مینڈکوں کی سبھا
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 05 / مارچ / 2015
- 7207
یوں تو عام طور سے بستی کے لوگ ان مینڈکوں کی ٹرٹر سے تنگ آ کر بڑبڑاتے اور توجہ کسی اور طرف مبذول کرنے کی کوشش کرتے تاکہ فضول شور و غل کو نظر انداز کر کے وہ اپنے کام سر انجام دے سکیں۔
لیکن آج مینڈک ہی ایک دوسرے پر لغویات بکنے ، بے مقصد شور مچانے اور ٹرٹر کرنے کے الزامات دھر رہے تھے۔
آج ان سب نے طے کیا تھا کہ وہ اسی کنؤیں میں جمع ہوں گے جہاں سے نکل کر وہ آہستہ آہستہ بستی کے تمام کونوں میں پھیل گئے تھے۔ یوں کنؤاں تو پرسکون رہتا مگر بستی کے گلی کوچے ان مینڈکوں کی بے ہنگم چیخ و پکار سے گونجتے رہتے اور اس کے باشندے کانوں میں انگلیاں دیتے۔ کبھی مینڈکوں کو برا بھلا کہتے اور کبھی خود کو کوستے کہ کس عذاب میں پھنس گئے۔
بستی کے نوجوان اکثر بڑے بوڑھوں سے سنتے کہ بھلے دن تھے جب مینڈک کنؤیں میں منہ چھپائے اس کی نمی اور اندھیرے میں گم رہتے تھے۔ تب وہ نہ کنؤیں سے باہر نکلنے کی جرات کرتے اور نہ ہی انسانوں کا سامنا یوں دیدہ دلیری سے کرتے تھے کہ ہر گندے جوہڑ ، کونے کھدروں میں جمع کیچڑ یا نالیوں اور غلیظ پانی میں منہ مارتے ، شور مچاتے بستی کے باسیوں کا جینا حرام کرتے۔
اب تو یہ حالت تھی کہ کوئی گلی ، نکڑ حتیٰ کہ کسی مکان کا کوئی کونا بھی ان مینڈکوں کے بے مقصد شور سے محفوظ نہ تھا۔ لوگ اس دراندازی سے بہت عاجز تھے لیکن ان سے نجات حاصل کرنے کا کوئی طریقہ بھی ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا۔ ماہرین کہتے کہ یہ کوئی کیڑے مکوڑے تو ہیں نہیں کہ کسی زہریلے اسپرے سے ان کا صفایا کر دیا جائے۔ پھر بستی کے سیانے یہ بھی سوال اٹھاتے کہ معصوم سی مخلوق سے گھبرانے کی آخر بات ہی کیا ہے۔ ذرا شور ہی تو مچاتے ہیں۔ بھلا اس کی وجہ سے ان کا گلا تو نہیں گھونٹا جا سکتا۔
بعض سر پھروں نے اگر ان مینڈکوں کو پکڑنے ، کچلنے یا مسلنے کی کوشش کی تو اس پرامن بستی میں اتنا ہنگامہ کھڑا ہؤا کہ ان مٹھی بھر لوگوں کو اپنا دفاع کرنا مشکل ہو گیا۔ یوں بھی کسی بھی شخص کا دل نہیں مانتا تھا کہ وہ چار ٹانگوں پر رینگنے والی اس بے ہنگم مخلوق کو عاجز کریں۔
آخر شرافت بھی کوئی چیز ہے
یہ تو جانور ہیں مگر ہم تو انسان ہیں
انہیں مارنے سے ہمیں کیا حاصل ہو گا
جب یہ مسئلہ عروج پر تھا تو بستی کے چند انقلابیوں نے انجمن برائے تحفظ مینڈک کا اجرا بھی کر دیا اور چند زور دار جلسوں اور مظاہروں کے ذریعے یہ واضح کر دیا تھا کہ دنیا کی ساری دوسری مخلوقوں کی طرح مینڈکوں کو بھی اپنی جدی پشتی پناہ گاہوں سے نکل کر تازہ ہوا میں سانس لینے اور نئی دنیا دیکھنے کا حق حاصل ہے۔
اس پر کسی نے پھبتی کسی کہ اگر انہیں دنیا کے سیر سپاٹے کا اتنا ہی شوق ہے تو اپنے طور طریقے بھی بدل لیں۔ کنویں سے نکلے ہیں تو ٹرٹرانا بند کریں اور نئی فضا کے مطابق کچھ سلیقہ اختیار کریں۔
انجمن تحفظ مینڈک کے نمائندے اس پھبتی پر بھناتے ضرورمگر طعنہ زنوں کو منہ توڑ جواب دیتے۔ اور واضح کرتے کہ ہر مخلوق اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے۔ اگر انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود جبلی حیوانیت کو ختم کرنے میں ناکام ہے تو یہ معصوم تو صرف جانور ہیں۔
ایک ایسے ہی مناظرے میں مینڈکوں کے حقوق کے ایک پرجوش حامی نے یہ سوال بھی جڑ دیا کہ ٹرٹر کرنا کس قانون قاعدے کے تحت غلط اور قابل تعزیر ہے۔ بلکہ یہ اس ننھے منے جانور کی ایک ایسی خوبی ہے جو انسانوں کے لئے باعث تقلید ہو سکتی ہے۔
باعث تقلید ؟ بہت لوگوں نے حیرت سے پوچھا
” گویا ہم جو زمین کی تہہ اور ہوا کی پرتوں میں نئے جہانوں کا سراغ لگانے میں کامیاب ہیں ، اس حقیر مخلوق سے سبق حاصل کریں۔ یہ ہمیں آخر سکھا ہی کیا سکتے ہیں“۔
” ہم ان سے سیکھ سکتے ہیں کہ اپنی عقل ، طاقت اور صلاحیتوں کو دوسروں کو کچلنے اور تباہ کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے ، زبان سے اپنے گلے شکوے بیان کریں۔ مدعا الفاظ میں بیان کریں۔ جو اس سے متفق نہ ہو ، وہ جوابی بیان جاری کرے۔ اس طرح یہ دنیا کتنی مطمئن اور پرسکون ہو سکتی ہے”۔
مخالفین نے ٹھٹھا مارا مگر ان کی ایک نہ چلی۔ تحفظ مینڈکاں کی تحریک نے اتنا زور پکڑا کہ شاعروں نے ان کے قصیدے لکھنے اور کاروباری حضرات نے مینڈک کی شکل صورت کی چیزیں بنا کر اور فروخت کر کے دولت پیدا کرنا شروع کر دی۔ یوں انجمن تحفظ مینڈک کو درپردہ کثیر مالی وسائل بھی ملنے شروع ہو گئے اور اس تحریک کو قومی مقصد کا رتبہ بھی حاصل ہو گیا۔
یہ ساری باتیں اس وقت کی ہیں جب وہ نسل جوان تھی ، جنہوں نے بستی کے گلی کوچوں میں مینڈکوں کی یلغار نہیں دیکھی تھی۔ آج کی نسل کو یہ سب معمول کا حصہ لگتا۔ ان میں سے بہت سے تو ٹرٹر کے شور سے عاجز آنے کی بجائے اس کے صوتی آہنگ پر مشتمل ماڈرن موسیقی سے لطف اندوز ہوتے۔ یوں مینڈکوں کی مارکیٹ ویلیو اور سماجی حیثیت میں بے بہا اضافہ ہو چکا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ اب مینڈکوں کو اپنے تحفظ کے لئے کسی انجمن یا پرجوش کارکنوں کی ضرورت نہیں تھی۔ انسانوں کی پوری نسل ان کے خصائص کی یوں دیوانی ہوئی تھی کہ وہ اپنی خوبیوں کو فراموش کرنے لگی تھی۔
پھر بھی آج اس کنؤیں پر مینڈکوں کی سبھا منعقد ہو رہی تھی۔ بستی کی ہر گلی اور جوہڑ سے مینڈک یا ان کے نمائندے جوق در جوق اس اجلاس میں شرکت کے لئے آ رہے تھے۔ تاہم سب کے جمع ہونے اور اجلاس کی باقاعدہ کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ آج بہت ہنگامہ ہونے والا ہے۔
کنؤیں کی منڈیر پر جمع مینڈکوں کے ایک گروہ نے کنؤیں کی تہہ میں ڈیرہ ڈالے دوسرے گروہ کو زہر آلود نظروں سے گھورتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ سارا فساد ان کی کوتاہ نظری اور احمقانہ جلد بازی کی وجہ سے برپا ہؤا ہے۔ اس طعن پر بھلا تہہ میں براجمان گروہ کیوں کر خاموش رہتا۔ ان کی طرف سے بھی جوابی حملوں کا آغاز ہو گیا ۔ یوں ٹرٹر کا ایسا طوفان برپا ہؤا کہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا کہ کون کیا کہہ رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔
آخر ایک بوڑھے مینڈک نے چند قدرے جواں سال مینڈکوں کی مدد سے آرڈر آرڈر کا اعلان کروایا اور دست و گریباں مینڈکوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔
اس اعلان کے بعد بزرگ مینڈک نے اپنی ساری توانائئی جمع کر کے بات کا آغاز کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ ہماری زندگی کا نہایت نازک موڑ ہے۔ اگر ہم نے اس موقع پر متحد ہو کر مسائل کا سامنا نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ ایک طرف سے آواز آئی یہ سارا ہنگامہ ان مینڈکوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے گندی نالیوں میں پرورش پائی ہے۔ ان بدبختوں نے ہمارا سکون تباہ کر دیا ہے۔
یہ آواز بلند کرنے کی دیر تھی کہ ایک بار پھر یہ سبھا مچھلی بازار کی شکل اختیار کر گئی۔
ڈائس پر کھڑا بوڑھا مینڈک اور آج کی سبھا منعقد کروانے والے چند دوسرے مینڈک بے بسی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
شور تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔
بوڑھے مینڈک یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ اب مینڈکوں کے گروہ صرف شور ہی نہیں مچا رہے تھے بلکہ وہ ایک دوسرے پر حملہ آور بھی ہو رہے تھے۔ اس ہنگامے میں کئی بے ضرر مینڈک زخمی ہو چکے تھے اور ہٹو بچاﺅ کی صداﺅں پر کوئی کان دھرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔
اسٹیج پر کھڑے بوڑھے مینڈک نے آنکھوں میں آنسو بھر کے اپنی تین نسلوں کو دست و گریباں دیکھا اور بڑبڑایا:
” یوں لگتا ہے کہ اب ہم نہیں بچیں گے۔ اب تو ہمارے بچوں نے انسان کے طور طریقے سیکھ لئے ہیں“۔
(تحریر: سید مجاہد علی)