٹ نہ دیا گیا تو کون سی قیامت آنے والی ہے۔
جن کو ووٹ مل جائیں وہ خوش لیکن اگر کا استعمال بہرطور ضروری ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر عوام دشمنوں کی سازشوں ، مخالفین کی چالوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے محفوظ نہ رہے تو نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ یقیناً یہ بات درست ہے پاکستان کے نادان عوام گزشتہ 67 برس سے اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر ماہرین لسانیات یہ اہم لفظ “ اگر “ تلاش کرنے میں ناکام رہتے تو اہل پاکستان تو اس کے فوائد سے بہرہ ور ہی نہ ہو پاتے ۔ نہ انہیں خبر ہوتی کہ اگر سرکار کی بات نہ مانی جائے اور بعض سخت فیصلوں پر صبر نہ کیا جائے تو کیا قیامت آ سکتی ہے۔
یوں تو پاکستان جیسے ملکوں کے عوام ایسی زندگیاں گزارنے پر مجبور کر دئیے گئے ہیں جہاں اگر ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے بہت سے لوگوں نے اگر یوں ہوتا کہ معمہ کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حاصل جواب ہمیشی وہی ہوتا ہے کہ ۔۔۔ مگر کیوں ہوتا۔
یہ اگر ایک تیر بہدف نسخہ ہے۔ یہ چار حرفی لفظ بے شمار عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اور بہت سے وعدوں کے ایفا نہ ہونے پر جواز فراہم کر سکتا ہے۔ یہ خوفزدہ بھی کرتا ہے اور امید کی کرن بھی دکھاتا ہے۔ اب دیکھ لیجئے گزشتہ برس انتخاب منعقد ہوئے۔ نتائج آ رہے تھے کہ ممکنہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے پوری تمکنت کے ساتھ میڈیا کے ذریعے قوم کو ایک پیغام دیا۔ انہوں نے کہا:
اگر آپ لوگ اس ملک کی ترقی چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارا نام بھی باوقار قوموں میں شامل ہو جائے۔ اگر آپ کی خواہش ہے کہ صنعتوں کا جام پہیہ پھر سے چلنے لگے۔ اگر آپ اپنے گھروں کو روشن دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ تمنا رکھتے ہیں کہ ملک میں بجلی کا بحران ختم ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اگر تھے مگر یہاں ان کا ذکر میرے پڑھنے والوں کو بور کر دے گا اس لئے اس تاریخی پیغام کے آخر تک پہنچتے ہیں اور اگر کا کمال دیکھتے ہیں۔ نواز شریف نے واضح کیا:
اگر آپ یہ سب مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت سے کامیاب کروائیں۔ اگر ہمیں مکمل اور بھاری اکثریت نہ ملی اور حکومت سازی کے لئے دوسروں کی منّتیں کرنا پڑی تو پھر ہم وہ تمام وعدے پورے نہیں کر سکیں گے جو ہم نے آپ سے کئے ہیں۔
اس اگر میں اتنی طاقت تھی کہ ادھر یہ طلسماتی لفظ میاں صاحب کی زبان سے ادا ہؤا، ادھر دھڑا دھڑ بیلٹ بکسوں سے نواز لیگ کی حمایت میں ووٹ برآمد ہونے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ووٹوں کا اتنا ڈھیر لگ گیا کہ میاں کھلکھلا اٹھے اور مخالفین دھاندلی دھاندلی کا واویلا کرنے لگے۔
اکثریت مل گئی۔ حکومت بن گئی۔ نہ بجلی آئی نہ صنعتیں چلیں۔ نہ روزگار ملا نہ ہی بھوک ختم ہوئی۔ تو آخر اس اگر کا فائدہ کیا ہؤا۔
اس کا جواب بھی ایک اور اگر میں پنہاں ہے۔ ابھی حال ہی میں وزیراعظم نواز شریف نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا یہ کہا گر ہمیں اطمینان سے حکومت کرنے دی گئی۔ اگر انتشار پھیلانے کی بجائے ہمارے ہاتھ مضبوط کئے جائیں۔ اگر مخالفین یہ سمجھ لیں کہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔ اگر ہمیں ادھر ادھر کی باتوں میں نہ الجھایا جائے تو آپ دیکھ لیں گے کہ وغیرہ وغیرہ۔
ابھی اس سرکاری اگر کی گونج فضا میں مرتعش تھی کہ اپوزیشن کے چند اگر میدان میں اتر آئے اور واضح کیا کہ اگر میں بے حد طاقت ہے۔ عمران خان نے بتایا دیا:
اگر عوام عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ لوگ ملک میں ایک خاندان کی بادشاہت ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کو اس ظلم کا خاتمہ مقصود ہے تو میرا مشورہ ہے ۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
اے اہل وطن ملک میں اس وقت ایک امپورٹڈ اگر کی بھی گونج ہے۔ یہ اگر چونکہ درآمد شدہ ہے اس لئے اس کی شان بھی نرالی ہے۔ یہ اگر سرکاری اور منتخب لوگوں کے اگرکی طرح عوام کے تعاون کا محتاج نہیں ہے۔ یہ تو اپنی ہی قوت پر گرجتا برستا ہے۔ مثلاً:
اگر اس انقلاب کو روکنے کی کوشش کی گئی تو حکمرانوں کے محلات میں دمادم مست قلندر ہو گا۔ اگر کوئی پولیس والا آپ کو پکڑے تو آپ مل کر اس کے گھر میں گھس جاؤ۔ اگر کوئی ایک تھپڑ مارے تو آپ اس کا منہ سجا دو۔ اگر کوئی سوال کرنے کی کوشش کرے تو اسے کو شہید کر دو۔ دیکھی آپ نے اگر کی سج دھج۔
لیکن یہ اگر عوام کی زبان پر آ جائے تو کسی لاوارث کی طرح اس کا بھی کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ مثلاً میں نے سوچا:
اگر یہ لیڈر اپنی توانائیاں نعرے لگانے ، لوگوں کو جمع کرنے ، جلوس اور ریلیاں نکالنے کی بجائے کام کرنے پر صرف کرتے تو شاید ملک کا بھلا ہو جاتا۔
اگر وہ ہزاروں لاکھوں لیٹر پیٹرول جو گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں اور ٹرکوں و بسوں وغیرہ میں لانگ مارچ یا انقلاب مارچ کے لئے پھونک دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔ اگر اس سے بجلی گھر چلائے جاتے تو شاید کسی شہر کے غریب گھروں میں چند گھنٹے اضافی بجلی فراہم ہو سکتی۔
اگر یہ بلند اسٹیج بنانے ، اجتماع کرنے ، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے صرف ہونے والے وسائل شمالی وزیرستان سے بے آباد ہونے والے بے بس اور مجبور پناہ گزینوں کو سہولتیں فراہم کرنے پر صرف ہوتے تو شاید چند سو یا چند ہزار لوگوں کو بروقت کھانا اور پہننے کے لئے مناسب کپڑے میسر آ جاتے۔
اور اگر وہ وسائل جو سیاستدان اپنی شان و شوکت پر صرف کرتے ہیں عوام کی رہنمائی کے لئے عوام سے ’’ تحفظ ‘‘ کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔
اگر وہ دولت جو بیرون ملک دوروں ، عالیشان ہوٹلوں اور شاندار گاڑیوں پر صرف کی جاتی ہے۔
اگر وہ کثیر رقوم جو وزیراعظم سے لے کر ثقہ علمائے کرام کو سعودی عرب لے جانے اور انہیں اللہ اللہ کرنے پر خرچ ہوتی ہیں۔
اگر ایک مشکل حالت میں گھری قوم کے مفلس لوگوں کو میسر آتی تو شاید بہتری کی طرف چھوٹا سا ہی سہی ۔۔۔۔۔۔ مگر ایک قدم تو اٹھایا جا سکتا تھا۔
اگر کے اس کے علاوہ بھی کئی مصرف ہیں اور یہ بہت سی خواہشوں کا قفل ہے۔ اس کو اگر کھول لیا جائے تو ایسی جنت نظیر دنیا سامنے آئے کہ آنکھیں حیرت سے پھیل جائیں۔ مثلاً:
اگر لیڈر نفرتیں نہ پھیلائیں اور معصوموں کے قتل پر نہ اکسائیں
اگر دین کے محافظ انسانوں کی حفاظت کے ذمے دار ہو جائیں
اگر لوگوں کی پہچان عقیدے ، مسلک ، نسل ، رنگ اور ذات سے کرنے کی بجائے ان کی صلاحیتوں سے انہیں جانا جائے۔
اگر خوشیاں بانٹ لی جائیں
اگر غم تقسیم کر لئے جائیں
اگر سب مل جائیں
اگر عزت و احترام عام ہو جائے
اگر اسکول آباد اور درسگاہیں پررونق ہوں
اگر گلیاں صاف اور گھر زندہ انسانوں کا مسکن ہوں
اگر کدورتیں ختم ہو جائیں
اگر سازشیں نہ ہوں
اگر دشمنیاں فروغ نہ پائیں
اگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر
یہ بے ضرر اور بے بس اگر ہیں۔
یہ عوام کے اگر ہیں جو کسی تجوری پر لگے قفل کی مانند ہیں۔ نہ قفل کھلے گا نہ خواہشوں کی پری باہر نکلے گی۔
اس قفل کی چابی گم ہے
اسے تلاش کرنے کو کوئی راضی نہیں ہے۔