پیارے بلاول کیا تم جانتے ہو!

بلاول بھٹو زرداری یوں تو ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے سربراہ ہیں لیکن انہیں پارٹی کے معاملات سے عملی طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے۔

ان کے والد بزرگوار آصف علی زرداری اس وقت پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا ہیں۔ وہ بینظیر بھٹو سے شادی کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور سیاست میں داخل ہوئے مگر بینظیر نے اپنی زندگی میں انہیں سیاست سے عملی طور پر بے دخل کر دیا تھا۔ صحافیوں میں یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی شہید لیڈر اپنے شوہر کو سیاست سے دور رکھنا چاہتی تھیں۔ یہاں تک کہ بینظیر نے آصف زرداری کے صحافیوں سے رابطہ کرنے اور سیاسی معاملات پر بات کرنے پر بھی پابندی لگائی ہوئی تھی۔

 
2007 میں بینظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں تو ان کے شوہر نیویارک میں تھے۔ جن امیدواروں کو 2008 کا انتخاب لڑنے کے لئے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا، ان میں آصف علی زرداری کا نام شامل نہیں تھا۔
 
بینظیر نے چھوٹی عمر سے ہی وادئ سیاست میں قدم رکھ دیا تھا۔ ان کی تربیت ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی لیکن سابق فوجی آمر کے ہاتھوں بھٹو کی بے وقت پھانسی کے بعد بینظیر کو باپ کی جدائی کے غم کے علاوہ بکھری اور انتشار کا شکار پارٹی کی تنظیم نو کا بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔
 
1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے وقت بینظیر کی عمر اتنی ہی تھی جتنی کہ اس وقت بلاول بھٹو زرداری کی ہے۔ بینظیر کو بھی یہ طے کرنا تھا کہ وہ اپنی ماں نصرت بھٹو کو پارٹی کے معاملات سے بے دخل کر کے اسے آگے لے کر چلیں یا ماں کی محبت میں اس پارٹی کو قربان کر دیں جس کے لئے ان کے والد نے آمر کے ہاتھوں موت کو قبول کر لیا تھا۔
 
یہ فیصلہ شاید آسان نہیں تھا لیکن بینظیر بھٹو نے پارٹی اور ملک کے مفاد میں درست فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی ماں سے ہی نہیں پارٹی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنے والے انکلز سے بھی نجات حاصل کی۔ ان کا یہ اقدام کوئی انوکھا فیصلہ نہیں تھا۔ وہ پارٹی پر کنٹرول کی اس کشمکش میں مخالف گروہوں کے ہاتھوں شکست بھی کھا سکتی تھیں۔ لیکن وہ کامیاب رہیں۔ سیاست کی خاردار وادیوں میں ہمیشہ سے یہی ہوتا آیا ہے۔ آگے بڑھنے کے لئے بعض اوقات حوصلہ مندانہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ سیاسی فیصلوں میں رشتوں کا لحاظ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
 
مگر چشم فلک نے یہ بھی دیکھنا تھا کہ جس بینظیر نے ستائیس اٹھائیس برس کی عمر میں پارٹی کے معاملات کو مکمل طور سے اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے قدم بڑھا دیا تھا ........ انہی کا بیٹا اسی عمر میں اپنے ہی باپ کے ہاتھوں اس قدر مایوس اور مجبور ہو چکا ہے کہ اس نے پارٹی اور سیاسی معاملات سے قطع تعلق کر لیا ہے۔
 
بینظیر بھٹو نے 35 برس کی عمر میں پہلی بار ملک کی وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا تھا مگر ان کے نامزد کردہ جانشین بیٹے کو آصف زرداری ، فریال تالپور اور ان کے حواری 27 برس کی عمر کو پہنچنے کے باوجود بھی بچہ ، نا سمجھ اور کم عقل قرار دیتے ہیں۔ جسے ان کے بقول مزید سیاسی تربیت اور اونچ نیچ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
 
سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میں ہر کھلاڑی اپنی بساط خود بچھاتا ہے اور اس پر اپنی ہی ایجاد کردہ چال چلتا ہے۔ وہ یہ ڈھنگ دوسروں سے سیکھ نہیں سکتا۔ اسے یہ گُر خود ایجاد کرنا ہوتے ہیں اور دوسروں کو ان کے مطابق چلانا پڑتا ہے۔
 
سیاست میں قطع تعلقی ، ناراضگی اور منہ بسور لینے کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کھیل سے حاصل ہونے والی طاقت اور اس کی چاہت کا ہی نتیجہ ہے کہ آصف زرداری اپنے ہی بیٹے کو مسترد کرنے یا زیر نگیں رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
 
آج کل دبئی میں زرداری اپنی بہن اور بیٹیوں کے ساتھ ایک بار پھر بلاول سے معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ موروثی سیاست میں بھٹو کے نام کا سکہ چلتا ہے ........ نام نہاد سیاسی داﺅ پیچ کی باری بعد میں آتی ہے۔ جب تک بختاور یا آصفہ اپنی ماں اور نانا کے نام پر پرچم لے کر آگے بڑھنے اور قیادت کرنے کے قابل نہیں ہوتیں ، زرداری کی سیاست بلاول کی محتاج رہے گی۔ اسی لئے 2007 میں بینظیر کے قتل کے بعد ان کے نام کے ساتھ بھٹو جوڑ دیا گیا تھا۔
 
بھٹو کا نام ایک ایسی ” گیدڑ سنگھی “ ہے کہ جس کے بغیر پیپلز پارٹی کی سیاست چاروں شانے چت آ رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد  الطاف حسین غصے میں بلاول کو بلاول بھٹو زرداری کی بجائے بلاول زرداری پکارتے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کے سیاسی حریف اکثر یہ طعنہ دیتے رہتے ہیں کہ بلاول بھٹو کیسے ہو گیا۔ اسے زرداری کہلانا چاہئے۔
 
مگر سیاست میں طعن و تشنیع کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ اصل اہمیت عمل اور حوصلے کی ہے۔
 
بلاول اگر تم حوصلہ نہیں کرو گے
 
نئی نسل کے نمائندے بن کر اس علم کو نہیں تھامو گے جو تمہاری ماں اور نانا نے عام آدمی کے حقوق کے لئے بلند کیا تھا تو سیاست کے اس بازار میں تمہارا نام تو بیچا جاتا رہے گا لیکن تمہاری پہچان کبھی نہ بن سکے گی۔
 
پیارے بلاول کیا تم نہیں جانتے کہ سیاست میں تمہیں اپنا راستہ خود تراشنا ہو گا۔ یہ راستہ تمہیں اپنے باپ سے دور لے جا سکتا ہے۔ لیکن اس راہگزر پر یہ قیمت تو بہرصورت ادا کرنا پڑتی ہے۔
 
وگرنہ آصف زرداری تمہاری قربانی دے کر اپنا راستہ ہموار کرتے رہیں گے۔ اور جیالوں کی نئی نسل مایوسی سے تمہارا انتظار کرتی رہے گی۔