ناراض سورج

وہ سارے جب مل کر اسے ہلاک کر چکے تو انہوں نے اس کے مردہ جسم کے ٹکڑے کئے۔ غصہ کم کرنے کے لئے وہ اس کی تکہ بوٹی کرنے سے بھرپور لطف اندوز ہو رہے تھے۔

مگر یہ لذت بھرے لمحات بھی خوشی کی گھڑیوں کی طرح بہت جلد بیت گئے۔ ایک مردہ انسان کی بوٹیاں کرنے میں آخر دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ خاص طور سے جبکہ ہجوم بڑا ہو، مشتعل ہو اور چھریوں گنڈاسوں سے لیس بھی۔

بالآخر اس مقدس عمل سے فارغ ہو کر وہ سب گوشت کے اس ڈھیر کے گرد گول دائرے میں بیٹھ گئے اور غور شروع ہؤا کہ اب اس مردہ گوشت کے پارچوں کا کیا کیا جائے۔

جو لوگ مارنے اور ٹکڑے کرنے کے عمل میں ایک جان تھے ، اب اچانک انہیں پتہ چلا کہ اصل مسئلہ تو اب شروع ہؤا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے نے رائے دینی شروع کی اور یکے بعد دیگرے یہ سارے مشورے مسترد ہوتے رہے۔

کوئی شخص ایک ایسے شخص کے مردہ جسم کے ٹکڑوں کو احترام نہیں دینا چاہتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر اس کی مسخ شد لاش کو دفن کر دیا گیا تو کچھ عرصہ کے بعد ہی سہی اس کا کوئی نہ کوئی خفیہ حامی لوگوں کو یہ کہانی مرچ مصالحہ لگا کر سنائے گا اور اس طرح جس فتنے کو آج انہوں نے نیست و نابود کر دیا ہے ، وہ پھر سر اٹھانے لگے گا۔

ان لوگوں کا مسئلہ یہ تھا کہ اس اصول پر متفق ہونے کے باوجود یہ کسی ایک شخص کی قیادت پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ ہر شخص خود ہی اصول بناتا اور ان پر عمل کرواتا تھا۔ اس طرح گو کہ انارکی کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی لیکن وہ خوش تھے کہ انہیں آزادی میسر ہے۔

تاہم اب یہ ایک ایسا مسئلہ آن پڑا تھا جس کا کوئی مناسب حل تلاش کرنا بے حد ضروری تھا۔

کسی نے کہا کہ ان کے محلے کا بزرگ دانا ہے ، اس سے مشورہ کر لیتے ہیں۔ دوسرے نے اپنے گروہ کے لیڈر کو اس بحران کو ختم کرنے کے لئے ثالث مقرر کرنا چاہا۔ بالآخر اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ پانچ بڑوں کا ایک جرگہ فیصلہ کرے گا کہ قوم کو اس عذاب سے کیوں کر نجات دلائی جائے۔

ان پانچوں نے تین رات اور تین دن تک مغز پچی کی اور آخر کار وہ ایک نتیجے پر پہنچے۔ طے ہؤا کہ اس مردار کی بوٹیوں کو بستی کے ہر سو مختلف کونوں میں علیحدہ علیحدہ دبا دیا جائے اور باقیات کو سمندر برد کر دیا جائے۔ سب کا خیال تھا کہ اس طرح اس منحوس کی یادگار ہر طرح سے قوم کے حافظہ سے محو ہو جائے گی۔
سب نے اثبات میں سر ہلایا اور پنچوں کے فیصلہ پر عمل کا آغاز ہو گیا۔

یہ بستی کچھ عرصہ سے ایک عجیب طرح کی مشکل میں گرفتار تھی۔

اس بستی میں رہنے والی موجودہ نسل کو تو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ سب کیسے شروع ہؤا۔ اس نسل کے ہر فرد کو البتہ یہ پتہ تھا کہ انہوں نے ہوش سنبھالنے کے بعد سے بستی پر موت اور ہلاکت کے سائے ہی دیکھے تھے۔

بڑے بزرگ بتاتے تھے کہ یہ بستی شاد اور آباد تھی لیکن پھر نہ جانے کیا ہؤا کہ سورج کی گرمی اور چاند کی ٹھنڈک ختم ہو گئی۔ یوں تو سورج طلوع ہوتا۔ آب و تاب سے نصف النہار تک بھی پہنچتا اور فطری عمل کے مطابق شام کو غروب ہو جاتا۔ اور چاند کی چاندنی پھیل جاتی۔

شروع میں تو تبدیلی اتنی قابل توجہ نہ تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سورج کی گرمی میں کمی آتی گئی۔ دن آتا مگر اس میں نہ روشنی ہوتی اور نہ حدت۔ رات آتی تو اندھیرا گہرا ہو جاتا۔ دن اور رات میں صرف یہ فرق تھا کہ دن دھندلکا اور کم اندھیرے والا ہوتا مگر رات گہری اور گھپ ہوتی۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اس تاریک رات میں ستاروں کی روشنی بھی معدوم تھی۔

امید کا کوئی تارہ اس اجڑتی بستی کی تقدیر میں روشنی بھرنے کے لئے موجود نہیں رہا تھا۔

بے حدت دنوں اور گھپ راتوں کا نتیجہ نکلا کہ کھیتوں نے اناج اگلنا بند کر دیا۔ ندیوں کا پانی سوکھنے لگا اور بچے مردہ یا معذور پیدا ہونے لگے۔

جو بستی زندگی سے بھری تھی اور جہاں امید کے ترانے گنگنائے جاتے تھے ، وہاں اب مایوسی کا راج تھا۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ قیادت کے آثار ہیں۔ شاید اسی طرح ان کا خاتمہ ہو جائے گا۔

ہاں ہاں یہ خدا کی مار ہے تم پر۔ ایک مستند مذہبی پیشوا نے ایک روز سب باسیوں کے ایک اجتماع میں گرجدار آواز میں اعلان کیا۔ تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ہے۔

تو اس کا حل کیا ہے۔ ہمیں کوئی راستہ دکھاﺅ۔

وہ بزرگ یہ درخواست سن کر خاموش ہؤا۔ گردن جھکائے، آنکھیں بند کئے استغراق کے عالم میں خاموش گم صم بیٹھا رہا۔ لوگ آس اور امید سے اسے دیکھتے رہے۔

پھر اس نے آنکھیں کھولیں اور بولا

اذانیں دو

بستی کے ہر کونے اور نکڑ پر لوگوں کے گروہ جمع ہو جائیں۔ تین دن تک طلوع اور غروب کے وقت کا اندازہ کر کے بلند آواز میں اذانیں دی جائیں۔ اب روٹھے ہوئے خدا کو منانے کا یہی طریقہ ہے۔

تین دن تک اذانیں دینے کے بعد وہ سب امید و بیم کے عالم میں اس دانا کے پاس پہنچے تو وہ اپنی گدڑی اٹھا کر وہاں سے روپوش ہو چکا تھا۔

سورج اب بھی اس بستی سے ناراض تھا اور چاند تارے بھی ان کی مایوسی دور کرنے پر راضی نہ تھے۔

سب بہت مایوس تھے۔ کمزور دل دھاڑیں مار کر روتے تھے۔ مائیں اپنی کوکھ میں بچوں کا گلا گھونٹنے پر آمادہ تھیں۔

امید کی کوئی کرن نظر نہ آتی تھی۔

پھر ایک بزرگ نے انہیں بتایا۔ اذانیں تو آفت آنے سے پہلے اسے روکنے کے لئے دی جاتی ہیں۔ وہ مفرور نوسر باز تھا۔ تمہیں گمراہ کر کے چلا گیا۔ تم نہیں دیکھتے کہ آفت تو برپا ہو چکی ہے۔

سورج کی گرمی اور روشنی ختم ہے

چاند کی چاندنی اور تاروں کی چمک ماند ہے

زمین اناج پیدا نہیں کرتی

ندیوں میں سے پانی خشک ہو چکا ہے

یہی تو عذاب الٰہی ہے

تم بدبخت قوم ہو۔

اب کیا کریں

ہاں اب کچھ تو کرنا چاہئے۔

یہ تو قیامت بھی نہیں ہے۔

قیامت کو تو صور پھونکا جائے گا۔ پھر جس طرح کن فیکون سے دنیا پیدا ہوئی تھی ........ اسی طرح آناً فاناً ختم بھی ہو جائے گی۔

یہ تو عذاب ہے۔ بے شک یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔

لیکن رب غفور و رحیم ہے۔ ہم ہی نادان ہیں جو راستہ تلاش کرنے میں بھٹک رہے ہیں۔

بزرگ نے کہا کہ اس مرتبہ سات روز تک دن میں 5 مرتبہ تین تین بار اذانیں دی جائیں اور صبح شام بستی کے سب لوگ مل کر نماز استسقا ادا کریں۔

ہو سکتا ہے اللہ کا غضب ٹھنڈا ہو جائے۔

ان سب نے بزرگ کی ہدایت پر بھی عمل کیا۔

سب کو موت سامنے نظر آتی تھی۔ سب زندہ رہنا چاہتے تھے۔

ساتویں روز ساتویں اذان اور آخری نماز استسقا ادا کرنے کے بعد وہ لوگ رحمت کے انتظار میں جمع تھے کہ وہ اجنبی ادھر آ نکلا۔

سب نے اسے دیکھا اور کہا کہ تم یہاں کیسے۔ اس بستی پر تو عذاب طاری ہے۔ یہاں تو بربادی آ رہی ہے۔

اجنبی نے سارا قصہ سنا۔

اذانیں دینے ، نمازیں پڑھنے اور امید لگانے کی ساری باتیں جستہ جستہ اس کو بتا دی گئیں۔

مرتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق بستی کے مرد و زن امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔

اس شخص نے کہا کہ بھئی میں تو کوئی عالم فاضل نہیں۔ میں آخر کیا مدد کر سکتا ہوں۔

سب کا اصرار بڑھا تو وہ بولا:

تم لوگ جھوٹ بولتے ہو اور نفرتیں پالتے ہو۔

کیا؟

ہاں میرا خیال ہے کہ تمہارے مصائب کی یہی وجہ ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ اس سے الجھ پڑے اور اسے جاہل اور گنوار کہہ رہے تھے کہ مجمع میں سے کسی نے ایک پتھر اس شخص کو دے مارا۔

پھر کیا تھا۔ پتھروں کی بارش شروع ہو گئی۔

ان سب نے مل کر سچ بولنے کی تلقین کرنے والے کو مارا ڈالا۔ اور اب اس کے مردہ جسم کی بوٹیوں کو بستی کے ہر کونے میں دبا کر یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ سورج ایک بار پھر روشنی اور حرارت سے ان کی دھرتی کو گرما دے گا۔