تیرہ مئی 2015
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 18 / مئ / 2015
- 6293
یہ تیرہ مئی ہے
صبح عام دنوں کی طرح چمکدار اور گرم ہے
کراچی کے الاظہر گارڈن سے گلابی رنگ کی ایک بس 60 مسافروں کو لے کر شہر کی طرف روانہ ہوئی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس بس کو تھوڑی ہی دیر میں انہی مسافروں کے خون سے لال ہو جانا ہے۔
یہ تیرہ مئی ہے
وہ چھ کے چھ مختلف پناہ گاہوں سے نکل کر صفورا چورنگی کے نواح میں اپنے سہولت کار کے ہاں پہنچے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد انہیں معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنی ہے۔ وہ اپنے ہتھیار ٹیسٹ کرتے ہیں۔ ان کے چہروں پر کوئی پریشانی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ وہ نوجوان ہیں اور بے فکرے ہیں۔
اب روانگی کا وقت ہے۔ سہولت کار ان سب کو اکٹھا کر کے آخری ہدایات دیتا ہے:
یہ اہم مشن ہے۔ اگر تم کامیاب لوٹے تو تمہارے نامہ اعمال میں یہ اعزاز درج ہو گا کہ تم نے بدعقیدہ اور گمراہ لوگوں کا صفایا کرنے میں اللہ کے پیغام پر لبیک کہا تھا۔
اگر تم مارے گئے تو تم شہید ہو گئے۔ وہ ساری نعمتیں تمہارا مقدر ہوں گی جو شہیدوں کے لئے مخصوص کر دی گئیں۔ تم ہی نہیں تمہارے ماں باپ بھی تمہارے اس جہادی کارنامے کی وجہ سے اللہ کے فضل و کرم سے فیضیاب ہوں گے۔ اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو۔ اللہ اکبر ........ اللہ اکبر
وہ سب تین موٹر سائیکلوں پر سوار صفورا چورنگی پہنچے۔ ان کے سراغ رسانوں نے بس کے وہاں پہنچنے کا وقت اور درست روٹ پہلے سے بتا دیا تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو رہا تھا مگر صفورا چوک ویران اور حملہ آوروں کے دل کرخت اور چہرے ستے ہوئے تھے۔
تھوڑی دیر میں اسماعیلی مسافروں کو لے کر گلابی رنگ کی بس وہاں پہنچی۔ پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے بس کو روکا۔ بس کے رکتے ہی چار نوجوان پستولوں اور کلاشنکوف سے لیس اگلے اور پچھلے دروازے سے بس میں داخل ہوئے۔ دو لڑکے موٹر سائیکلوں پر مستعد موجود تھے۔
چاروں نے بس میں سوار ہوتے ہی بس ڈرائیور کو گولی مار دی اور مسافروں کو سر جھکانے کا حکم دیا۔ پھر اپنے امیر کے حکم پر انہوں نے خوف سے سہمے مردوں اور عورتوں کو ایک ایک کر کے گولیاں مارنا شروع کر دیں۔
اس کارروائی میں دو منٹ سے بھی کم وقت صرف ہؤا۔ یہ یقین کر لینے کے بعد کہ سب مسافر مار دئیے گئے ہیں ، وہ چاروں تیزی سے نیچے اترے اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر روانہ ہو گئے۔
جانے سے پہلے وہ ایک پمفلٹ کی کچھ کاپیاں وہاں چھوڑنا نہیں بھولے جن میں دولت اسلامیہ کی پاکستان آمد اور رافضیوں کی ہلاکت کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔
یہ تیرہ مئی ہے
مردہ لہولہان مسافروں میں سے ایک جو گولی لگنے کے باوجود ہلاک نہیں ہؤا تھا، ہمت کرتا ہے۔ ارگرد لہو میں لتھڑی بے جان لاشیں ہیں۔ انسانوں ، بہنوں اور بھائیوں کی لاشیں۔ اسے چند دوسرے لوگوں کی آہیں سنائی دیتی ہیں۔
اس شخص نے سوچا کہ جو بچ گئے ہیں وہ بھی مر جائیں گے۔
وہ نہیں جانتا کہ کون ان کی مدد کر سکتا ہے۔
بصد مشکل وہ ڈرائیونگ سیٹ تک پہنچتا ہے۔ مردہ ڈرائیور کو ایک طرف کر کے وہ اللہ کا نام لے کر بس اسٹارٹ کرتا ہے۔ اس کا رخ میمن اسپتال کی طرف ہے۔
مردہ انسانوں سے بھری بس اسپتال کے احاطے میں داخل ہوئی تو کہرام مچ گیا۔ ڈاکٹر نرسیں اور دوسرا عملہ بھاگم بھاگ مرے ہوﺅں میں زخمیوں کو تلاش کرنے لگے۔
خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی
سوئے ہوئے افسر بیدار ہو گئے
سری لنکا جاتے ہوئے آرمی چیف کراچی پہنچ گئے
وزیراعظم معاشی راہداری پر آل پارٹیز کانفرنس کو سمیٹ کر کراچی جانے کی تیاریاں کرنے لگے
جیو کے رپورٹر نے اسپتال سے بتایا:
” میں یہاں پہنچا تب بھی بس سے انسانوں کا خون رس رس کر زمین کو لال کر رہا تھا۔ میں نے اسپتال سے جائے وقوعہ تک جا کر دیکھا۔ جس راستے سے بس جائے سانحہ سے اسپتال پہنچی تھی ........ اس پورے راستے پر انسانوں کے خون کی لکیر تھی۔ یہ ایک ناقابل بیان منظر ہے“
پولیس افسر بتا رہا تھا:
” دہشت گردوں نے پستول اور کلاشنکوف سے بس میں سوار 55 افراد کو قریب جا کر گولیاں ماری ہیں۔ ان میں سے کسی کا بچ جانا معجزے سے کم نہیں ہے۔ حملہ آور نہایت سفاک تھے“۔
گورنر ہاﺅس میں اعلیٰ سطحی اجلاس شروع ہؤا۔
پھر دوسرا اور تیسرا اور شاید چوتھا۔
دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے
ان حملہ آوروں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے
کراچی کے گلی کوچوں میں مجرموں کی تلاش شروع ہوئی، 200 کے قریب دھر لئے گئے۔ کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو ان چھ میں شامل تھا۔ کون جانے۔ “ اللہ کے یہ سپاہی “ صرف پیچھے سے وار کرتے ہیں۔ سامنے آتے ہی مکر جاتے ہیں۔
کل تک ایک وزیر کے قتل کا فتویٰ دینے والا ملّا بھی ٹیلی ویژن کیمرہ کو دیکھے ہوئے بول رہا تھا: ” ہم اس حملہ کی مذمت کرتے ہیں“۔
سب نے کہا ہم اس حملہ کی مذمت کرتے ہیں۔ پرامن اقلیت پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔
ہم مذمت کے علاوہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ناقابل برداشت کو سہنے کے ہم عادی ہو چکے ہیں۔
مگر اب ان کو نہیں چھوڑیں گے۔
یہ 14 مئی ہے
وزارت خارجہ کا اعلیٰ افسر بتاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ” را “ کا ہاتھ ہے۔
یہ 15 مئی ہے
وزیراعظم کہتے ہیں :
” اندرون اور بیرون ملک بہت سے عناصر کو پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چین اقتصادی راہداری کی تعمیر کے لئے جو کثیر سرمایہ کاری کر رہا ہے ، دشمن اس کا راستہ روکنے کے لئے بے چین ہے “۔
یہ 16 مئی ہے
وزیر دفاع بتاتے ہیں:
” دہشتگردوں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ” را “ نے باہمی سمجھوتہ کر لیا ہے۔ یہ دونوں مل کر پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں “۔
یہ 17 مئی ہے
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے:
” صفورا چورنگی کا سانحہ بھارت کی کارستانی ہے۔ ہماری ایجنسیوں کو ” را “ کے ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں “۔
یہ 17 مئی ہے
ملک کے وزیر داخلہ کو کراچی سانحہ کی اطلاع مل چکی ہے۔ وہ بنفس نفیس کراچی پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ متعلقہ حکام کو مستعد کریں گے۔ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔
یہ سترہ مئی ہے
دو سو علمائے دین کا اجلاس لاہور میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ سارے عالم متفق ہیں کہ:
O خود کش حملے غیر اسلامی اور حرام ہیں
O دولت اسلامیہ ، طالبان ، القاعدہ ، بوکو حرام اور اسی نوعیت کے دیگر جہادی گروہوں کا فلسفہ گمراہ کن ہے
O ان گروہوں کا طرز عمل غیر اسلامی ہے اور لاعلمی و جہالت پر مبنی ہے
O ان گروہوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ جہاد کا اعلان کرنے سے پہلے بعض شرائط کا پورا کرنا لازمی ہے
O فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل فساد کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اسلام میں فرقہ کی بنیاد پر قتل کی اجازت نہیں ہے
O اسلامی حکومت کا فرض ہے ایسے باغیوں کا قلع قمع کرے
O پولیو مہم کی مخالفت کرنے والے بھی گمراہ ہیں۔ خاتون ہیلتھ ورکرز کو مارنے والے بدترین مجرم ہیں
O غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر حملے کرنے والے گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ غیر مسلموں کی حفاظت اسلامی مملکت کا فرض ہے
O بائیس مئی کو ملک کی 4 لاکھ مساجد میں یوم امن و محبت منایا جائے گا۔
اس دوران صفورا چورنگی سے میمن اسپتال تک انسانی خون سے کھینچی گئی لکیر شاید مدھم ہو چکی ہو گی۔ لیکن ناحق مارے جانے والے معصوموں کی پکار اس ملک کے وزیروں ، فوجی قائدین اور عالمان دین کا پیچھا کرتی رہے گی۔
اس صدا کو سننے کے لئے البتہ ضمیر زندہ اور احساسِ ذمہ داری برقرار ہونا چاہئے۔
آج 18 مئی ہے
وزیر داخلہ نے کراچی کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ دہشتگردوں کو گرفتار کرنا ٹوئنٹی 20 کا میچ نہیں ہے۔ اس کے لئے صبر کی ضرورت ہے۔
وہ سارے گھر جنہوں نے اپنے لاشے زمین اور اللہ کے سپرد کئے ہیں ........ صبر ہی کر رہے ہیں۔
کیا انہیں صبر آ جائے گا!