چاچے کی بیٹھک

لو جی اب تو سب نے فیصلہ کر لیا۔ طے ہو گیا کہ ہمیں ظلم، زبردستی اور انتہا پسندی کو برداشت نہیں کرنا۔ بلکہ ہر طرح اس کے خلاف سینہ سپر ہونا ہے۔

جی یہ تو بہت ہی اچھا ہے۔ دیکھو نا یہ روز روز کی مارا ماری بھلا کوئی بات ہے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں دھماکہ ہو جاتا ہے۔ کوئی نہ کوئی خود کش بمبار آ دھمکتا ہے اور اپنی جان سے بھی جاتا ہے اور دوسروں کی جان بھی لیتا ہے۔

چاچے کی بیٹھک میں سارے ہی جمع ہوتے تھے۔ نام تو اس مجلس گاہ کا چاچے کی بیٹھک تھا مگر یہ پورے محلے کی چوپال کا کام کرتی تھی۔

چاچا سرکاری نوکری سے ریٹائر ہو کر جزو معطل بن چکا تھا۔ گھر میں بیوی سمیت بال بچے سب ہی اس کی چخ چخ سے تنگ تھے۔ نوکری کے زمانے میں تو چاچا صبح سے شام تک دفتر میں رہتا اور گھر آ کر کھانا کھا کر تھکا ہارا سو جاتا۔ پر جب سے اس کی ریٹائرمنٹ ہوئی تھی اب وہ دفتری بابو کے طور پر سیکھے ہوئے سارے نسخے گھر والوں پر آزماتا تھا۔ ہر شخص کے ہر کام میں اسے کوئی نقص نظر آتا اور اسے درست کرنے کی ہدایت جاری کرتا۔

بالآخر سب نے مل کے مکان کے باہر کی طرف بنے ہوئے ایک کمرے کو چاچا کے لئے مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب کی صلاح اور مشورے سے بڑے بیٹے نے ایک شام ابا جی کو بتایا کہ ان کی سہولت اور آسائش کے لئے سب نے کیا علاج سوچا ہے۔

دیکھیں ابا جی۔ آپ سارا دن گھر میں پڑے پڑے اکیلے بور ہوتے رہتے ہیں۔ ہم نے وہ باہر والا کمرہ آپ کے لئے تیار کروا نے کا سوچا ہے۔ اس کا ایک دروزاہ باہر گلی میں نکلوا دیتے ہیں تا کہ آپ کے دوست احباب آپ کے پاس آ جایا کریں۔ اس طرح اپ کا دل لگا رہا کرے گا۔

” نہ پر وہ کمرہ تو کاٹھ کباڑ سے بھرا ہے“ چاچے نے غراتے ہوئے جواب دیا۔

” کیا اب مجھے بھی پرانے سامان کا حصہ بناکر گھر سے نکالنے کا ارادہ ہے“ ؟

” نہیں ابا جی “  بیٹا منمنایا۔ “ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ہم اس کمرے کو خالی کر کے نیا فرش لگوا کر آپ کے لئے تیار کروا رہے ہیں“۔

” ہونہہ“ چاچا نے منہ بسور لیا مگر کچھ بولا نہیں۔

بیٹا جب اس ہونہہ کو ابا جی کی رضا مندی سمجھ کر جانے لگا تو چاچے نے کراری مگر بے لحاظ آواز میں ہانک لگائی: ” مگر یہ دیکھ لو مکان کی رجسٹری ابھی میرے ہی نام ہے۔ میں تم سب کو بے دخل کر سکتا ہوں“۔

تھوڑے دنوں میں پرانے کمرے کو جھاڑ پونچھ کر نیا کر دیا گیا۔ ایک بستر ، تختہ اور چار چھ کرسیاں اس میں ڈال دی گئیں۔ بیٹوں نے ابا جی کو خوش رکھنے کے لئے ہاکر کو ایک کی بجائے دو اخبار دینے کی ہدایت بھی کر دی۔ اور خاص طور سے گھر کی عورتوں سے کہا گیا کہ ابا جی کو چائے پانی کی تکلیف نہ ہو۔ ورنہ وہ اپنا بستر پھر سے بیچ دالان میں ڈال لیں گے اور سب کا جینا محال ہو جائے گا۔

چاچا اس انتظام سے خوش نہیں تھا مگر اپنی طبیعت اور گھر والوں کی مجبوری کا ادراک اسے بھی تھا۔ ایک صبح وہ کسی کے کہے بغیر خود ہی اس کمرے میں چلا گیا۔ گلی کی طرف نکلا ہؤا نیا دروازہ کھول کر ابھی اخبار کی سرخیاں ہی دیکھ پایا تھا کہ گلی میں گزرتے ہوئے حکیم صاحب السلام  علیکم کہتے ہوئے آ براجمان ہوئے۔

یوں یہ سلسلہ جو بحالت مجبوری شروع ہؤا تھا ........ چاچے اور گھر والوں کے لئے یکساں طور سے اطمینان اور سہولت کا سبب بن گیا۔

شروع میں گھر والے چائے کے ساتھ بسکٹ بھی بھیجتے اور دن بھر میں چائے کے کئی دور چلتے مگر آہستہ آہستہ گھر والوں نے چاچے کی ضروریات کی پرواہ کرنا چھوڑ دی اور چاچا بھی اب گھر والوں کا محتاج نہ رہا تھا۔

صبح سے شام تک ہر طرح کے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ چائے پانی نہ بھی ہو تو بھی گپ شپ لگانے کی جگہ ، پڑھنے کے لئے اخبار اور محلے بھر کی خبریں معلوم کرنے کے لئے چاچے کی بیٹھک گلی کی ایک نکڑ سے دوسری نکڑ تک ہی نہیں ، آگے پیچھے سب گلیوں میں مشہور ہو گئی۔

اسی مقبولیت کو دیکھ کر سامنے والی دکان میں ایک چائے فروش نے اپنا کام شروع کر دیا۔ یوں چاچے کی بیٹھک ہر لحاظ سے خود مختار اکائی کی شکل اختیار کر گئی۔

چاچے نے اندرونی دروازہ مستقل بند کر دیا۔ گھر سے چائے منگوانی چھوڑ دی اور سارا دن اور رات کا بیشتر حصہ اپنے جانے اور انجان مہمانوں کے جھرمٹ میں ہر طرح کی باتیں سننے اور ان کا مزہ لینے میں مصروف رہنے لگا۔ وہ خود ذہین اور وسیع المطالعہ شخص تھا۔ یوں اس کی محفل میں بیٹھنے والے بھی اس کی باتوں کا لطف لیتے اور خوش ہوتے۔

محلے کی بات ہو یا قومی سطح کا کوئی واقعہ ........ چاچے کی بیٹھک میں محفل جم جاتی اور معاملہ کے ہر پہلو پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاتی۔

اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد حکومت نے جو اقدامات کرنے کا اعلان کیا تھا، آج بیٹھک میں اسی پر گفتگو ہو رہی تھی۔ سب رنجیدہ تھے کہ حملہ آوروں نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا بلکہ بعض کے سر بھی قلم کئے۔

سب خوش تھے کہ بالآخر حکومت نے اب کچھ کرنے کا عزم کیا ہے۔

یہ سب تو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا۔

ہاں جو یہ فوجی عدالتوں کے خلاف بات کرتے ہیں اس کی ہمیں تو سمجھ نہیں آئی۔

یہ سب سیاست ہے۔ بھئی عام شہریوں کو تو امن چاہئے۔ یہ روز روز کی قتل و غارتگری سے تو سب تنگ آ گئے ہیں۔

یار اصل میں سب کام فوج نے ہی کرنا ہے۔ ہمارے سیاستدان کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

مگر یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ اس طرح ہم ان سے جوابدہی کر سکتے ہیں۔

سب کہنے کی باتیں ۔

بیٹھک میں بیٹھے سب لوگ اس جمہوریت نواز کی معصومیت پر ہنسنے لگے۔

اتنے میں ساتھ والے ڈاکٹر نے جو دراصل عطائی تھا اندر جھانکتے ہوئے کہا: ” آپ یہاں گپیں ہانک رہے ہو، وہاں مسجد سے اعلان ہو رہا ہے۔“

کیا ہؤا۔ کسی کا انتقال ہو گیا۔

نہیں ۔ چلو سنو ۔ دیکھو

ایک ایک کر کے سارے لوگ گھروں، بیٹھکوں اور دکانوں سے مسجد کی طرف جمع ہونے لگے۔ مسجد کے لاﺅڈ اسپیکر پر مولوی صاحب جوش سے سب کو للکار رہے تھے:

” یہ ہماری دینی غیرت کا معاملہ ہے

ہم اپنے محلے میں اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔

یہ لوگ ہمارے دین کا مذاق اڑا کر ہمارے درمیان دندناتے پھرتے ہیں۔

کیا آپ کو شرم نہیں آتی“

آتی ہے

آتی ہے

پھر ایک کثیر گروہ محلے کی گلیوں میں پھیل گیا

کہیں آگ لگی اور کہیں سے آہ اٹھی

کوئی زخمی ہؤا تو کوئی جان سے گیا

رات تک پولیس نے رینجرز کی مدد سے صورتحال پر قابو پایا۔

صبح کو نماز کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئے ایک سفید ریش بزرگ نے ساتھ چلنے والے شیخ صاحب سے کہا: ” بہت برا ہؤا۔ سارے محلے میں بے چینی ہے“

چلو چاچے کی بیٹھک پر چلتے ہیں۔ وہاں حالات کا پتہ چلے گا۔

گلی کے دونوں طرف سے آنے والوں لوگوں نے دیکھا چاچے کی بیٹھک اور گھر ملبے کا ڈھیر بنا ہؤا تھا۔

مکان میں لگی آگ کے شعلے ابھی پوری طرح مدھم نہیں ہوئے تھے۔

تحریر: سید مجاہد علی