بے چارے الطاف بھائی
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 01 / فروری / 2015
- 6218
یوں تو الطاف حسین عرف الطاف بھائی بہت بااختیار ہیں۔
کراچی اور حیدر آباد کے ڈیڑھ دو کروڑ لوگوں پر ان کا حکم چلتا ہے۔
ان کے جانثار پلک جھپکتے شہر بند کروا سکتے ہیں، وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیرائو کر سکتے ہیں اور کسی بھی ادارے یا تاجر برادری کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔
ان کی اجازت کے بغیر کراچی میں پتا نہیں ہل سکتا۔ اگرچہ ابھی انہوں نے باقاعدہ اجازت نامے جاری کرنے کا سلسلہ شروع نہیں کیا لیکن عملی صورت حال یہی ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف ہو یا مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام، پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا کوئی دوسرا سیاسی و مذہبی گروہ، کراچی میں جلسہ جلوس نکالنے کے لئے ڈی سی او کے پرمٹ کو تو نظرانداز کرنا ممکن ہے لیکن نائن زیرو کے اشارے کے بغیر اس قسم کا اجتماع ممکن نہیں ہے۔
2007 میں سابق چیف جسٹس اور تب معطل چیف جسٹس نے ملک بھر میں اپنی عوامی مہم کی شاندار کامیابی کے زعم میں کراچی فتح کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بس ان سے یہ چوک ہو گئی کہ انہوں نے نائن زیرو سے اجازت نامہ لینے کی بجائے یہ تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا کہ الطاف بھائی بوجوہ سابق مردِآہن پرویز مشرف کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔
اسی لئے چیف جسٹس اور ان کے ہمراہیوں کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ ضرور کر گیا لیکن اس قافلے کو ایئرپورٹ سے نکلنے کی توفیق نہیں ہوئی۔
کنٹینر لگے یا بندوق بردار باہر نکل آئے، عوام نے مسترد کر دیا یا غیبی فرشتے کراچی کی سڑکوں پر قابض ہو گئے۔ لیکن ملک بھر کی تمام سیاسی پارٹیاں اور خود سر وکیلوں کی طاقتور تنظیمیں اپنے ممدوح کو ایئرپورٹ سے باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہوئیں۔ یوں یہ شام درجنوں لاشوں کا تحفہ دے کر اپنے انجام کو پہنچی۔
کون یہ کہہ سکتا ہے کہ الطاف بھائی اس قتل و غارت گری کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا گزشتہ تیس برس کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔ ان کے ہاتھ صاف اور زبان شفاف ہے۔
جب وہ گنگا جمنی زبان میں اظہار بیان کرتے ہیں تو ایسے جاہل جو اردوکی بلاغت اور لطافت سے بے بہرہ ہیں، الطاف بھائی کے علامتی خطاب کو بسااوقات دھمکی اور تشدد پر اکسانے جیسے الزامات پر محمول کرتے ہیں۔ کبھی وہ تین تلواروں پر لگے اقوال قائد کے حوالے کو شمشیرزنی سمجھ بیٹھتے ہیں اور کبھی بوری کا تحفہ دینے کی بات کو مارنے کی دھمکی قرار دیتے ہیں۔ لیکن آفرین ہے الطاف بھائی کے صبر اور حوصلے پر کہ وہ کبھی دل میلا نہیں کرتے اور اپنے کارکنوں اور پاکستانی عوام کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔
بالآخر مخالفین کو ہی اپنی کم علمی اور بے عقلی کا اعتراف کرتے ہوئے الطاف بھائی کی دیانت، شرافت اور نجابت پر ایمان لانا پڑتا ہے اور وہ عمران خان ہوں کہ زرداری حقیقت حال سامنے آنے پر انہیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ الطاف بھائی ہی درست کہتے ہیں۔
الطاف بھائی کبھی غلطی نہیں کرتے۔ اسی لئے ان کے پرجوش کارکن کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ جو انہیں دغا دینا چاہتے ہیں، وہ قدرت کے ہاتھوں خود ہی ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
الطاف بھائی عام کارکن کو طاقتور بناتے ہیں۔ اسے اسمبلی کا رکن یا اعلیٰ قومی مقام عطا کرتے ہیں لیکن انہیں بدستور خاک نشین رکھنے کیلئے ہر دوسرے تیسرے دن فرش پر بیٹھ کر کئی کئی گھنٹے کا لیکچر سننے پر مجبور کرتے ہیں۔
اس تربیت کے باوجود بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ خود اپنی حیثیت میں بھی کوئی اہمیت یا مقام رکھتے ہیں۔ اس کا علاج کرنے کے لئے الطاف بھائی اکثر و بیشتر رابطہ کمیٹی کے اراکین کی گوشمالی کرتے رہتے ہیں۔ کارکنوں کے ہاتھوں انہیں ان کی حیثیت یاد دلانے کے علاوہ کان سے پکڑ کر گوشہ گمنامی یا گوشہ عبرت کے سپرد بھی کرتے رہتے ہیں۔
مجال ہے جو کوئی الطاف بھائی کے کارکنوں اور نمائندوں کے طرز عمل، کردار، گفتگو یا ارشادات کے بارے میں انگلی اٹھانے کی جرات بھی کرے۔ لیکن ضرورت پڑنے پر الطاف بھائی ساری قوم کے سامنے اپنے نائبین کے کپڑے اتارنے اور انہیں خوار کرنے میں بھی دیر نہیں کرتے۔
پوری قوم کا استعارہ ان معنوں میں استعمال ہؤا ہے کہ الطاف بھائی جب لندن میں اپنے عافیت کدہ سے ٹیلی فون پر خطاب فرماتے ہیں تو ملک بھرکے کسی چینل کا یہ حوصلہ نہیں ہوتا کہ وہ اسے نشر کرنے سے گریز کرے۔
الطاف بھائی وہ واحد قومی لیڈر ہیں جن کے انٹرویو دینے کا اسٹائل بھی مجمع سے خطاب سے ملتا جلتا ہے۔ اسٹوڈیو میں بیٹھے جغادری اینکر اور دھانسو صحافی بھی نہایت تابعداری سے دست بستہ انتظار کرتے ہیں کہ الطاف بھائی جواب مکمل کریں تو وہ کچھ عرض کریں۔
انتظار کرنا دوسروں کا مقدر ہے۔ الطاف بھائی کے لئے کبھی کوئی سگنل بند نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ناتجربہ کار اور ناعاقبت اندیش ٹیلی فون گفتگو کے دوران کسی وجہ سے انہیں انتظار کی درخواست کرے تو وہ چینل یک بیک ملک دشمن اور عوام دشمن قرار پاتا ہے اور اس کی نشریات اور دفاتر کارکنوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
الطاف بھائی فوج کے زبردست حامی ہیں لیکن جب وہ محسوس کریں تب ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو ملک کے تمام مسائل کی جڑ بھی قرار دیتے ہیں یا متحدہ قومی موومنٹ کا دشمن بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن جلد ہی انہیں احساس ہو جاتا ہے تو وہ فوج کو مارش لاء لگانے کی دعوت دے کر خیرخواہوں کی فہرست میں اپنا مقام بلند اور نام نمایاں بھی کر لیتے ہیں۔
بدخصلت اور بدگمان مخالفین موقع محل کی مناسبت سے الطاف بھائی کے بدلتے ہوئے بیانات کا آپس میں موازنہ کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ الطاف بھائی اپنی بات پر قائم نہیں رہتے۔
لیکن یہ طرز عمل خالصتاً بدنیتی یا کند ذہنی پر مبنی ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ خرمغز نہیں جانتے کہ سیاست متحرک ہوتی ہے جامد نہیں۔ اس میں لفظ، بیان، وعدہ یا اعلان صرف لمحہ موجود کی حقیقت ہوتی ہے۔ وہ لمحہ گزرنے کے بعد نئے حالات کے مطابق نیا مؤقف لانا ہی سیاست ہے۔ جو زمانے کے تیور نہیں پہچانتے وہ بھلا قوم کی کیا قیادت کریں گے۔
یہ ہمارے الطاف بھائی البتہ اتنے مجبور اور بے بس ہیں کہ سالہا سال کی خواہش اور کوشش کے باوجود وہ ایم کیو ایم سے علیحدہ ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے کئی بار مختلف ہتھکنڈوں سے کارکنوں کو سمجھانے، بہلانے اور بتانے کی کوشش کی ہے کہ اب وہ بڑے ہو گئے ہیں، الطاف بھائی کی انگلی چھوڑ دیں۔
مگر ان نادانوں کو کون سمجھائے کہ وہ ہربار الطاف بھائی کے پاؤں سے لپٹ جاتے ہیں۔ رونے چلانے لگتے ہیں۔ دھاڑیں مار کر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ آخر کون سنگدل ہو گا جو اس آہ و زاری پر پسیج نہ جائے۔
داد ہے الطاف بھائی کی کہ وہ پھر بھی ہمت نہیں ہارتے۔
ٹھیک ہے ابھی تو وہ مان گئے ہیں مگر کبھی تو الطاف بھائی کا داؤ بھی چلے گا۔ پھر دیکھتے ہیں یہ کارکن کیا کریں گے۔
فی الوقت تو یہی کہا جا سکتا ہے! بے چارے الطاف بھائی۔
تحریر: سید مجاہد علی