500 میٹر کی مسافت
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 15 / جنوری / 2015
- 6234
میرے سفر کا یہ حصہ کسی غیر معمولی دنیا کا سفر نہیں تھا۔
یہ اس ملک کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا معمول ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں اس معمول کا حصہ نہیں رہا ہوں۔
اب کہ مجھے اس مسافت سے واسطہ پڑا تو دیدہ حیران ہے کہ کیا دیکھے اور کیا نظرانداز کرے۔ کس منظر پر خوفزدہ ہو جائے اور کہاں آنکھ بند کر کے تجسس کے مارے دوبارہ کھول لی جائے۔
یہ 20 کروڑ کا ملک ان 500 میٹر کی مسافت میں اپنی مکمل پہچان کروا سکتا ہے۔ نصف کلومیٹر کا یہ سفر اپنے آپ میں ایک دنیا ہے۔ ایک آئینہ ہے۔ ایک تصویر ہے۔
یوں کہیے کہ ان پانچ سو میٹر میں ابھرنے اور پس منظر میں گم ہو جانے والا ہر کردار ایک ایسی کہانی کو مکمل کر رہا ہے جو اس بدنصیب قوم کے 67 برس کی زندگی اور آج کے روز و شب کا فسانہ بیان کر تی ہے۔
مگر نہ تو کسی کے پاس اس آئینے میں عکس دیکھنے کا وقت ہے اور نہ کوئی اس مختصر یا طویل اسٹیج پر پیش کئے جانے والے مناظر سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ یوں بھی غیر معمولی ہے کہ کسی کو احساس ہی نہیں کہ وہ ایک ایسی داستان کا حصہ بن رہا ہے جو ان سب خبروں ، بیانات ، مباحث اور جوڑ توڑ کی کلید ہے جو اخباروں ، ٹاک شوز اور پارلیمنٹ کے ایوانوں کے علاوہ بند کمروں کے پرتعیش ماحول میں زیر بحث آتے ہیں۔
یہ ابھی میں جہاں سے گزرا ہوں وہاں ایک سوزوکی ویگن سے جو اندر باہر بندر نما انسانوں سے بھری ہوئی تھی ، اچانک ایک بارہ تیرہ برس کا لڑکا لڑھکتا ہؤا سڑک پر گرا۔
نہ ویگن کی رفتار میں کمی ہوئی اور نہ زندگی کے معمول میں فرق آیا۔
نہ انسانوں کے ہجوم میں گھٹی آوازوں کا شور ڈرائیور تک پہنچ پایا۔
میں نے گردن گھما کر دیکھا تو جائے حادثہ پر لوگوں کا ہجوم جمع تھا اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
کیا کوئی ایمبولینس آئے گی
” کس لئے جی “ میرے ڈرائیور نے نہایت سکون سے جواب دیا
” وہ ابھی ایک بچہ ایک ویگن سے گر گیا ہے۔ نجانے اسے کتنی چوٹ لگی ہو گی“
نہ جی۔ یہاں تو دور دور تک کوئی اسپتال نہیں ہے۔ اس ٹریفک میں ایمبولینس کہاں آئے گی۔ یہ لڑکا ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔ چنگا بھلا۔
مگر وہ چلتی ویگن سے گرا ہے۔ اسے بہت چوٹ لگی ہو گی۔ کوئی فریکچر ہو گیا ہو گا۔ ورنہ ٹیٹنس کے انجکشن تو لگنے ہی چاہئیں۔
ہلکی سی ہنسی سے ہماری جھوٹی سی گاڑی کا پرسکون ماحول مرتعش ہؤا۔
ڈرائیور نے پہلے جیسے سکون سے جواب دیا کہ نہ جی یہ بہن .... اتنی جلدی کہاں مرتے ہیں۔ سالے ڈھیٹ ہیں۔ یہ روز گرتے اور پھر اگلے ہی لمحے نئی ویگن میں سوار کو اپنی کارستانی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
کارستانی ؟ ............
ابھی میرا سوال میرے منہ میں ہی تھا کہ ڈرائیور نے گاڑی کو یوں جھٹکے سے غچہ دیا کہ میں کار کی نشست پر ایک طرف سے لڑھک کر دوسری طرف ہو گیا۔
ایک گرانڈیل ٹرالر شور مچاتا ، گرد اڑاتا زن سے ہماری گاڑی کے پاس سے گزر گیا۔
ڈرائیور کی مغلظات اس بے ہنگم شور میں دب کر رہ گئیں۔ ابھی ہماری گاڑی پوری طرح سڑک پر پہیے جما نہ پائی تھی کہ دیسی ساخت کا موٹر سائیکل سے کھینچا جانے والے چھکڑا ........ جسے یہاں سب چنگ چی کہتے ہیں........ جو دس بارہ مسافروں سے بھرا ہؤا تھا ، پوری رفتار سے ٹویوٹا کار کو اوور ٹیک کرتا سامنے جانے والی بس کی اوٹ میں ہو گیا۔
ڈرائیور کے پاس اس چھکڑا نما سواری چلانے والے کو کوسنے کا وقت نہیں تھا، کیونکہ ایک طرف سے ایک جدید ماڈل کی ٹویوٹا ۔ پیٹرول اور دوسری جانب سے سوزوکی کار تیز رفتاری کا مقابلہ کرتے ہوئے باقی سب کو مات دینے کی کوشش میں غراتی اور دھؤاں اڑاتی منظر کو دھندلا اور سڑک کو ناقابل سواری بنا رہی تھیں۔
مگر ٹریفک رواں تھا۔
” تم کو جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ تم اطمینان سے چلاﺅ“ میں نے ڈرائیور کو مشورہ دیا۔
” یہاں دوسروں کا خیال کرنے والوں کو کوئی راستہ نہیں دیتا جی“
یہ کہتے ہوئے میرے ڈرائیور نے سڑک کے ساتھ کچے راستے پر گاڑی کو ڈالا ، رفتار بڑھائی اور پورے جوش سے گرد اڑاتا چھوٹی کار اور ایک بس کے درمیان سے ایک بازی گر کی طرح یوں گزر گیا جیسے سرکس میں بچوں کی تالیوں میں فنکار تنے ہوئے رسے پر چلتے ہیں۔
بس فرق صرف یہ تھا کہ یہاں تالیاں بجانے والا کوئی نہ تھا اور میرا دل اچھل کر حلق میں اٹکا ہؤا تھا۔
” یہ تو زندگی کو داﺅ پر لگانے والی بات ہے “ میں نے ایک بار پھر ممیاتے ہوئے ڈرائیور کو رحم طلب نگاہوں سے دیکھا۔ یہ گزارش بھی جواب طلب ہی رہی۔ کیونکہ ڈرائیور نے پورے زور سے بریک لگا کر گاڑی روکی۔ سامنے سے ایک گدھا گاڑی اطمینان سے سڑک کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کی طرف محوِ سفر تھی۔
گاڑی نے پھر سے رفتار پکڑنے کی سعی کی کہ بھینسوں کا ایک ریوڑ اپنے مالک کی تلاش میں حیران و پریشان ساری ٹریفک کو روکے اٹھکیلیاں کرتا نظر آیا۔
کئی ڈرائیوروں نے کھڑکیوں سے گردنیں نکال کر دیدہ و نادیدہ گوالوں کا شجرہ نصب بیان کرنا شروع کیا ہی تھا کہ دو تین لڑکے بالے ریوڑ کو ہنکاتے سائیڈ پر کرنے کی کوشش کرنے لگے۔
منتظر کاریں ، بسیں ، موٹر سائیکل ، ریڑھے اور ہمہ قسم کی سواریاں ابھی رفتار پکڑنے کی تیاری کررہی تھیں کہ پیچھے سے آتی ہوئی ایک بس زن سے ریوڑ کی چھوڑی ہوئی تھوڑی سی جگہ سے چیختی چنگھاڑتی گزر گئی۔
ابھی اس کی دہشت دل سے کم نہ ہوئی تھی کہ پہلی بس سے قبل اگلے اڈے تک پہنچنے کی کوشش میں ایک اور بس سب کو پرے دھکیلتی مدمقابل کو للکارتی آگے بڑھتی دکھائی دی۔
دو بسوں کے مقابلے ، بھینسوں کی سراسمیگی اور ڈرائیوروں کی جلدی میں ایک بزرگ سائیکل سوار نے اپنا راستہ نکالا اور نجانے وہ کون سی گلی سے نکل کر کس گلی میں جانے کے لئے پیڈل مار رہا تھا کہ ایک بھاری چیز زور سے آ کر سائیکل سے ٹکرائی۔
یہ بھاری چیز ایک ٹرنک تھا جو ابھی گزرنے والی بس کی چھت سے گرا تھا اور سیدھا بزرگ کی سائیکل کے کیرئر سے ٹکرایا۔ نتیجے میں بزرگ سڑک کے بیچ ، ایک طرف سائیکل اور دوسری طرف ٹرنک تھا۔
ٹریفک پھر رک چکا تھا۔
کوئی بوڑھے کو اٹھا رہا تھا کوئی اسے گالی دے رہا تھا۔
ہمارا سفر ابھی جاری تھا۔
بالکل اسی طرح جس طرح اس ملک اور اس کے 20 کروڑ باشندوں کا سفر جاری ہے۔
نہ کوئی اصول ، نہ کوئی رہنما
نہ کوئی راستہ دکھانے والا اور نہ کوئی روکنے اور سمجھانے والا
سب جلدی میں اور سب کو آگے جانے کی جلدی مگر سب کی منزل گم ........
تحریر: سید مجاہد علی