مدد
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 29 / اپریل / 2015
- 7102
میرے گھر کی دیوار گر گئی
میں نے ہمسائے سے کہا کہ یہ تمہاری غلطیوں کی وجہ سے ہؤا ہے
اس نے کندھے اچکا دئیے
اس حرکت پر مجھے بے حد غصہ آیا۔
میں نے کہا کہ ایک تو تمہاری حرکتوں کی وجہ سے میرا نقصان ہؤا اور اس کا احساس کرنے اور تلافی کرنے کی بجائے تم یوں بے اعتناعی کا مظاہرہ کر رہے ہو۔
ہمسایہ میرے اس احتجاج پر بھی ٹس سے مس نہ ہوا۔
میری کج بحثی پر اس نے جو جواب دیا وہ میں اپنی ” عزت نفس “ کی وجہ سے یہاں درج کرنا نہیں چاہتا۔ مگر اس کے نتیجے میں میں نے قریب پڑی اینٹ ہمسائے کے سر پر دے ماری۔ میری اس حرکت کی وجہ سے ہمسایہ چند روز اسپتال میں داخل رہا اور میں چھ ماہ جیل میں بند۔
واپس آیا تو ہمسایہ باچھیں کھولے مجھے گھور رہا تھا۔ دل تو چاہا کہ ایک بار پھر اینٹ سے اس کا سر پھاڑ کر اسے جہنم واصل کر دوں مگر جیل سے بھگتی ہوئی چھ ماہ کی صعوبتوں کی یاد ابھی تازہ تھی۔
میں خون کے گھونٹ پی کر گھر کے اندر چلا گیا۔
اس طرح ہمسائے سے میری دشمنی کا آغاز ہؤا۔
میں جانتا تھا کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔ اس لئے میرے پاس اس بات کا کوئی جواز نہیں تھا کہ میں اپنی حرکت پر شرمندہ ہوں اور ہمسائے سے معافی مانگ لوں ۔ یا صلح کے لئے کوئی کوشش کروں۔
میرا غصہ اور دشمنی بڑھتی رہی لیکن آہستہ آہستہ میرے گھر والے بھی میرے خلاف احتجاج کرنے لگے۔
پہلی بات تو میرے بیٹے نے کہی کہ ایک معمولی سی بات کے لئے آپ کو ہمسائے پر اینٹ سے حملہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
کیا یہ معمولی بات تھی۔ اس نے ہمارے گھر کی دیوار گرا دی
” ابا “ میرے بیٹے نے احتجاج کرتے ہوئے کہا: اس بات کا ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تو کیا یہ دیوار میں نے دیوار گرا دی تھی۔ یا کوئی جنّاتی مخلوق یہاں آ کر اسے مسمار کر گئی۔
میرے چلانے کا یہ اثر ہؤا کہ میرے بیٹے نے مجھ سے بات کرنا بند کر دی۔
بیٹا ناراض ہؤا تو بیٹیوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ سب کہتے تھے کہ میری احمقانہ سخت گیری ہر کسی کو ناراض کر دیتی ہے۔ اس ” زبان خلق “ کو عذر بنا کر میری بیوی نے تو برس ہا برس پہلے ہی مجھے بتا دیا تھا کہ میں اسے مخاطب کرنے کی زحمت نہ کروں۔
” تمہاری بات میں زہر بھرا ہوتا ہے۔ تم نہ کسی کی عزت کرتے ہو اور نہ خود اپنی عزت کروا سکتے ہو۔ کون کتنا عرصہ یہ عذاب بھگت سکتا ہے۔“ یہ آخری الفاظ تھے جو میری اہلیہ نے میرے بارے میں کہے۔ اس کے بعد اس نے ایسا چپ کا روزہ رکھا کہ بچوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے بھی اس کی آواز میرے کانوں تک شاید و باید ہی پہنچتی تھی۔
بس وہ گھر سنبھالتی۔ میری ضرورتوں کا خیال رکھتی۔ بچوں کی تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتی مگر گھر میں ایک سناٹا چھا گیا۔
اس انقلابی تبدیلی کا میری زندگی پر کوئی خاص اثر مرتب نہ ہؤا۔ میں نے اس بے رخی کو بلا وجہ ضد اور عورت کی کم عقلی قرار دیا۔ اور معمول کے مطابق دفتر جاتا۔ واپس آ کر بڑبڑاتا اور جھک مارنے کی کوشش کرتا۔ لیکن بیوی کی طرف سے جواب نہ پا کر کھسیانا ہو جاتا۔
وہ نیک بخت میری چائے ، کھانا معمول کے مطابق میز پر رکھ دیتی۔ بس کھانے کے لئے اصرار نہ کرتی۔
ایسے میں عام طور سے بچے اسکول کے کام یا ٹیوشن وغیرہ میں مصروف ہوتے اور مجھے قیاس بھی نہ ہوتا کہ زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔
البتہ ویک اینڈ پر میرے چہرے کی رونق دیدنی ہوتی تھی۔ نصف دن گزرنے کے بعد ہی سہی جب بچے اٹھ کر گھر میں گھومنا پھرنا شروع کرتے تو مجھے بھی غرانے ، ڈانٹنے اور بات بے بات جھڑکنے کا موقع ہاتھ آ جاتا۔
جب بیوی سے بول چال بند نہ ہوئی تھی ، تو وہ ہمیشہ میرے اور بچوں کے بیچ آ جاتی۔ اب یہ سلسلہ بند ہؤا تو بچوں کے بقول ان کا گھر میں رہنا دوبھر ہو گیا تھا۔
مجھے یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آئی مگر اس مسئلہ کا حل یوں برآمد ہؤا کہ جب میں بیدار ہوتا یا دفتر سے چھٹی پر ہوتا، بچے کسی نہ کسی بہانے گھر میں نہ رہتے۔
اس ان کہی تبدیلی کا بھی میرے معمولات اور طرز عمل پر کوئی اثر مرتب نہ ہؤا۔ میں سارا کرودھ دفتر میں ماتحتوں یا آنے جانے والے لوگوں پر اتارتا۔ اس کے نتیجے میں ایک آدھ بار ہاتھا پائی تک بھی نوبت پہنچی۔ بالآخر افسر اعلیٰ نے مجھے وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ لینے کا مشورہ دیا اور اس بارے میں متعلقہ محکمہ کو خط بھی لکھ دیا۔
یہ انہی دنوں کا قصہ ہے کہ ہمسائے نے ہماری دیوار گرا دی اور میں نے اینٹ سے اس کا سر پھوڑ دیا۔
گھر میں سب نے بولنا بند کر دیا تو پہلی بار مجھے احساس ہؤا کہ میں تنہا ہونے لگا ہوں۔
میں نے اخبار کی باسی خبریں دوبارہ سہ بارہ پڑھ کر وقت کو گزارنے کی کوشش کی مگر یہ ساری خبریں میرے بلڈ پریشر میں اضافہ کا سبب بننے لگیں۔
اس دوران میرے بیٹے نے مقابلے کے ایک امتحان میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ ملازمت شروع کر دی۔ ایک روز خاموشی سے میری بیوی بچیوں سمیت اپنے اور میرے بیٹے کے گھر میں منتقل ہو گئی۔
نہ کسی نے مجھ سے پوچھا اور نہ میں نے کسی کو روکا۔ اب میں اس کھنڈر مکان میں تنہا بیٹھا ہوں۔
وہ دیوار جو میرے خیال میں ہمسائے نے گرائی تھی اور درحقیقت تیز بارشوں کی وجہ سے ڈھے گئی تھی ........ بدستور اسی طرح گری ہوئی ہے۔
میرا دل چاہتا ہے کہ میں ہمسایہ سے جا کر کہوں کہ تم نے یہ دیوار تو نہیں گرائی تھی مگر کیا تم میرے گھر کی باقی دیواریں گرانے میں میری مدد کر سکتے ہو۔
دیواریں گریں گی تو کھلا آسمان تو نظر آئے گا۔ پرندوں کی آواز تو سنائی دے گی۔
گھر کی اونچی پکی دیواروں میں بے بس بیٹھے میرا دل گھٹتا ہے۔
مگر ہمسایہ میری مدد کیوں کرے گا۔
جو مدد میں خود کو ساری زندگی بہم نہ پہنچا سکا۔ وہ دوسرے مجھے کیوں فراہم کریں گے۔