اردو کا جنازہ

پاکستان کے ایک انگریزی روزنامے نے خبر دی ہے کہ حکومت نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ ہر طرح کی خط و کتابت اور مواصلت اردو میں ہونی چاہئے اور اس سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔

خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کابینہ نے مئی میں کیا تھا اور اب اس پر عملدرآمد کے لئے احکامات بھی جاری کر دئیے گئے ہیں۔ اب ملک کی حکومت یہ بات یقینی بنانا چاہتی ہے کہ آئین کی شق 251 کے تحت پندرہ برس کے دوران قومی زبان کو ملک میں نافذ کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا، اب اس پر عمل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
 
خیر سے پاکستان کا آئین بنے بیالیس برس بیت چکے ، اس لئے اگر حکومت کو پندرہ برس والی بات اس سے تین گنا مدت گزرنے کے بعد سمجھ میں آئی ہے تو بھی اس میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے۔ کم فہموں کے لئے یہ تفصیل بتائی جا سکتی ہے کہ حکومت کے معاملات میں بار بار فوجی مداخلت کی وجہ سے درحقیقت جمہوری حکومت کی مدت آئین منظور ہونے کے بعد سے ابتک شاید پندرہ برس سے ایک آدھ سال کم ہی رہی ہو گی۔ یوں اس ملک کے جمہوری سیاستدانوں کی حب الوطنی اور آئین پرستی پر انگلی اٹھانے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔
 
خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ بات خبر کی ہو رہی تھی۔ اور صاحب خبر بھی کیا ایک ایسی خوشخبری ہے جس پر شادیانے بجانے اور جھومنے ناچنے کو جی چاہتا ہے۔ لیکن ہوشیار خبردار، تھرکنے سے پہلے یہ یقین کر لیجئے کہ آئین کی کسی شق یا کسی ترمیم کے ذریعے کیا اس عمل کی اجازت ہے یا اسے ایک مکروہ فعل بتا کر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
 
بات پھر پھسل گئی۔ شاید ہم خوشی میں دیوانے ہو رہے ہیں۔ دراصل ہم نے جب معاملات کا شعور حاصل کرنا شروع کیا تو ملک کے ممتاز شاعر رئیس امروہوی نے اپنی معرکتہ الآرا نظم ” اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے“ لکھ کر یہ اعلان کر رکھا تھا کہ اب اس ملک میں اردو کو دفن کیا جا رہا ہے لیکن اس کے لئے مناسب انتظامات نہیں کئے گئے۔ اس کھینچا تانی میں دس بارہ لوگوں کے جنازے تو ضرور اٹھ گئے البتہ یہ طے نہ ہو سکا کہ کیا اردو کا جنازہ اٹھانے کے لئے وہ لوازمات فراہم ہو گئے ہیں جو رئیس امروہوی نے اردو کو دفن کرنے کے لئے لازم قرار دئیے تھے۔
 
آثار تو یہ ہی بتاتے ہیں کہ اس ملک کی حکومت اور عوام مجموعی طور پر ایک مجبور و مظلوم شاعر کی اس خواہش کو پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسی لئے اردو کا جنازہ تو نہ اٹھ سکا مگر ہم گلی کوچوں سے لے کر ٹیلی ویژن کے اسٹوڈیوز تک میں اردو کی درگت بنا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ رئیس کی بات مان ہی لی جاتی۔
 
مگر اب حکومت نے طے کر لیا ہے کہ وہ قومی زبان کی بے حرمتی اور بے قدری برداشت نہیں کرے گی۔ اس لئے ایک خصوصی سرکلر کے ذریعے ان تمام اقدامات کو نافذ کرنے کا حکم صادر کیا گیا ہے جو اردو کو اس کا آئینی مقام عطا کرنے کے لئے ضروری ہیں۔
 
اس حوالے سے کئی مسخرے یہ نکتہ بھی اٹھا سکتے ہیں کہ اس عفیفہ یعنی اردو کو قومی زبان کیوں کر اور کیسے قرار دیا گیا۔ آئین کی ضرورتیں اپنی جگہ مگر کیا زبانیں بھی سزاﺅں کی طرح ہوتی ہیں کہ ایک قانون کے ذریعے نافذ کر دی جائیں۔
 
لیجئے ایک بار پھر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ مقامِ مسرت تو یہ ہے کہ آئین کی شق 251 کے بعد اب وفاقی حکومت کا ایک سرکلر جاری ہو چکا ہے۔ اس میں طے کر لیا گیا ہے کہ اردو کو نافذ العمل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور فوری طور پر سے متعلقہ حکام کے ذریعے وزیراعظم کو مطلع کیا جائے تا کہ وہ چین کی نیند سو سکیں۔ یہ کیسا ملک ہے کہ ایک ذرا سے معاملے کے لئے وزیراعظم کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں مگر اب یہ سب برداشت نہیں ہو گا۔
 
اس لئے سرکاری سرکلر نے نہ صرف یہ کہ اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اردو کی بطور قومی زبان شان و شوکت بحال کرنے کے لئے کون کون سا کام کرنا ضروری ہو گا۔ ان ہدایات کو پڑھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ حکومت اس معاملہ میں کتنی سنجیدہ ہے اور اس بار قومی زبان کے نفاذ کے حکم پر عملدرآمد میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں ہو گی۔ ابھی یہ تو معلوم نہیں کہ اس کے باوجود ملک کی کٹھور بیورو کریسی اور ڈھیٹ سیاسی لیڈروں نے کوتاہی کا ارتکاب کیا تو بیچاری حکومت کیا کرے گی؟ شاید صبر کرے گی!
 
تو لیجئے آپ پہلے ان اقدامات کو تو جان لیجئے جو قومی زبان کا وقار بحال کرنے کے لئے فوری طور پر ہونے والے ہیں:
 
O۔ تمام محکموں سے کہہ دیا گیا ہے کہ کابینہ میں پیش ہونے والے تمام معاملات اردو میں تحریر ہوں گے۔ تمام دستاویزات بھی اردو میں ہوں گی (سرکاری افسر اس پر یہ کہہ کر ٹھٹھہ اڑا سکتے ہیں کہ انگریزی خود کو نہیں آتی، مشکل ہمیں ڈال رہے ہیں)
 
O۔ تمام سرکاری افسروں کو فائلوں پر اپنی رائے انگریزی کی بجائے اردو میں لکھنا ہو گی۔
 
O۔ تمام وزیر محکمانہ خط و کتابت کے لئے اردو کو ذریعہ اظہار بنائیں گے۔
 
O۔ تمام سرکاری پالیسی پیپر اردو میں ترجمہ کئے جائیں گے۔
 
اس کے علاوہ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ گریڈ ایک سے 16 تک بھرتی ہونے والے تمام ملازمین کے سارے ٹیسٹ اردو یعنی قومی زبان میں لئے جائیں گے۔ البتہ اس حکم نامہ میں یہ احتیاط برتی گئی ہے کہ اصل حکمران یعنی گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی بھرتیوں اور مقابلے کے امتحانوں کے لئے بدستور انگریزی کا استعمال ضروری ہوگا اور اس کی اجازت ہو گی۔
 
حکومت نے یہ حکم جاری کرتے ہوئے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ اس پر لازماً اور فوراً عمل شروع ہو جائے۔ اس لئے سیکرٹری اطلاعات کی قیادت میں ایک ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے جو ان احکامات پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گی۔ بس یہ انتظار ہے کہ سیکرٹری اطلاعات خود اردو پر دسترس حاصل کر لیں۔ پھر وہ ایک ایسا ورکنگ گروپ تشکیل دیں گے جو ایسے افسروں کو تلاش کرے گا جو اردو جانتا ہو۔
 
یہ بھاری پتھر چومنے کی نوبت آنے تک اس ملک کے عوام جمع خاطر رکھیں کہ امورِ سرکار چلانے والے اصل حکمرانوں یعنی افسران نے واضح کر دیا ہے کہ سرکاری کارروائی اردو میں پیش کرنے کے لئے ایسی لغت ہی موجود نہیں ہے جس میں انگریزی الفاظ کے تمام ضروری مترادفات موجود ہوں۔
 
کابینہ اردو نافذ کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے یہ اعتراف بھی کر چکی ہے کہ 1979 میں قومی زبان کے فروغ کے لئے جو اتھارٹی قائم کی گئی تھی، وہ عملی طور سے بے اثر ہو چکی ہے۔
 
پڑھنے والوں کی تشفی کے لئے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بہ امر مجبوری انگریزی میں لکھے گئے آئین کی شق کو نافذ کرنے کے بارے میں سرکاری حکم نامہ کی خبر بھی بس ایک انگریزی اخبار نے چھاپی ہے۔ اردو والے جانتے ہیں کہ اس کا جنازہ نکالنے کے لئے وہ کابینہ کے احکامات کے محتاج نہیں ہیں۔